Advertisement

کشمیر میں غلطیاں درست کرلیں!

ہم نے تو دونوں کی غلطیوں کی نشاندہی کی تھی۔لیکن ایسا لگتا ہے کہ ایکشن کمیٹی کا تجزیہ کئیے بغیر اس کی ہربات کو درست مان لیا گیا، اب اکا دکا لوگ ہمارے موقف کی تائید میں لکھنے بھی لگے ہیں اور کشمیر کمیٹی کے مطالبات کا تجزیہ کیا جارہا ہے ،خصوصا پانی پر اس کے دعوے کو دیکھیں ،وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو ہم پانی دیتے ہیں ،جبکہ واٹر کورس میں آزاد کشمیر چند کلو میٹر ہے یہ حقیقتاً پاکستان کا پانی ہے، پاکستان سے الگ آزاد کشمیر بنا تو بھارت کا پٹھو بن کر رہ جائے گا، پھر بھارت جب چاہے گا پاکستان کا پانی رکوادے گا۔ اس دعوے کو بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کے اعلان سے ملا کر دیکھیں تو یہ دونوں ایک ہی ہتھیار استعمال کرتے نظر آئیں گے۔
ایکشن کمیٹی کے مطالبات کا تجزیہ کرنے سے قبل اپنی غلطیوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ غلطیاں کہاں ہوئیں۔
1۔ کشمیر پر کھلی سفارتی جنگ روک دی گئی۔
پہلی غلطی یہ ہوئی کہ کشمیر پر پاکستان کی جارحانہ سفارتی جنگ روک دی گئی۔اس سے موقف کمزور ہوا۔
2۔جہاد کشمیر کی پشتیبانی روک دی گئی۔
یہ دوسری بڑی غلطی تھی ،یہاں سےریورس گئیر لگ گیا ،جنرل پرویز مشرف نے تحریک حریت اور تحریک آزادئ کشمیر کو در اندازی تسلیم کیا ،پھر باڑ لگانے پر رضامند ہوئے، پھر مجاہدین ہی کو دہشت گرد قرار دیدیا۔اس کے بعد تو پستی میں گرنے کے لیے کوئی انتہا ہی نہیں تھی گرتے ہی چلے گئے، اب تو جہاد کے لفظ ہی کو گالی بنادیا گیا ہے۔ اسی غلطی کے تسلسل میں ایک اور غلطی ہوئی۔
3۔ مجاہدین کو پہلے روکا گیا پھر دہشت گرد ہی قرار دیدیا۔ان کے کیمپ اکھاڑ پھینکے۔
جن کیمپوں کے ذریعہ مزاحمت ہورہی تھی انہیں بند کردیا گیا، جب مزاحمت نہیں ہوگی تو بھارت سکون میں رہے گا اور مزید شر انگیزی کرے گا ،چنانچہ اس نے کرڈالی۔اور دہشت گردی اور دراندازی کے پروپیگنڈے کا طوفان کھڑا کردیا۔
4۔بھارتی پروپیگنڈے کے جواب میں پھس پھسا بیانیہ بنانا ۔
یہ بھی نہ صرف ایک ناکامی ہے بلکہ الٹے پیروں پھرنے کے مترادف ہے ۔کوئی ٹھوس جواب ہی نہیں دیا گیا۔سرکاری سطح پر سب سے بڑا احمقانہ کام سابق وزیر داخلہ نے کیا۔
5۔ رحمان ملک نے بمبئی حملہ کیس کی پوری ایف آئی آر پاکستان کے خلاف خود بیان کی،اور اس طرح بیان کی کہ گویا تمام دہشت گردوں کی نقل و حرکت حکومت کے علم میں تھی۔ بھارت اسے بھی ثبوت اور اعترافی بیان کے طور پر استعمال کرتارہا۔
6۔ پاکستانی عدالتوں نے کشمیر کی آواز کو دبانے میں حکومت سے تعاون کیا، حافظ سعید پرالزامات تسلیم کرکے گرفتار کروادیا۔
اس سے تحریک حریت کو دھچکا لگا،کیونکہ سرکاری میڈیا ان ہی کی تنظیم کو کشمیر کی آزادی کی تحریک قرار دیتا رہا تھا، اچانک وہ پابند سلاسل ہوئے تحریک کالعدم ہوئی اور پروپیگنڈہ بند کردیا گیا۔
آخری کیل کے طور پر،
7۔ ان کے پیروکاروں کو سیاسی جماعت بناکر دیدی،اور لالی پاپ تھمادیا ، فنڈز کی بھرمار ہے۔کشمیر پر زبانی نعرے رہ گئے۔
آخری وار
8۔ پانچ اگست2019 کو بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی اور وزیر اعظم عمران خان نے بھی پھس پھسا موقف اختیار کیا اور ایک گھنٹہ خاموش کھڑے ہونے کا اعلان کیا ،اگلے جمعہ آدھا گھنٹہ اور پھر مکمل خاموشی !!!!!
اس کے نتیجے میں کیس اور کمزور ہو گیا۔اقوام متحدہ میں ایک تقریر ان کا کل اثاثہ ہے،حالانکہ تقریریں تو ،جنرل ضیاءالحق، بھٹو،بے نظیر اور جنرل مشرف سب ہی کی دل پذیر تھیں۔لیکن عمل میں تو بیشتر نکمے نکلے،
بھارتی اقدام کے فورا بعد پاکستان کو کچھ بڑے اقدامات کرنے تھے ،سفارتی الگ ،سیاسی الگ اور میدان عمل کے الگ۔لیکن،
9۔ پاکستان نے فوج بھیجی،نہ اقوام متحدہ میں طوفان اٹھایا نہ مزاحمتی تحریکوں کو قوت دی، بلکہ الٹا ان کے راستے روکے۔
اب وہی سیلاب راستہ بدل کر آزاد کشمیر اگیا ہے جس کی وجہ سے بھارتی اقوام متحدہ میں منہ چھپاتے پھرتے تھے۔ہم کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا پرچار کرتے تھے،اب آزاد کشمیر میں عوام پر مظالم کا پرچار ہورہا ہے، فرق یہ ہے کہ بھارتی افواج کے مظالم پر صرف پاکستانی آواز اٹھاتے تھے بھارتی ایسے بن جاتے کہ جیسے کشمیر میں سب اچھا ہے، لیکن اب پاکستانی حکومت کے مخالف بھی بھارتی زبان بولتے ہیں اس سے بھارت ہی کو تقویت ملتی ہے اورکشمیریوں میں مایوسی بڑھتی ہے۔
پھر سوال یہ آتا ہے کہ اب کیا کریں ،کیا سب کچھ ہاتھ سے نکل گیا؟ نہیں ابھی نہیں، لیکن اب نہیں تو کبھی نہیں۔
یعنی
10۔ اب بھی وقت ہے تحریک حریت کشمیر کی سرپرستی کریں کشمیر کو قائداعظم نے یونہی شہ رگ نہیں کہا تھا ،اسے حقیقتاً شہ رگ بنائیں اور اس کی خاطر ہرراستہ اختیار کریں۔ اپنے لوگوں سے اپنائیت کا معاملہ کریں، کوئی خفیہ گردی نہ کریں۔ سب کام کھل کر کریں جلد واپسی کا سفر شروع ہوجائے گا۔

error: