Advertisement

پاکستان میں کیا رکھا ہے؟

آج کل حالات سے بےزاری اور مایوسی عام ہے۔ قریب قریب ہر کوئی ملک چھوڑنے کی خواہش ضرور رکھتا ہے۔ اکثر کوشش بھی کرتے ہیں۔ کچھ چلے بھی جاتے ہیں۔
پھر تفوق کی جبلت کا یہ اثر ہوا کہ باہر جانا بھی اسٹیٹس کی نشانی بنتا جارہا ہے۔ رشتوں کو بڑھانے میں اسے ترجیحی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ پھر انہیں رشک کی نگاہ سے بھی دیکھا جاتا ہے کہ ملک میں کیا رکھا ہے۔ یقینا نظام سے مایوسی بجا ہے اوروجوہات ہی کا زیادہ ذکر ہوتا رہتا ہے۔ مگر دنیا میں کیا حال ہے یہ بات بھی بتانی چاہیے۔
پاکستان میں ایک مڈل کلاس فیملی میں بھی صفائی کے لیے، کپڑے دھونے کے لیے، برتن دھونے کے لیے، گھر کی صفائی کے لیے، گاڑی کی صفائی کے لیے الگ الگ ملازم دستیاب ہوتے ہیں۔ ایسا اکثر دوسرے ممالک میں امیر ترین افراد بھی تصور نہیں کرسکتے۔
پائپ کے ذریعہ گھر میں گیس ملنا، اس کا دنیا کے اکثر ممالک میں تصور بھی نہیں۔
پاکستان میں اکثر دواؤں کا ایک پتہ جس قیمت میں ہے، اس قیمت میں سعودیہ اور ملائشیا میں پورے پتے کی ایک گولی ہی آتی ہے۔ یعنی دس گنا تک بھی فرق ہے کچھ دواؤں میں۔
پاکستان میں چند سو کی سبزی خریدنے میں جو دھنیا، پودینا یامرچیں مفت دے دی جاتی ہیں، وہ ملائشیا میں پاکستانی 140 روپے کے ایک چھوٹے سے پیکٹ میں الگ الگ ملتی ہیں۔ یعنی پاکستان میں ایک طرح سے چار سو روپے کی سبزی جو مفت میں مل جاتی ہے، یہاں اس کے لیے چار سو روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔
پاکستان میں کیلے جتنے کے ایک درجن مل جاتے ہیں، ملائشیا میں ان پیسوں میں ایک بڑا یا دو چھوٹے کیلے ملتے ہیں۔ سیب، نارنگی، ناشپاتی سو سو روپے کا صرف ایک۔ آلو بخارا چودہ سو روپے کلو۔ مرچیں بارہ سو روپے کلو۔ بھنڈی بارہ سو روپے کلو۔ پاکستان میں پپیتوں، تربوز اور خربوزوں کو ایک سے زیادہ تعداد میں خریدا اور بیچا جاتا ہے۔ وہاں مہنگے ہونے کی وجہ سے انہیں کاٹ کر اور پیک کرکے فریج میں رکھا جاتا ہے کہ اکثر لوگ پورا نہیں لیتے۔
کھیت اور باغات سے تازہ سبزیاں اور فروٹ کیا چیز ہوتی ہے، یہ اکثر لوگوں کو پتہ ہی نہیں۔ کچھ ممالک اکثر پھل سبزیاں درآمد کرتے ہیں جو پھر فریزر اور کیمیکلز سے آراستہ ہوکر دستیاب ہوتے ہیں۔
دیسی گھی اکثر ملکوں میں سرے سے دستیاب ہی نہیں۔ ملائشیا میں بناسپتی گھی پاکستان سے پانچ سے چھ گنا زیادہ قیمت پر ملتا ہے۔ ملائشیا میں تازہ دودھ قریبا کہیں بھی دستیاب ہی نہیں سوائے برصغیر کے لوگوں کے توسط سے کچھ جگہمل جاتا ہے۔ ڈبے کا دودھ جسے دودھ کہہ سکیں ساڑھے پانچ سو روپے کلو، دہی ہزار روپے کلو۔ ڈبہ کے دودھ کو ہی قریبا پوری قوم استعمال کرتی ہے۔ ملائی ناپید۔ جب خالص اور تازہ دودھ دستیاب نہیں تو پھر دودھ سے بنی ہر چیز بھی مصنوعی۔ سبزیوں میں لال آلو ناپید۔
برصغیر ہی کے کچھ لوگ نہ ہوں تو سفید آٹا ہی دستیاب ہوتا ہے۔ پاکستان کے سیلا اور باسمتی کے مقابلہ میں دیگر مشرقی ایشیاء کے ملکوں کے چاول کا سائز دال کے دانے جتنا۔ کسی کو باہر پتہ چلے کہ پاکستانی ہیں تو چائے اور بریانی کی فرمائش شروع ہوجاتی ہے۔ ملایشیاء میں برصغیر کے لوگوں کے توسط سے کہیں نان ملتا بھی تو ایک سو چالیس روپے کا ایک۔ قربانی میں ایک حصہ ساٹھ ہزار سے شروع ہوتا ہے۔
پاکستان میں جو قدرتی نظارے ہیں، انہیں چاروں موسم میں دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ اہم بات ہے کہ ان سے چاروں موسموں میں محظوظ ہوا جاسکے۔ دنیا کے اکثر ممالک میں یہ ممکن ہی نہیں۔ سورج کا نکلنا ہی کہیں ناپید یا محض چند گھنٹوں کے لیے۔ جو منظر تصویر میں خوب صورت ہو مگر اس کو دیکھتے وقت سخت دھوپ، گرمی، شدید حبس یا سخت سردی ہو تو کتنا مزہ دے گا۔ اس منظر میں ہوتے ہوئے اپنا پسندیدہ کھانا نہ ہو تو کتنا مزہ دے گا۔
حال ہی میں کراچی میں پارکنگ فری کردی گئی۔ مغربی ایشیا اور مشرقی ایشیاء میں کئی جگہ پارکنگ کا خرچہ گاڑی کے فیول سے زیادہ ہو جاتا ہے، اورگھنٹوں کے حساب سے۔
پاکستان میں ڈرائیونگ لائسنس تین ہزار میں بن جاتا ہے مہینے کے پراسس میں۔ ملیشیاء میں چھ مہینے کا پراسس اور اس کی ڈھائی لاکھ فیس۔ دبئی میں اس سے بھی زیادہ۔ کراچی جو ایک ملک جتنی آبادی رکھتا ہے، اس میں ایک سے دو جگہ ٹول ٹیکس۔ باہر ہر چند کلومیٹر بعد شہر ہی میں ٹول ٹیکس۔
ٹریفک جام شہر تو کیا ہائی وے پر بھی اس قدر کہ میلوں لمبی قطاریں۔ استنبول، جکارتہ، کوالالمپور میں جو ٹریفک جام دیکھا وہ کراچی میں نہیں۔ بارہا اسکول سے گھر تین کلومیٹر کی مسافت آدھے گھنٹے سے لے کر ایک گھنٹہ تک لمبی ہوجاتی ہے۔
یہاں کباڑی ہر گلی میں سامان لے بھی جاتے ہیں اور پیسے بھی دے جاتے ہیں۔ کاغذ کی ردّی سمیت ہر چیز کے پیسے۔ باہر اپنا کوئی کچن کا فرنیچر یا سامان تلف کرنا پڑتا ہے تو اس کے لیے مزدوری الگ اور ٹرانسپورٹ کمپنی کے اخراجات بھی خود بھرنے پڑتے ہیں۔ یہاں ہر قسم کی مرمت کے لیے مزدوری آسانی سے اور کم اجرت پر دستیاب جسے سمجھا بھی سکیں اور اس کی بات سمجھ بھی سکیں۔ باہر جن لوگوں کو تجربہ ہوا ہے ان لوگوں سے کام کروانے کا جو انگریزی ٹھیک نہ سمجھتے ہوں، تو وہ بہتر محسوس کرسکتے ہیں کہ یہ کوئی آسان کام نہیں۔ یہاں لوگوں کی دہلیز پر لفٹ نہ ہونے کے باوجود بھی رائیڈر کھانا ہاتھ میں دے کر جاتا ہے۔ باہر خود نیچے جاکر لینا پڑتا ہے۔
یقینا سڑکیں ہماری خراب۔ مگر ملایشیاء میں فی کس زیادہ حادثات ہوتے ہیں۔ پاکستان سے بھی زیادہ۔ ہمارے یہاں اگر ٹوٹی سڑکوں سے گاڑی خراب ہوتی ہے تو باہر شدید بارش، سیلابی ریلا، برف کی پھسلن یا سڑک کی سخت تپش کی وجہ سے ٹائر پھٹنے کی صورت میں۔
مسلم ممالک تک میں تروایح میں پورا قرآن پورے شہر میں کہیں کہیں سننے کو مل سکتا ہے۔ اپنے یہاں شاید ہی کسی محلہ میں ایسا ممکن ہو کہ تراویح میں پورا قرآن نہ سنایا جارہا ہو۔
جو زیادہ عرصہ باہر گزار بھی لیں تو پھر فکر آتی ہے اپنی نسل کی۔ اپنے آباؤاجداد کی۔ خود اپنی ذات کی بھی کہ اگر وقت اجل ابھی آگیا تو تجہیز و تکفین کو کون دیکھے گا اور پیچھے کون سنبھالے گا کاروبار اور اثاثے خاص طور پر اگر شہریت نہ ملی ہو۔ چشم زدن میں قانون یا سیاست تبدیل تو اپنے روزگار اور اثاثوں سے بھی محروم ہوا جاسکتا ہے۔مغربی ایشیاء کے حالیہ واقعات نے یہ دکھا بھی دیا۔
تہذیب، تاریخ، ادب۔ کوئی موازنہ ہی نہیں۔ یورپ کے پاس کچھ بتانے کو ہی نہیں پانچ سو سال پیچھے سے جب تک کہ ارسطو کے دور تک نہ چلے جائیں۔ کتابیں پاکستان میں آج بھی کم وبیش کاغذ اور پرنٹنگ کی لاگت کے قریب قریب۔ تین چار ممالک کے بک فئیر دیکھے۔ کراچی بک فئیر میں جتنی کتابیں دستیاب ہوتی ہیں اور خریدی جاتی ہیں، اس کا کوئی موازنہ ہی نہیں۔
ہسپانیہ اور قسطنطنیہ کے بعد مسلم افواج یورپ کے دیگر علاقوں کو بھی فتح کرسکتی تھیں، مگر انہیں رہنے دیا کہ زرعی دور میں یورپ کے کئی علاقے نہ اس وقت اپنا اناج اگاسکتے تھے نہ آج۔ وقت تبدیل ہوا۔ صنعتی دور میں یورپ کی ترقی کے نئے دروازے کھلے۔ زمانہ پھر تبدیل ہورہا ہے۔ آئی ٹی اور اے آئی کے بعد مسابقت سائبر اسپیس میں ہے۔ بہت حد تک ٹیکنالوجی میں تفاوت کم سے کم ہوگیا ہے اور ہوتا جائے گا۔ ترقی کا مرکز اب ایشیاء ہوگا اور ہم ایک اہم محل وقوع میں ہیں۔
بہت سے اور بھی خصائص ہیں۔ قدرت نے بہت نعمتیں عطا کیں۔ مگر اس کا انتظام غلط ہاتھوں میں ہے۔ عوام باصلاحیت۔ جاپان اور ترکی میں بالعموم لوگ انگریزی بالکل نہیں بول سکتے۔ پاکستان میں کوئی انگریز آئے تو اس سے ضرورت جتنی گفتگو اکثریت کرسکتی ہے اور جو باہر جاتے بھی ہیں تو انہیں انگریزی سمجھنے میں شاید ہی بڑا مسئلہ آتاہومگر ہمیں سچائی، خودداری، محنت اور بہتر اخلاق کو اپنانا ہوگا۔
ایک صدی پہلے عربوں کی زندگی بدستور بدویانہ تھی۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ وہ تیل کے کن ذرائع پر چل پھر رہے ہیں۔ یہاں بھی لیاری، کیماڑی یا گوادر کے مچھیرے تو شاید ابھی اس سے ناواقف ہوں کہ ان جگہوں کا پوٹینشل کیا ہے۔ مگر حالیہ بحران نے دکھادیا کہ جس طرح خطے کے دوسرے ملکوں نے بہت کم عرصہ میں بے پناہ ترقی کی، پاکستان کے پاس بھی اتنا پوٹینشل ہے۔ قدرتی وسائل میں۔ افرادی وسائل میں۔ محل وقوع میں۔ پھر اس کی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھنے والی فوج بھی ہے جس کے لیے یہ تصور کرنا بھی محال ہے کہ اپنی سرحد پر جو میزائل داغے، اسی کو ہرجانے کے طور پر بعد میں تاوان بھی دینے کی فرمائش کی جائے۔ کاش پاکستان اپنے اس پوٹینشل کو حاصل کرپائے۔ آمین۔

error: