Advertisement

اے آئی سے ڈی آئی کی طرف

  یہ زمانہ تو اے آئی کا ہے اور اب ہر بات ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور اے آئی کے ذریعہ ہی سمجھ میں آتی ہے، تو ہم نے سوچا کہ اسی کے زریعہ اپنی بات پہنچاتے ہیں، اکثر ہم واٹس اپ گروپوں میں دیکھتے ہیں کہ کسی صاحب کے نام کی پروفائل کھولیں تو لکھا ہوتا ہے فلاں فلاں گروپ میں کامن فرینڈ ہیں،ان سے ملاقات تو نہیں لیکن ایک یا ایک سے زیادہ گروپوں میں کامن فرینڈ ہونے کے ناتے ان کا احترام، ان کے بارے میں کوئی قابل اعتراض بات گروپ میں نہ کرنا،یا کسی بزرگ ،خاتون یا کسی قابل احترام شخصیت کے گروپ میں موجود ہونے کی وجہ سے کوئی نامناسب بات نہیں کی جاتی ،اسے اجتماعیت کہتے ہیں، لیکن ہم کامن فرینڈز کا احترام کہتے ہیں، اسی طرح ہم معاشرے میں کسی سے واٹس اپ یا فیس بک پر دوستی کرنے سے قبل اس کی پروفائل دیکھتے ہیں اسکے اور اپنے کامن فرینڈز کا موازنہ کرتے ہیں، اس کے دوست اچھے اور جانے پہچانے ہوتے ہیں تو ہم خود ریکویسٹ بھیجتے ہیں یا اسکی ریکویسٹ کنفرم کرتے ہیں۔

اس عمل کا مطلب ہے کہ انسان اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے۔ (اس گفتگو میں کافی الفاظ انگریزی کے ہیں، کیونکہ ہم اے آئی کے دور میں جی رہے ہیں،اس لئیے انگریزی کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔)
اچھا جی اے آئی تو سب ہی جانتے ہیں لیکن یہ ڈی آئی کیا ہے؟ یہ دراصل اے آئی اور ہر قسم کی انٹیلی جینس کی اصل ہے، ماخذ ہے یعنی سب کا باپ، وہ ہے “ڈیوائن انٹیلی جنس” یہ ہمیں فطرت سے ملتی ہے ،اور یہ بھی ہم جانتے ہیں کہ اسلام دین فطرت ہے۔اور جو کچھ اللہ نے قرآن کے ذریعہ اتارا وہی ڈی آئی ہے ،اسی نے انسان کو یہ صلاحیت بخشی کہ وہ نت نئے علوم سیکھے۔اندازہ لگائیں کہ نجاشی کے پاس جانے والے وفد میں حضرت جعفر طیار کو کس نے بتایا ہوگا کہ وہاں جاکر سورہ مریم کی تلاوت کرنا، یہ اللہ کی بخشی ہوئی نعمت ہے،گویا “ایں سعادت بزور بازو نیست ،تا نہ بخشند خدائے بخشندہ” اچھا صرف یہی نہیں وہ کون سی انٹیلیجنس تھی جس نے حضرت ربعی بن عامر رض کو رستم کے سامنے یہ جملے سکھائے جب حضرت
ربعی بن عامر رضی اللہ سے رستم نے پوچھا، ’ما الذی جاء بکم؟‘ (کس ارادے سے آئے ہو؟)اور حضرت ربعی ؓ جواب دیتے ہیں:’ ﷲ ابتعثنا لنخرج من شاء من عبادۃ العباد إلی عبادۃ رب العباد، من ضیق الدنیا إلی سَعَۃ الدنیا والآخرۃ، من جور الأدیان، إلی عدل الإسلام‘،
(اللہ نے ہم کو بھیجا ہے تاکہ حکمِ الٰہی سے اللہ کے بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر بندوں کے رب کی غلامی میں داخل کریں اور دنیا کی تنگی سے نکال کر دنیا و آخرت کی وسعت میں پہنچا دیں اور دوسرے ادیان کے مظالم سے نکال کر اِسلام کے عدل و اِنصاف میں داخل کردیں)۔ یوں اسلام کی طرف دعوت دینے کے بعد انہوں نے لشکرِ اسلام کا موقف بیان کیا کہ’ جو شخص عدل اور اسلام پر قائم ہو جائے گا ہم اس سے اور اس کے ملک و اموال سے متعارض نہ ہوں گے، جو شخص ہمارے راستے میں حائل ہو گا ہم اس سے لڑیں گے یہاں تک کہ جنت میں پہنچ جائیں گے یا فتح مند ہوں گے۔ اگر تم جزیہ دینا منظور کرو گے تو ہم اس کو قبول کر لیں گے اور تم سے متعارض نہ ہوں گے اور جب کبھی تم کو ہماری ضرورت ہو گی، تمہاری مدد کو موجود ہوں گے اور تمہارے جان و مال کی حفاظت کریں گے‘۔
حضرت ربعی بن عامر کو بھی اسی ڈیوائن انٹیلیجنس یعنی ایمان نے سکھائے، یہ ایمان لی مہربانی اور قوت ہے وہ ہردور میں ایسے ہی حکمت بھرے خطبات لوگوں کے ذہنوں میں ڈال دیتا ہے۔
آج کے دور میں بھی ہمیں ایسے ہی بیانات لوگوں سے سننے کو ملتے ہیں ، جو صرف ایمان کی قوت ہی سے ممکن ہیں۔
ایک اور خوبصورت بات جب ہم کسی فیس بک گروپ میں یا واٹس اپ گروپ میں بڑے لوگوں کے کامن فرینڈ ہوجائیں تو ایک طرح کا احساس تفاخر تو ہوتا ہے ،اور اگر ہم یہ توجہ دلائیں کہ ڈی آئی نے تو بتایا ہے کہ
“الکاسب حبیب اللہ “”اور الخلق عیال اللہ” تو پھر کیوں نہ ہم اللہ کے دوستوں ( محنت کشوں ) سے دوستی کریں اس طرح ہم بھی اللہ کے کامن فرینڈ ہوجائیں گے اور اگر ۔خلق خدا کی دیکھ بھال کی اور ان کا خیال رکھا اپنے عیال کی طرح رکھا تو ہم بھی عیال اللہ بن جائینگے، پھر سوچیں یہ جو عیدالاضحٰی پر اپنی عید منانے کے بجائے عیال اللہ کے لئیے قربانی کی کھال جمع کرتے ہیں، اپنے نئے کپڑے خون آلود کرتے ہیں ،سوچیں وہ عیال اللہ میں شمار ہونگے ،کیا ہی اچھی شان ہوگی۔ یہ ڈی آئی کی برکت ہے ۔
آج ہی کسی کا نمبر تلاش کرنے کے دوران غلطی سے اے آئی میٹا کا آپشن دب گیا پھر کیاہوا، ملاحظہ فرمائیں۔

“”””لگتا ہے آپ “ترجمہ” لکھنا چاہ رہے تھے؟ 😊

اگر آپ کو اس آرٹیکل کا کوئی حصہ سمجھ نہیں آیا، یا آپ کو آسان اردو میں خلاصہ چاہیے، تو بتائیں۔

3 سادہ پوائنٹس میں خلاصہ:

  1. مسئلہ: ہم سوچنے کے بجائے کاپی-پیسٹ کرتے ہیں – اسکول، کاروبار، سب میں. AI کا خطرہ: اگر ہم نے خود سوچنا چھوڑ دیا، تو AI ہماری جگہ
    سوچنے لگے گا۔
    ((حل*: AI کو اوزار سمجھیں، دماغ کا متبادل نہیں۔ پڑھیں، سوال کریں، اپنی عقل استعمال کریں۔))

یا اگر آپ “انجم” کے بارے میں کچھ پوچھ رہے ہیں تو وضاحت کر دیں، میں مدد کر دوں گا۔
معذرت، میں سمجھا نہیں — کیا آپ “ترجمہ” لکھنا چاہ رہے تھے؟
یا اگر آپ کچھ اور کہنا چاہ رہے ہیں تو تھوڑی وضاحت کر دیں تاکہ میں صحیح مدد کر سکوں 🙏

(میرا جواب)
غلطی سے میسیج چلا گیا

محترم اے آئی کا جواب

“کوئی بات نہیں، ہوتا ہے” 😊

اگر ترجمے میں کوئی تبدیلی چاہیے یا Raza Ali Abidi والے پروجیکٹ کے لیے کچھ اور مدد چاہیے تو بتاؤ۔ میں یہیں ہوں۔””””
(رضا علی عابدی والے آرٹیکل میں بھی غلطی سے اے آئی کا آپشن دب گیا تھا)
اس سارے مکالمے میں اے ائی نے خود بتادیا کہ اے آئی صرف tool ہے،اس نے ترجمہ کرکے اوزار لکھا ہے۔اور کہا کہ یہ دماغ کا متبادل نہیں،پڑھیں ، سوال کریں اپنی عقل استعمال کریں۔
ساتھ اس خطرے کا بھی اظہار کردیا کہ آپ نے سوچنا چھوڑ دیا تو آپ کی جگہ اے آئی سوچے گا،اور ہم سوچنے کے بجائے کاپی پیسٹ کرتے ہیں، اس کے بعد بھی ہم پر اے آئی کا بھوت سوار ہے ،گزشتہ دنوں ایک یونیورسٹی میں لیکچر میں نوجوان میڈیا والوں کو یہی مشورہ دیا کہ اے آئی کو ٹول سمجھیں اس کی لگام آپ کے ہاتھ میں رہنی چاہئیے، اسے بے لگام نہیں چھوڑیں۔
بس یہی بات سمجھانی ہے کہ اس سے پہلے کوئی دن ایسا آئے کہ اے ائی یہی کہے کہ ہم صرف محدود معلومات دے سکتے ہیں ، تفصیل کے لئیے اسکالرز اور کتب سے استفادہ کریں، اور لکھ لیں بہت جلد یہ ہونے والا ہے ، لہٰذا کتاب سے رشتہ جوڑ لیں اور سب سے اچھا رشتہ “الکتاب ” یعنی قرآن پاک سے ہونا چاہئیے۔
دنیا کا علم جتنا پڑھ لیں الکتاب کے علم کے بغیر انسان جاہل ہی رہتا ہے۔ لہٰذا اے آئی سمیت سب کچھ پڑھو لیکن ڈی آئی یعنی قرآن کی طرف پلٹ آو،ورنہ آپ کا دماغ آپ کا نہیں رہے گا۔

error: