Advertisement

بزمِ ساتھی جدہ کےتحت 3 روزہ ’جین زی سمرلیڈرشپ کیمپ‘

بزمِ ساتھی جدہ کےتحت 3 روزہ ’جین زی سمرلیڈرشپ کیمپ‘ اختتام پذیرہوگیا۔

سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے طلبہ و نوجوانوں نے موسمِ گرما کی تعطیلات کا آغاز علامہ محمد اقبالؒ کے اس فکر انگیز شعر کے عنوان سے منعقدہ تین روزہ ’’جن زی سمر لیڈرشپ کیمپ 2026‘‘ میں شرکت کرکے کیا۔

خرد کو غلامی سے آزاد کر جوانوں کو پیروں کا استاد کر

بزمِ ساتھی جدہ کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے اس کیمپ میں 300 سے زائد طلبہ نے شرکت کی۔ تین روز تک جاری رہنے والے پروگرام میں نوجوانوں کی فکری، اخلاقی، تعلیمی اور جسمانی تربیت کے لیے متنوع سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔ 

افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے ڈاکٹر معین (پروفیسر جامع ملک عبدالعزیز) نے طلبہ کو کیمپ میں شرکت کرنے پران کی حوصلہ افزائی کی۔ اس کے بعد عبداللہ خالد بھائی نے طلبہ کو ہدایات دیں اور ان کے گروپس بنوائے، جو صحابۂ کرامؓ کے ناموں پر مشتمل تھے۔ کیمپ کے دوران روبوٹکس، جن زی مباحثہ، اسٹڈی گروپس، قرآن سرکل، قرآنی کہانیوں کی نشستیں، فٹبال، کرکٹ اور سوئمنگ سمیت مختلف کھیلوں اور تعلیمی سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا۔ اس کے علاوہ نوجوان صحابۂ کرامؓ کی سیرت، کردار اور قیادت کے مختلف پہلوؤں پر خصوصی سیشنز بھی منعقد ہوئے۔

پروگرام میں پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے والدین اور اساتذہ نے بھی مختلف نشستوں میں شرکت کی اور نوجوانوں کی مثبت کردار سازی کے لیے بزمِ ساتھی کی کاوشوں کو سراہا۔

کیمپ کے استقبالیہ حصے میں پاکستان اور سعودی عرب کے قومی پرچم پیغامِ دوستی اور برادرانہ تعلقات کے اظہار کے طور پر آویزاں کیے گئے تھے، جن پر شرکاء کے لیے خیرمقدمی کلمات درج تھے۔ کیمپ کے آخری حصے میں ساجد قیوم بھائی، احمد زبیر بھائی، رضوان احمد بھائی اور علی بزدار بھائی نے تمام طلبہ میں یادگاری اسناد تقسیم کیں۔ اختتامی کلمات پیش کرتے ہوئے صدر بزمِ ساتھی جدہ زہیر بن رضی بھائی نے طلبہ کو قیادت کی خصوصیات، والدین کی فرمانبرداری اور اسلامی طرزِ زندگی کی تعمیر اور’’نیک بنو، نیکی پھیلاؤ‘‘ کا پیغام دیا۔ آخر میں تمام طلبہ اور منتظمین کی اجتماعی (گروپ) تصویر کے ساتھ اس کیمپ کا اختتام ہوا۔ شرکاء نے اپنے تاثرات میں کیمپ کو ایک یادگار اور مفید تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں حاصل ہونے والی تعلیم، نئی دوستیاں اور خوشگوار یادیں ان کے ساتھ ہمیشہ رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی مثبت اور تعمیری سرگرمیاں پاکستانی کمیونٹی کے نوجوانوں میں قیادت، خود اعتمادی، اخلاقی اقدار اور سماجی شعور کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

error: