Advertisement

پاکستان کو OTS کا مکمل رکن بنایا جائے، ترک پارلیمنٹرین علی شاہین

ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کے رکن اور ترکی-پاکستان انٹر پارلیمنٹری فرینڈشپ گروپ کے چیئرمین علی شاہین نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک تفصیلی بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کو ترک ریاستوں کی تنظیم (OTS) میں مکمل رکن کا درجہ دیا جائے۔ انہوں نے پاکستان اور ترکی کے تعلقات کو ’بے مثال، کثیر الجہتی اور منفرد‘ قرار دیا۔
علی شاہین کون ہیں؟
علی شاہین نے 1990 سے 1997 تک جامعہ کراچی سے بین الاقوامی تعلقات میں بیچلر اور ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ وہ انگریزی اور عربی کے علاوہ اردو بھی بولتے ہیں اور 2011 سے AKP کے غازی انتیپ سے رکن پارلیمنٹ ہیں ۔
2020 میں پاکستانی صدر عارف علوی نے انہیں ستارۂ قائداعظم کے اعزاز سے نوازا۔ ترکی-پاکستان دوستی کے فروغ میں خدمات کے اعتراف میں۔
بیان کے اہم نکات
جینیاتی اور روحانی رشتہ: علی شاہین نے پاکستان اور ترکی کے تعلق کو محض سفارتی یا اسٹریٹجک تعاون سے بالاتر قرار دیا۔ انہوں نے اسے ایک **”تاریخی، ثقافتی اور روحانی ضابطوں سے تشکیل پایا جینیاتی رشتہ کہا اور کہا کہ دونوں اقوام کے درمیان محبت اور تعلق کا احساس نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ہے۔
لسانی و ثقافتی قربت: شاہین نے اردو زبان کو ترکی-اسلامی ریاستوں کی دین قرار دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ لفظ اردو خود ترکی لفظ اُردو (یعنی فوج) سے ماخوذ ہے اور روزمرہ اردو میں ہزاروں ترکی النسل الفاظ آج بھی مستعمل ہیں۔
تاریخی اور نسلی شواہد: انہوں نے یاد دلایا کہ یہ خطہ صدیوں تک غزنوی، دہلی سلطنت اور مغل جیسی ترک نژاد سلطنتوں کے زیر اقتدار رہا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی پاکستان میں لاکھوں افراد ترک، برلاس، قزلباش اور ازبک، جیسے خاندانی نام رکھتے ہیں، جو اس تاریخی میل ملاپ کا ٹھوس ثبوت ہیں۔
اقبال اور رومی کا روحانی رشتہ: شاہین نے علامہ اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مولانا جلال الدین رومی کو اپنا روحانی رہنما مانا۔ یہ تعلق دونوں معاشروں کے درمیان گہری روحانی قرابت داری کا مظہر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں معاشرے سنی حنفی اور ماتریدی روایت میں مشترک ہیں۔
جنگ آزادی کی مشترکہ وراثت:ـ شاہین نے برصغیر کے مسلمانوں کی ترکی کی جنگ آزادی میں حمایت کو مشترکہ تقدیر کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ محض سفارتی مدد نہیں تھی بلکہ گہری یکجہتی کا اظہار تھا جو پاکستانی قوم کی اجتماعی شناخت کا حصہ بن چکی ہے۔
اسٹریٹیجک جہت: انہوں نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں ترکی کا قدرتی اتحادی اور اس کے وسیع تر حلقۂ اثر کا ثقافتی امتدادہے۔ ترکی کا دل کا جغرافیہ (Geography of the Heart) کا وژن ایسے ہی تاریخی و ثقافتی رشتوں پر مبنی ہے۔
نیا علاقائی پس منظر
یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تینوں ممالک کا اتحاد مضبوط ہو رہا ہے۔ 2024 میں صدر ایردوان، صدر علیئیف اور وزیراعظم شہباز شریف نے پہلا باضابطہ سہ فریقی اجلاس کیا اور مئی 2025 میں لاچین میں دوسرا اجلاس ہوا۔
پروفیسر محی الدین عطامان SETA فاؤنڈیشن کے Insight Turkey کے ایڈیٹر نے بھی باضابطہ تجویز دی ہے کہ ترکیہ اور آذربائیجان کو پاکستان کو OTS میں مبصر کا درجہ دینے کی دعوت دینی چاہیے۔
اکتوبر 2025 کے گابالا سربراہی اجلاس میں OTS نے “OTS+” فارمیٹ متعارف کرایا جس کا مقصد غیر رکن ممالک کے ساتھ تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینا ہے۔
یہ پاکستان کے لیے ایک نئی اور قابل عمل راہ ہو سکتی ہے۔
ترکیہ حکومت کا موقف
فروری 2025 میں صدر ایردوان کے دورۂ پاکستان میں 27 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے اور دفاع، توانائی اور ٹرانسپورٹ میں گہرے تعاون کا عزم کیا گیا۔ تاہم OTS رکنیت کے بارے میں انقرہ کی طرف سے ابھی تک کوئی سرکاری اعلامیہ نہیں آیا۔
ماہرین کی رائے، دونوں زاویے
حمایت: پروفیسر عطامان کے مطابق مشترکہ خصوصیات علاقائی تعاون کی لازمی شرط نہیں ،مشترکہ مفادات بھی کافی بنیاد ہو سکتے ہیں۔
مخالفت: ISSI کے جرنل میں پروفیسر رضوان زیب نے نشاندہی کی کہ ترکی اور پاکستان ایک دوسرے کے سرفہرست 15 تجارتی شراکت داروں میں شامل نہیں ہیں، جو تعلقات کی حقیقی اقتصادی گہرائی پر سوالیہ نشان ہے۔
علاوہ ازیں OTS کا بنیادی معیار ترکی زبان اور نسل رہا ہے اور اس کے تمام مکمل ارکان ترکی زبان بولنے والے ممالک ہیں۔پاکستان کو مکمل رکنیت کے بجائے مبصر کا درجہ زیادہ قابل عمل راستہ ہو سکتا ہے۔
علی شاہین کا یہ بیان ترکیہ-پاکستان تعلقات کی تاریخ میں اب تک کا سب سے تفصیلی اور دلائل پر مبنی OTS رکنیت کا مطالبہ ہے۔ ترکی-آذربائیجان-پاکستان سہ فریقی اتحاد اور OTS کے نئے “OTS+” فارمیٹ نے اس تجویز کو عملی امکان کے قریب لا دیا ہے۔ تاہم اگلا قدم حکومتوں کو اٹھانا ہوگا، پارلیمنٹیرینز کا کام راستہ دکھانا ہے، منزل پر پہنچانا نہیں۔

error: