سال 2025 پاکستانی عوام کے لیے ایک بار پھر آزمائش کا سال ثابت ہوا، جب ایک ہولناک سیلاب نے ہزاروں گھروں کو اجاڑ دیا، بے شمار جانیں نگل لیں اور لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا۔ ایسے حالات میں، جب قومیں مشکلات، وسائل کی کمی اور سماجی ناہمواریوں کا شکار ہوں، خدمتِ خلق کے ادارے معاشرے کے لیے امید کی کرن بن کر ابھرتے ہیں۔پاکستان میں فلاحی کاموں کا ذکر ہو تو الخدمت فاؤنڈیشن کا نام سرِفہرست آتا ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے مختلف خطوں میں مصیبت زدہ اور محروم طبقات کے لیے امید کا چراغ بن چکا ہے۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا، ترکیہ کا تباہ کن زلزلہ، 2022 اور 2025 کے ہولناک سیلاب ہوں یا غزہ کے معصوم شہریوں کی امداد، الخدمت ہر موقع پر انسانیت کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آتی ہے۔
الخدمت فاؤنڈیشن گزشتہ 36 برسوں کے دوران ملک بھر میں فلاحی خدمات کا ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد نظام قائم کرنے میں کامیاب رہی ہے، جس کے اثرات کروڑوں انسانوں کی زندگیوں میں واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ آج کے اس تیز رفتار دور میں سب سے قیمتی سرمایہ وقت ہے، اور حقیقی معنوں میں خدمت کے معترف وہی لوگ ہیں جو اللہ کی رضا کے لیے اپنا وقت، اپنا سکون اور اپنا آرام قربان کرتے ہیں۔
الخدمت فاؤنڈیشن کا امتیاز یہ ہے کہ اس کی قیادت اور انتظامی ڈھانچہ مکمل طور پر رضاکارانہ بنیادوں پر قائم ہے۔ صدر، سیکرٹری جنرل، نائب صدور اور ضلعی قیادت سمیت کوئی بھی فرد ادارے سے تنخواہ یا کسی قسم کا معاوضہ وصول نہیں کرتا۔ پورے پاکستان میں تقریباً 1900 ایسے افراد ہیں جنہوں نے الخدمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے اور بنا کسی مالی فائدے کے خدمتِ خلق میں مصروف ہیں۔ان کے علاوہ فیلڈ میں کام کرنے والے رضاکاروں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ الخدمت کے رجسٹرڈ رضاکاروں کی تعداد تقریباً 80 ہزار ہے، جبکہ عملی میدان میں خدمات انجام دینے والے فیلڈ ورکرز کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ پاکستان کے ہر صوبے، ہر شہر اور ہر ضلع کے ساتھ ساتھ دور دراز دیہی علاقوں اور قصبوں میں بھی الخدمت کے دفاتر اور ٹیمیں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے کسی بھی حصے میں کوئی آفت آئے، سب سے پہلے الخدمت کے رضاکار ہی متاثرہ علاقوں میں پہنچتے ہیں۔
چاہے عید ہو یا کوئی تہوار، کوئی قدرتی آفت ہو یا انسانی سانحہ ،خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا مقصد بنانے والے یہ لوگ دن رات فیلڈ میں گزار دیتے ہیں۔ حالیہ سیلاب کے دوران مجھے بھی متاثرہ علاقوں میں جانے کا موقع ملا، جہاں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کیسے یہ رضاکار اپنا گھر بار چھوڑ کر مسلسل لوگوں کی خدمت میں مصروف تھے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے تھے؛ نہ سر پر چھت تھی، نہ کھانے کو کچھ اور نہ پہننے کو مناسب کپڑا۔ ایسے میں اچھے خاصے خوددار اور خوشحال لوگ بھی حالات کے ہاتھوں مجبور ہو گئے تھے۔ مگر اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اتنی توفیق دی کہ ہم لوگوں کی زندگیوں میں کچھ آسانی لانے میں کامیاب ہو سکے اور ان گنت متاثرین تک ریلیف پہنچایا جا سکا۔
اس وقت الخدمت فاؤنڈیشن آٹھ بڑے شعبہ جات میں خدمات انجام دے رہی ہے، جن میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ، صحت، تعلیم، بنو قابل پروگرام، واٹر، سینیٹیشن اینڈ ہائجین (WASH)، آرفن کیئر پروگرام، اسلامی مائیکروفنانس اور کمیونٹی سروسز شامل ہیں۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے تحت زلزلوں اور سیلابوں میں فوری امداد، شیلٹرز اور بحالی کے منصوبے شروع کیے جاتے ہیں۔ شعبۂ صحت کے تحت ہسپتال، ایمبولینس سروس، موبائل ہیلتھ یونٹس اور مفت میڈیکل کیمپس کے ذریعے لاکھوں افراد کو علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ تعلیم کے شعبے میں اسکولز، اسکل ڈیولپمنٹ پروگرامز اور اسکالرشپس کے ذریعے بچوں اور نوجوانوں کا مستقبل سنوارا جا رہا ہے، جبکہ بنو قابل پروگرام کے تحت مفت آئی ٹی کورسز کے ذریعے نوجوانوں کو باعزت روزگار کی طرف لایا جا رہا ہے۔ WASH پروگرام کے ذریعے پسماندہ علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی ممکن بنائی جا رہی ہے۔ آرفن کیئر پروگرام اور آغوش ہومز کے تحت یتیم بچوں کو تعلیم، صحت اور باوقار تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ اسلامی مائیکروفنانس پروگرام کے ذریعے مستحق خاندانوں کو بلاسود قرضے دے کر خود روزگار کے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں، جبکہ کمیونٹی سروسز کے تحت فوڈ پیکس، ونٹر پیکجز، قربانی کے گوشت کی تقسیم اور دیگر فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے لاکھوں افراد کو براہِ راست ریلیف فراہم کیا جاتا ہے۔
گزشتہ برس الخدمت فاؤنڈیشن کی امدادی سرگرمیوں سے 2 کروڑ 46 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوئے، جبکہ 26 ارب 41 کروڑ روپے خدمتِ خلق پر خرچ کیے گئے۔ صرف ہیلتھ کے شعبے میں 1 کروڑ سے زائد لوگ مستفید ہوئے۔
الخدمت فاؤنڈیشن کی یہ مسلسل جدوجہد اس حقیقت کی عکاس ہے کہ جب خدمت کا جذبہ، اخلاص اور رضائے الٰہی یکجا ہو جائیں تو معاشرے میں مثبت اور دیرپا تبدیلی ممکن ہو جاتی ہے۔ اگر ہم سب اپنے حصے کا کردار ادا کریں اور خدمت کے اس سفر میں الخدمت کا دست و بازو بن جائیں تو نہ صرف بے شمار زندگیاں آسان ہو سکتی ہیں بلکہ ایک بہتر اور باوقار معاشرے کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔
خدمت اور الخدمت: انسانیت کے لیے ایک منظم جدوجہد















