Advertisement

کرکٹ کا ایک عہد تمام ہوا

سر گارفیلڈ سینٹ اوبرن ’گیری‘ سوبرز کا نام کرکٹ کی تاریخ کے ان عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ، تینوں شعبوں میں غیر معمولی کارکردگی دکھا کر کھیل کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ 28 جولائی 1936 کو برج ٹاؤن، بارباڈوس میں پیدا ہونے والے گیری سوبرز کے والد رینڈولف سوبرز دوسری جنگِ عظیم کے دوران انتقال کر گئے تھے، جبکہ ان کی والدہ تھیلما سوبرز نے انتہائی محنت اور حوصلے کے ساتھ اپنے بچوں کی پرورش کی۔ انہوں نے بارباڈوس کے مقامی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی اور کم عمری ہی سے کرکٹ میں غیر معمولی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ محض 17 برس کی عمر میں 1954 میں انہوں نے جمیکا کے شہر کنگسٹن میں انگلینڈ کے خلاف ویسٹ انڈیز کی جانب سے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیل کر بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا۔ ابتدا میں انہیں بائیں ہاتھ کے اسپن باؤلر کے طور پر ٹیم میں شامل کیا گیا، لیکن جلد ہی ان کی شاندار بلے بازی نے انہیں دنیا کے بہترین آل راؤنڈرز کی صف میں لا کھڑا کیا۔
گیری سوبرز نے 1954 سے 1974 تک 93 ٹیسٹ میچوں میں ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کرتے ہوئے 160 اننگز میں 8,032 رنز بنائے اور 57.78 کی شاندار اوسط برقرار رکھی، جو اس دور کے لحاظ سے غیر معمولی کارنامہ تھا۔ ان کے بلے سے 26 ٹیسٹ سنچریاں اور 30 نصف سنچریاں نکلیں، جبکہ ان کا سب سے بڑا کارنامہ 1958 میں پاکستان کے خلاف کنگسٹن ٹیسٹ میں ناقابلِ شکست 365 رنز کی تاریخی اننگز تھی، جو اس وقت ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا انفرادی اسکور تھا اور تقریباً 36 برس تک عالمی ریکارڈ کے طور پر قائم رہا۔ بطور آل راؤنڈر انہوں نے صرف بیٹنگ ہی نہیں بلکہ باؤلنگ میں بھی اپنی مہارت کا لوہا منوایا اور 235 ٹیسٹ وکٹیں حاصل کیں، جن میں ان کی بہترین باؤلنگ 73 رنز دے کر 6 وکٹیں تھی، جبکہ فیلڈنگ میں 109 کیچ لے کر اپنی ہمہ جہت صلاحیتوں کا ثبوت دیا۔
ذاتی زندگی میں سر گیری سوبرز نے آسٹریلوی خاتون پروڈنس مرفی سے شادی کی اور ان کے تین بچے ہوئے۔ کرکٹ کے لیے ان کی بے مثال خدمات پر انہیں 1975 میں برطانیہ کی جانب سے نائٹ کا خطاب دیا گیا، بعد ازاں انہیں بارباڈوس کا قومی ہیرو قرار دیا گیا اور 2009 میں آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل کیا گیا۔ 17 جولائی 2026 کو 89 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوا تو پوری کرکٹ دنیا سوگوار ہوگئی۔ ۔ ان کے ریکارڈز، دلکش بیٹنگ، جادوئی باؤلنگ، شاندار فیلڈنگ اور کھیل کے لیے خدمات ہمیشہ کرکٹ کی تاریخ میں سنہرے الفاظ سے لکھی جاتی رہیں گی۔

error: