Advertisement

ویگو کلچر سے محفوظ جماعت

ملکی سیاست میں ویگو کلچر ہمیشہ سے عوامی تنقید کا نشانہ رہا ہے ۔ توانائی کے موجودہ بحران کے بعد تو اس کی مخالفت میں کئی گنا زیادہ اضافہ ہوگیا ہے مگر بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہماری اشرافیہ جو عوام کو ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا اضافے کے بعد سادگی اور کفایت شعاری اپنانے کا درس دے رہی ہے وہ اب بھی ویگو کلچر کو چھوڑنے کو تیار نہیں ہے ۔
سرکاری افسران ہوں یا اہم سیاسی شخصیات ان کے شاہانہ ٹھاٹ باٹ پہلے کی طرح جاری ہیں ان میں کسی قسم کی کوئی کمی ہوتی نظر نہیں آرہی ۔ قول و فعل کے تضادات کے اس ماحول میں یہ بہت غنیمت ہی نہیں بلکہ قابل تعریف بات ہے کہ جماعت اسلامی اب تک ویگو کلچر سے محفوظ ہے ۔
جماعت اسلامی کے مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمٰن کی اتوار کی شام راجہ ہاوس آمد کے موقع پر یہ دیکھ کر بڑی حیرانگی ہوئی کہ حافظ نعیم اپنے تین دیگر رفقاء کے ساتھ سفید کلر کی ایک عام سی ٹیوٹا کرولا کار میں پیر پگارا سے ملنے آئے تھے ۔ اس موقع پر ان کے ساتھ ویگو ڈالوں میں نہ تو محافظوں کا کوئی لاو لشکر تھا نہ ہی انہوں نے خود کسی پراڈو یا لینڈ کروزر میں سوار ہونا پسند کیا حالانکہ جماعت اسلامی میں بھی ایسے متمول لوگوں کی شاید کوئی کمی نہیں ہوگی جو اپنے مرکزی امیر کے سفر کے لئے کوئی قیمتی گاڑی کا بندوبست نہ کرسکیں ۔ بہرحال سادگی بہت اچھی چیز ہے اور جو لوگ اس وقت دوسروں کو سادگی کا درس دے رہے ہیں پہلے وہ خود اس پر عمل کرکے دکھائیں تو بہت اچھا پیغام جائے گا ۔
جماعت اسلامی اور پیر صاحب پگارا کی مسلم لیگ فنکشنل اس لحاظ سے ایک ہی سیاسی کشتی کے سوار نظر آتے ہیں کہ دونوں جماعتوں کے دو منتخب نمائندوں نے گزشتہ عام انتخابات کے نتائج پر اپنے سخت تحفظات کے باعث اب تک سندھ اسمبلی کی رکنیت کا حلف نہیں اٹھایا ہے ۔ حلف نہ لینے والوں میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن اور پیر صاحب پگارا کے بڑے صاحبزادے سید راشد شاہ شامل ہیں ۔ جماعت اسلامی کے قائدین اور پیرپگارا کے خاندان کے درمیان سیاسی تعلقات کے علاوہ ذاتی نوعیت کے قریبی روابط بھی برسہا برس پر محیط ہیں جو اس زمانے سے چلے آرہے ہیں جب سیاست میں روادری اور وضعداری کو بہت اہمیت دی جاتی تھی ۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر غفور احمد کا شمار شاہ مردان شاہ پیر صاحب پگارا کے قریبی دوستوں میں ہوتا تھا ۔
جب تک پیر صاحب حیات رہے پروفیسر صاحب ہفتہ پندرہ روز میں پیر پگارا کی رہائش گاہ کنگری ہاوس ضرور آتے اگر کسی سبب ان کی غیر حاضری طویل ہوجاتی تو پیر صاحب خود فون کرکے پروفیسر غفور کی خیریت معلوم کرتے ۔ شاہ مردان شاہ پیر صاحب پگارا کو سندھ میں اردو بولنے والی کمیونٹی کے پڑھے لکھے لوگوں سے ایک خاص انسیت تھی وہ اپنے گھر میں بھی ہمیشہ اپنی فیملی سے اردو میں ہی گفتگو کرتے تھے ۔ وہ مولانا شاہ احمد نورانی کو بڑی محبت اور اپنائیت کے ساتھ اپنا چھوٹا بھائی کہتے تھے اور کبھی کبھار صدر کی مسجد قصابان سے متصل مولانا کی پہلی منزل پر واقع رہائش گاہ پر بھی تشریف لیجاتے ۔ مولانا شاہ احمد نورانی اور پیر پگارا کی قریبی دوستی اور بے تکلفی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ شاہ مردان شاہ جب کبھی ان کے گھر جاتے تو اپنی پسند کے کھانے کی خود فرمائش کرتے ۔
پیر صاحب کہا کرتے تھے کہ میرٹھ اور دلیٌ والوں کے کھانے بہت مشہور ہیں اور کافی مزیدار ہوتے ہیں یو پی سے تعلق کی بنیاد پر مولانا شاہ احمد نورانی اپنے ہاں آنے والوں کو بہت اچھا کھانا کہلاتے تھے ۔ کراچی کے بہت سے سینئر صحافیوں کو بھی مولانا کی مہمان نوازی یاد ہوگی جو رمضان المبارک میں مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم کی دعوت افطار میں ان کی قیام گاہ پر جاتے رہے ہیں ۔ مولانا اپنے مہمانوں کا بڑے پرخلوص طریقے اور تپاک سے فرداً فرداََ استقبال کرتے تھے اور ان کی تواضع بہترین پکوانوں سے کی جاتی ۔ مولانا شاہ احمد نورانی کی طرح شاہ مردان شاہ کے پروفیسر غفور احمد کے ساتھ بھی بہت بے تکلفانہ تعلقات رہے ہیں ۔ ایک روز پروفیسر غفور احمد پیر پگارا سے ملنے کنگری ہاوس آئے ہوئے تھے ، پیر صاحب نے ان سے کہا کہ پروفیسر صاحب میں کسی دن آپ کا خرچہ کرانے آپ کے گھر آوں گا ۔ پروفیسر صاحب نے بڑی خوشدلی سے کہا کہ آپ بس دن بتائیں کہ کب تشریف لارہے ہیں ؟ پیر صاحب نے کہا کہ کل رات ۔ پروفیسر غفور نے پیر صاحب سے دریافت کیا کہ آپ کھانے میں کیا پسند کریں گے جس پر انہوں نے کہا کہ میرے لئے بس آپ اپنے گھر میں پتلی دال بنوالیجئے گا اور ہاں اس بات کا بھی خیال رہے کہ دال کھانے کے بعد میں اسے کپ یا پیالے میں ڈال کر سوپ کے طور پر پیتا بھی ہوں ۔ باقی کھانے میں آپ جو چاہیں اپنی مرضی کے مطابق اہتمام کریں ۔
اس زمانے میں پیر صاحب خود گاڑی ڈرائیو کرتے تھے انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ پروفیسر صاحب اپنے گھر کا جو ایڈریس بتارہے ہیں کیا تم مجھے کل وہاں لے چلو گے ؟ کیونکہ کراچی کے راستوں کا مجھے علم نہیں ہے ۔ مجھے صرف کنگری ہاوس سے ڈیفنس سوسائٹی میں واقع اپنی صاحبزادی کے گھر کا راستہ معلوم ہے جہاں وہ اکثر خود اکیلے گاڑی ڈرائیو کرکے چلے جاتے تھے ۔ پروفیسر غفور احمد کی اس زمانے میں رہائش گاہ عائشہ منزل کے قریب تھی ۔ اگلے روز طے شدہ پروگرام کے مطابق پیر صاحب نے مجھے ڈاکٹر شفیع بوئی خان اور سید مظفر حسین شاہ کو اپنے ساتھ لیا اور وہ کنگری ہاوس سے خود اپنی لینڈ کروزر ڈرائیو کرکے پروفیسر صاحب کے گھر گئے اور وہاں کافی دیر تک رہے ۔ پروفیسر صاحب کے گھر جاتے ہوئے راستے میں پیر صاحب یہ بھی معلوم کرتے رہے کہ یہ کون سا علاقہ ہے جہاں سے ہم گزر رہے ہیں ۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن اتوار کی شام جب اپنے رفقاء کے ساتھ موجودہ پیر پگارا سے ملنے ان کی رہائش گاہ راجہ ہاوس تشریف لائے تو پیر صاحب نے اپنے والد اور پروفیسر صاحب کی دوستی کا بطور خاص ذکر کیا انہوں نے مولانا شاہ احمد نورانی کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ کئی بار میں اپنے مرحوم والد کے ساتھ ان کے گھر گیا ہوں پیر صبغت اللہ کو یہ بھی اچھی طرح یاد تھا کہ مولانا شاہ احمد نورانی کا صدر میں جہاں گھر ہوا کرتا تھا اس کے نیچے فروٹ والوں کی دکانیں بھی تھیں ۔
پیر صاحب اور حافظ نعیم الرحمٰن کے درمیان اتوار کو ہونے والی ملاقات میں سیاست سے زیادہ ماضی کی تعلق داری پر زیادہ گفتگو ہوئی ۔ پیر صاحب پگارا نے حافظ نعیم الرحمٰن کو بتایا کہ میرے والد نے اپنی پوری زندگی میں صرف مولانا شاہ احمد نورانی اور پروفیسر غفور احمد کی دوستی اور احترام کی وجہ سے اپنی جماعت مسلم لیگ فنکشنل کو کراچی میں سیاسی طور پر بہت زیادہ متحرک نہیں ہونے دیا وہ بوستان علی ہوتی سے کہا کرتے تھے کہ تم بیشک گزدرآباد رنچھوڑ لائن سے الیکشن لڑو باقی کراچی میں ہمیں اپنے امیدوار کھڑے کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ کہیں ایسا نہ ہوکہ سیاسی مفادات کے ٹکراو میں پروفیسر غفور اور مولانا نورانی سے ہماری دوستی اور برادرانہ تعلق پر کوئی برا اثر پڑے ۔ اب ایسے وضعدار لوگوں اور ان جیسی سیاست کو کہاں ڈھونڈا جائے۔

error: