انا لله وانا اليه راجعون
ایک عہد تمام ہوا، ایک تاریخ رقم کرنے والی شخصیت ہم سے جدا ہوگئی۔ سپہ سالارِ ختمِ نبوت، حضرت مولانا عبد الرحمن باوا صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
والد ماجد، حضرت مولانا عبد الرحمن باوا ؒکی رحلت صرف ہمارے خاندان کا غم نہیں بلکہ عقیدۂ ختمِ نبوت کے کارکنان، علماء، طلبہ اور عام مسلمانوں کے لیے ایک عظیم سبق ہے۔
چند روز قبل میری پھوپھی صاحبہ نے والد ماجد کی ایک قدیم تصویر مجھے بھیجی۔ تصویر کو دیکھ کر پہلی نظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ کوئی نوجوان تاجر، انجینئر یا پروفیسر ہوگا۔ پینٹ، کوٹ اور ٹائی میں ملبوس ایک عام سا نوجوان، جس کے بارے میں کوئی یہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ آنے والے وقت میں اللہ تعالیٰ اس سے دینِ اسلام اور عقیدۂ ختمِ نبوت کی ایسی خدمت لیں گے کہ وہ لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن جائے گا۔
یہ تصویر صرف ایک تصویر نہیں بلکہ ایک پیغام ہے۔ یہ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دین کسی فرد، خاندان یا ادارے کا محتاج نہیں۔ اللہ تعالیٰ جس سے چاہیں، جب چاہیں اور جس انداز میں چاہیں اپنے دین کا کام لے لیتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر بڑا دینی قائد کسی معروف جامعہ کا فارغ التحصیل ہو۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کو چن لیتے ہیں جن کے بارے میں دنیا سوچ بھی نہیں سکتی، اور پھر انہی کے ذریعے تاریخ رقم ہوتی ہے۔
والد ماجد باقاعدہ کسی بڑے دینی ادارے کے سند یافتہ عالم نہیں تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سے وہ عظیم کام لیا جس کا خواب بھی بہت سے لوگ نہیں دیکھ سکتے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی تحفظِ ختمِ نبوت، دعوتِ دین اور امت کی اصلاح کے لیے وقف کردی۔ سوشل میڈیا کی چکاچوند سے دور، شہرت کے حصول سے بے نیاز، بزرگوں کی صحبت میں رہنے والے ایک سادہ مزاج انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایسا مقام عطا فرمایا کہ ان کی وفات پر ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں آنکھیں اشکبار ہوگئیں یہ راز افشان ہوا لندن کا تاریخی جنازہ اتمام حجت تام کرگیا ۔
اس سے بھی بڑھ کر ایک حقیقت آج کھل کر سامنے آئی کہ والد ماجد رحمہ اللہ کو اللہ نے خاندان سے کہیں زیادہ لاکھوں لوگوں کے دلوں کا منظورِ نظر بنا دیا ۔ ان کی رحلت کے بعد جس طرح علماء، طلبہ، مشائخ، کارکنانِ ختمِ نبوت، سیاسی و سماجی شخصیات اور عام مسلمانوں نے غم کا اظہار کیا، اس نے واضح کردیا کہ وہ صرف ایک گھرانے کے بزرگ نہیں بلکہ ایک پوری تحریک، ایک پوری نسل اور بے شمار دلوں کی امید تھے۔ بعض لوگ اپنے خاندان میں پہچانے جاتے ہیں، لیکن بعض خوش نصیب ایسے ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے دلوں میں جگہ عطا فرما دیتا ہے۔ والد ماجد انہی لوگوں میں سے تھے۔
بعض لوگوں کو اللہ تعالیٰ دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے اپنے خاص راز میں رکھتا ہے۔ ان کی اصل قدر دنیا پر اس وقت کھلتی ہے جب وہ پردہ فرما جاتے ہیں۔ والد ماجد بھی انہی لوگوں میں سے تھے۔ انہوں نے لوگوں کے دلوں پر حکومت کی، محبتیں سمیٹیں اور خاموشی کے ساتھ اپنی زندگی کا مشن پورا کیاتاحال لندن کے مرکز ختمِ نبوت میں وفود در وفود آرہے ہیں۔ خانقاہوں سے وابستہ مشائخ، مدارس کے اساتذہ و طلبہ، سیاسی و سماجی شخصیات اور مختلف طبقات کے افراد تعزیت کے لیے حاضر ہورہے ہیں۔ ہر شخص ان کی اخلاص بھری زندگی، ان کی دینی خدمات اور ان کی بے لوث جدوجہد کا تذکرہ کررہا ہے۔ مجھ جیسے کمزور دل کو تسلی دی جارہی ہے اور والد ماجد کو “مخلصِ ختمِ نبوت” اور “سپہ سالارِ ختمِ نبوت” جیسے القابات سے یاد کیا جارہا ہے۔
میرے بچپن کے ساتھی جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی مولانا عتیق الحسن دامت برکاتہم کی ایک بات میرے دل کا سہارا بنی ہوئی ہے۔
انہوں نے فرمایا:
’بس معاملہ اتنا ہے کہ وہ ہم سے پہلے اپنی حقیقی منزل اور اپنے اصل وطن پہنچ گئے ہیں، اور ہم ابھی سفر میں ہیں۔ پہلے وہ خطوط کے ذریعے، پھر فون کے ذریعے اور آخر میں واٹس ایپ کے ذریعے ہماری خیریت دریافت کرتے تھے کہ بیٹا کہاں ہو؟ کیسے ہو؟ کب آرہے ہو؟ اب جبکہ وہ منزلِ مقصود تک پہنچ چکے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ ایک غیبی نظام کے تحت ان تک اپنی اولاد کی خوشی اور غم کی خبریں پہنچتی ہیں۔ وہ اولاد کی خوشی پر خوش ہوتے ہیں اور ان کے غم پر رنجیدہ بھی ہوتے ہیں۔‘
یہ الفاظ میرے لیے صبر اور تسلی کا ذریعہ بن گئے ہیں۔
والد ماجد نے اپنی زندگی کے آخری لمحے تک تحفظِ ختمِ نبوت کا پیغام دیا۔ گویا وہ اپنی ذمہ داری پوری کرکے، اتمامِ حجت مکمل کرکے اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے۔ انہوں نے اپنی اولاد، اپنے رفقاء اور پوری امت کے لیے ایک راستہ متعین کردیا کہ زندگی کا اصل مقصد دین کی خدمت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔
آج جب میں ان کی زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ایک ٹائی پہننے والے نوجوان کو اللہ تعالیٰ نے عقیدۂ ختمِ نبوت کا سپہ سالار بنا دیا۔ یہی اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے، یہی اخلاص کا صلہ ہے اور یہی وہ سبق ہے جو والد ماجد کی زندگی اور وفات ہم سب کو دے رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا عبد الرحمن باوا صاحب ؒکی کامل مغفرت، درجات بلند اور دینی خدمات قبول فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔















