Advertisement

آزاد کشمیر کو مقبوضہ نہ بنائیں

آزاد کشمیر کا محاذ پھر گرم ہے،ملک سے باہر بیٹھے دانشور اور ملک کے اندر اسٹیبلشمنٹ سے نبرد آزما لوگ اور ان کے پیروکار ، دونوں ہی توازن سے ہٹے ہوئے ہیں،اور المناک بات یہ ہے کہ قوم حقائق سے واقف نہیں،اس لئیے دونوں کے پروپیگنڈے کارگر ہوتے ہیں ،اس کی بڑی وجہ ہماری اسٹیبلشمنٹ خود ہے ،ہر چیز میں سینگ پھنسائے بیٹھی ہے۔ معروف صحافی شاہین صہبائی ملک سے باہر بیٹھ کر اور کر بھی کیاسکتے ہیں، ایسی ہرچیز کو اچھالنا جو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جاتی ہو، دوسری طرف کشمیر ایکشن کمیٹی پاکستان میں کشمیری مہاجرین کی 12 نشستیں فوری ختم کرنے کا مطالبہ کررہی ہے، ذرا اس کے پیچھےجھانک کر دیکھیں کہ قصہ کیا ہے، معلومات حاصل کریں کہ یہ کیا چیز ہے،اس وضاحت کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ ہماری سرکار دودھ کی دھلی ہوئی ہے۔ وہ اپنے مفاد کی خاطر ،بھارتی ،امریکی ،اسرائیلی کوئی بھی بن سکتی ہے۔
بہت سے لوگوں کی طرح ہمیں بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ کیا معاملہ ہے، یہ 12 نشستیں مقبوضہ جموں کشمیر کے مہاجرین کے لئے ہیں جو پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں ، یعنی یہ بھارت کے زیر قبضہ جموں کشمیر کے عوام کی نمائندگی ہے ،اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جب بھی ریفریڈم ہو گا جموں کشمیر کے عوام کو اپنا مستقبل پاکستان یا بھارت کے ساتھ مستقل وابستہ کرنے کے فیصلے کا حق دیا جائے تو پاکستان میں مقیم یہ کشمیری مہاجر مقبوضہ جموں کشمیر کے ووٹر کے طور پر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے اگر یہ نشستیں ،ختم کر دی جائیں تو پاکستان کا مقبوضہ جموں کشمیر پر کلیم کمزور ہو جائے گا بلکہ ہو سکتا ہے کہ اقوام متحدہ اس حق کو (ووٹ کے )ختم ہی کر دے ،اس لئے یہ ناگزیر آئینی ضرورت ہے صدارتی ریفرنس پر کشمیر کی عدالت نے بھی اس موقف کو درست قرار دیا ہے ہاں ان نشستوں میں کمی بیشی کی جا سکتی ہے وہ کسی احتجاج تشدد سے ممکن نہیں آئین میں ترمیم سے ممکن ہے ۔
پھر جھگڑا کیا ہے ، کیا کشمیریوں کومراعات چاہئیں،سہولتوں میں اضافہ یا کچھ اور ، پاکستان میں ان سہولتوں کا آج کے دور میں تصور بھی ممکن نہیں جو آزاد کشمیر کے عوام کو میسر ہیں اس کی تفصیلات معلوم کریں تو پتا چلے گا کہ اس کے لئے بھی وفاق ہی تمام رقوم فراہم کرتا ہے کشمیر میں ٹیکسز برائے نام ہیں ، اس حوالے سے پاکستانی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ کشمیر میں تو بجلی سستی ہے ،باقی ملک میں کیوں مہنگی ہے ۔اسی طرح ملک کے اندر باہر روزگار کے مواقع بھی کشمیریوں کو پاکستانیوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں ، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرکے ایک شخص پاکستان آیا، پاکستانی کشمیر میں رہا ،اس بنیاد پر پاکستانی شہریت لی ،یہاں سے برطانیہ گیا ،پاکستانی نژاد برطانوی شہری بنا اور اب سعودی عرب کے ایک اشاعتی ادارے کا سربراہ بن گیا،جو کبھی پاکستانیوں کے کنٹرول میں تھا اور پاکستانیوں کے لئیے باعث فخر تھا۔ کشمیر کی خصوصی حثیت ہے کشمیر کے عوام پاکستانیوں کےخصوصی بھائی ہیں اس لئے ان کے لئے یہ قربانی دی جانی چاہئے ، چلئے سیاست کے لئے ایکشن کمیٹی اگر مزید سہولتوں کی طویل ناقابل عمل فہرست پیش کرتی آرہی ہے تو بھی کوئی حرج نہیں لیکن خصوصی مہاجر نشستوں کا خاتمہ کسی اور کا ایجنڈا ہے ، ایکشن کمیٹی وقفے وقفے سے خونریز احتجاج کر کے بھی اس بات کو تقویت پہنچاتی آرہی ہے ،بیرونی قوتیں بھی اپنا کھیل عشروں سے جاری رکھے ہوئے ہیں کشمیر کے مخلص عوام بھی اس کھیل کو سمجھ نہیں پاتے جس طرح گذشتہ روز ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے پردے میں دہشت گردوں نے حملہ کر کے فورس کے چار جوانوں کو شہید کیا ہے اس سے سمجھا جا سکتا ہے یہ کوئی عوامی سیاسی احتجاج نہیں اس کا ایجنڈا کچھ اور ہے تاہم صورت حال کو مذاکرات عوام کو حقائق سے با خبر کر کے سلجھایا جانا چاہئے ،وفاقی حکومت اور آزاد کشمیر کی حکومت کئی بار ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کر چکی ہیں معاملات طے بھی ہوئے ہیں سبسڈی گرانٹ بڑھانے کا مطالبہ فوری عمل کے قابل ہے، لیکن بڑے منصوبے چند ہفتوں یا مہینوں میں کیسے بن سکتے ہیں جب کہ پاکستان خود مالی وسائل کے بحران کا شکار ہے۔ نشستوں کا معاملہ اسمبلی میں لے جا کر طے کرنے نشستیں کم کرنے پر بھی بات کی گئی ہے لیکن اس وقت جب کہ آئندہ ماہ آزاد کشمیر میں انتخابات کا شیڈول جاری ہو چکا ہے ہر قیمت پر نشستوں کے خاتمے کی تحریک چلانا مشکوک معاملہ ہے اسی سے حالات خراب ہوئے ہیں۔
کسی بھی قسم کے پروپیگنڈے پر یقین کرنے یا اسے آگے بڑھانے سے قبل تحقیق ضرور کریں۔
اب جو صورتحال ہے معاملات کو احسن طریقے سے حل کرنے کے بجائے فورس استعمال کرکے سب کو یہ موقع دیدیا گیا کہ وہ آزاد کشمیر کو مقبوضہ کشمیر قرار دینے والوں کی بات پر یقین کرے، کیا ضروری تھا کہ جواب میں اسی طرح فائرنگ اور کرفیو کی صورتحال پیدا کی جائے۔آجکل تو ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے،کیمرے ہیں، ویڈیوز ہیں، نشاندہی کرکے گرفتار کرلیتے۔لیکن سرکار نے طاقت ہی کا استعمال کیا، کیونکہ اس کے پاس اور کچھ نہیں ہے۔
اس مسئلے کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ 12 نشستوں کا غلط استعمال ہوتا ہے ،ان کے ذریعہ کشمیر میں حکومت گرائی اور بنائی جاتی ہے، یہ بالکل درست ہے، لیکن بقیہ نشستوں کے بارے میں کیا خیال ہے ،پاکستان کی اسمبلی اور پارلیمنٹ کی اکثریت بلکہ اب تو تمام ہی نشستیں اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں، جب چاہا جو قانون منظور کرالیا۔جب پارلیمنٹ کے اختیارات سلب کرنے ہوں تو یہی پارلیمنٹ بالاتفاق اسے خود منظور کرتی ہے۔ جب عدلیہ کے ہاتھ پاؤں کاٹنے ہوں تویہی پارلیمنٹ کام آتی یے ،واضح رہے کہ پاکستانی پارلیمنٹ کے پاس کشمیریوں کی 12 نشستیں نہیں ہیں پھر بھی یہ سارے کام ہوجاتے ہیں، کراچی کے مئیر کے الیکشن میں بلدیہ کے 31 کونسلرز میں سے کوئی بھی کشمیر کی سیٹ پر نہیں جیتا تھا۔
لہٰذا صرف کشمیر کی12 نشستیں مسئلہ نہیں پورا الیکشن نظام اور پوری جمہوریت پہلے ہی یرغمال ہے ،اور یرغمال بنانے والوں نے یہاں بھی سینگ پھنسایا ہوا ہے ،اور سینگ پھنسانے کا پہلا نقصان چہرے کو ہوتا ہے، پھر یہ شکوہ تو بنتا نہیں کہ ہمیں اسرائیل یا بھارت سے کیوں ملایا جارہا ہے۔
اس مسئلے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کشمیر ایکشن کمیٹی کے پہلے اور اب کے موقف اور انداز میں تبدیلی ہے۔اب تشدد کا عنصر غالب ہورہا ہے اور افسوسناک بات یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو طاقت کے استعمال کے سوا کچھ آتا بھی نہیں پھر آزاد کشمیر کا منظر مقبوضہ کشمیر جیسا ہی تو بنے گا ۔
ملک سے باہر بیٹھے اسٹیبلشمنٹ مخالف یوٹیوبرز اور بھارتی ٹی وی چینلز کی زبان ایک ہی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چھوٹتے ہی غدار کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے بجائے اسٹیبلشمنٹ اپنا چہرہ بھی دیکھے ہرجگہ سینگ پھنسانے کا نتیجہ تو یہی ہوتا ہے ۔
کشمیری مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کے مطالبے کے بارے میں معلوم کریں کہ یہ کہاں سے آیا،پہلے تو نہیں تھا،اور اب اتنی شدت کیوں ہے جبکہ ال پارٹیز کانفرنس بھی اس مطالبے کو مسترد کرچکی اور آزاد کشمیر سپریم کورٹ میں حکومتی درخواست کی سماعت شروع ہوتے ہی تشدد کیوں شروع ہوا۔
ایک اور بات جس اسپتال پر حملہ کیا گیا اس میں کشمیری ہی مریض اور کشمیری ہی ڈاکٹر تھے، ایک رپورٹ کے مطابق 83 فیصد مریض سویلین اور 17 فیصد سروسز کے ہوتے ہیں، پھر وہاں حملہ کرکے کیا ملا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا کیا جائے۔ اس کا سیدھا جواب تو یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ہر جگہ ٹانگ نہ اڑائے،اور ایک ایک کرکے سارے کام ان کو دے جن کے کام ہیں اور خود اپنا کام کرے۔کم از کم کشمیر کو تو معاف کریں،ایک دفعہ کام الٹا ہوا تو کبھی سیدھا نہیں ہوسکے گا، کم از کم اسٹیبلشمنٹ میں تو یہ صلاحیت نہیں ہے۔

error: