گرمیوں کا موسم شروع ہو چکا ہے۔کراچی سمیت ملک بھر میں مئی اور جون کے مہینوں میں سخت گرمی پڑنا معمول کی بات ہے۔ ایک مرتبہ پھر ہیٹ ویو کا الرٹ جاری کیا گیا۔ سخت گرمی مرگی کے مریضوں کو متاثر کرسکتی ہے ، لہٰذا انہیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئے۔ گرمی، جسم میں پانی کی کمی (dehydration)، نیند کا پورا نہ ہونا اور ادویات کا گرم ہوجانا، یہ سب Seizure) (Trigger یعنی وہ عوامل یا حالات ہیں، جو دماغ میں اچانک برقی لہروں میں خلل پیدا کرکے دورے (Seizure) کا باعث بن سکتے ہیں۔
ایسے حالات میں مرگی کے مریض کیا کریں؟ انہیں چاہیے کہ تسلسل سے پانی پئیں،پیاس لگنے کا ہرگز انتظار نہ کریں۔ الیکٹرولائٹ (Electrolyte) یعنی منرلز (ORS)، تربوز، کھیرے جیسے پانی والے پھل کھائیں۔ہلکے رنگ کے، ڈھیلے اور سوتی کپڑے پہنیں۔نیند کا وقت برقرار رکھیں یعنی پوری نیند لیں اور جسم کے درجہ حرارت کو کم رکھنے کیلئے کولنگ ایڈز (Cooling Aids) کا استعمال کریں۔
ایسے حالات میں مرگی کے مریض کیا نہ کریں؟ زیادہ چائے، کافی، انرجی ڈرنکس نہ لیں، الکوحل اور دیگر منشیات سے اجتناب کریں۔ ایک احتیاط یہ بھی کریں کہ 11 بجے سے 5 بجے تک تیز دھوپ میں باہر نہ نکلیں۔اگر مجبوراََ گھر سے باہر نکلنا ہی پڑے تو اپنے ساتھ پینے کے لیے پانی کی بوتل ضرور ساتھ رکھیں۔گرمی سے فوراَ ایئرکنڈیشنر ماحول میں نہ جائیں۔اپنی ادویات زیادہ ٹمپریچر میں ہرگز نہ رکھیں ورنہ یہ بے اثر ہو جائیں گی۔یہ معلومات زیادہ سے زیادہ لوگوں سے شیئر کریں، ان معلومات کو دیگر لوگوں تک پہنچانے سے ان کی صحت بچ سکتی ہے اور آپ کے لیے باعث اجروثواب بن سکتی ہے۔
ماہرین ، عالمی سطح پر گرمی کی شدت بڑھنے کی کئی وجوہات بیان کرتے ہیں۔ پاکستان میں جنگلات کی کمی اور ماحولیاتی آلودگی بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے جس پر بہتر پلاننگ اور موثر اقدامات کے ذریعے حکومت بآسانی اور کافی حد تک قابو پاسکتی ہے۔اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے نئے درخت لگانے، پرانے درختوں کی حفاظت اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے کو ایک قومی فریضہ سمجھتے ہوئے شہریوں کو بھی حکومت کا مکمل ساتھ دینا ہوگا۔
سخت گرمی میں مرگی کے مریضوں کے لیے ضروری تدابیر
















