Advertisement

اِسلام اور معاملاتِ صلح وجنگ

اسلام کے حوالے سے کچھ باتیں تواتر سے دہرائی جاتی ہیں مثلا یہ کہ اسلام امن و سلامتی اور محبت اور رواداری کا مذہب ہے اس ضمن میں بہت سی قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ پیش کی جا سکتی ہیں اسلامی تاریخ کے وسیع کینوس سے سیکڑوں واقعات دلیل کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں لیکن اس مضمون میں اسی موضوع کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی جائے گی یعنی معاملات صلح جنگ میں مسلمانوں کا طریقہ کار کیا رہا ہے نیز اسلام کے نظریہ امن و سلامتی کو جنگ کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھیں گے کہ اسلام اپنے اس دعوے میں، کہ وہ امن و سلامتی کا مذہب ہے کتنا سچا ہے قران یہ پیغام دیتا ہے کہ سب سے پہلے مسلمان ملک کا خارجہ اصول عام سلامتی ہونا چاہیے، یعنی وہ ایک ایسا ملک ہو جس سے کسی دوسرے ملک کو کوئی خطرہ نہ ہو لیکن اگر کوئی قوم یا ملک سلامتی سے رہنا ہی نہ چاہے تو مسلمان ملک کو اس ملک کی جارحیت سے دفاع کے لیے تیار رہنا چاہیے، سورہ انفال میں ارشاد ہوتا ہے :
’’اور جہاں تک ہو سکے قوت طاقت فراہم کر کے اور گھوڑوں کی تیاری سے ان کے لیے مستعد رہو کہ اس سے خدا کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں پر ہیبت طاری رہے‘‘۔ (سورہ انفال آیت 60 )
یہ وہی چیز ہے جسے آج کل کی اصطلاح میں ڈیٹرنس کہتے ہیں یعنی روک تھام کرنا یا دشمن کو باز رکھنا عسکری معاملات میں ہم نیوکلیئر ڈیٹرنس کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم ایٹم بم چلائیں گے نہیں ، لیکن اگر تم نے چلایا تو ہم بھی چلا دیں گے اس خوف سے دونوں فریق ایک دوسرے پر حملہ نہیں کرتے سرد جنگ میں امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان یہی چلتا رہا پھر اگر جارح ملک اپنے جارحانہ عزائم سے باز آجاتا ہے تو مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ جنگ سے باز آجائیں اور صلح کی کوشش کریں۔
سورہ انفال ہی میں ہے:
’’اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہو جائیں تو تم بھی اس طرف مائل ہو جاؤ اور خدا پر بھروسہ رکھو‘‘۔
قرآن کریم نے حقیقت جنگ کو بدل کر ایک نیا نظریہ پیش کیا ہے جس سے اس وقت کی دنیا نا آشنا تھی، اس کا نظریہ یہ تھا کہ جنگ وقتال صرف ایک مصیبت ہے جس سے بچنے کی ضرورت ہے لیکن جب دنیا میں اس سے بڑی مصیبت یعنی ظلم و طغیان فتنہ و فساد پھیل گیا ہو تو محض رفع شر کے لیے جنگ کرنا ضروری ہے انسانی زندگی کا جزو ہونے کے باوجود جنگ کا یہ مقام نہیں کہ اس کی تمنا کی جائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ دشمن سے جنگ میں روبرو ہونے کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے پناہ مانگتے رہو مگر جب دشمن سے مقابلہ ہو جائے تو پھر جم کر لڑو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے میں ہے۔( بخاری کتاب الجہاد، باب الجنہ)
اسلام کے تصور جہاد کے مطابق چونکہ جنگ کا اصل مقصد فریق مقابل کو ہلاک کرنا اور نیست و نابود کرنا نہیں ہے بلکہ اس کے شر کو رفع کرنا ہے اس لیے قران کریم یہ اصول پیش کرتا ہے کہ جنگ میں صرف اتنی قوت استعمال کرنی چاہیے جتنی رفع شر کے لیے ناگزیر ہو اس قوت کا استعمال صرف انہی طبقوں کے خلاف ہونا چاہیے جو عملا برسرپیکار ہوں باقی تمام انسانی طبقات کو جنگ کے اثرات سے محفوظ رکھنا چاہیے۔ سورہ بقرہ میں ارشاد ربانی ہے جو شخص تم پر زیادتی کرے اس کے جواب میں اتنی ہی زیادتی کرو جتنی اس نے تم پر کی ہے۔ ( آیت 194)
اس سے موجودہ دور کی غیر متوازن اور غیر معتدل جنگوں کی نفی ہوتی ہے جس کا مقصد کمزور اور کمزور فریق کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا ہوتا ہے، ( جیسا کہ آجکل بھی دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ فلاں تہذیب مٹادیں گے)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت اللعالمین بنا کر بھیجے گئے تھے اگر وہ فریق مخالف کو نیست و نابود کر دیتے تو اللہ کا پیغام کس کو پہنچاتے ہیں حضرت صدیق اکبر نے جیش اسامہ کو رخصت کرتے ہوئے سپہ سالار لشکر کو جو ہدایات دیں وہ یہ تھیں کہ:
’’لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر مسئلہ نہ بنانا چھوٹے بچوں کو قتل نہ کرنا، ایسے بوڑھوں کو قتل نہ کرنا جو لڑ نہیں سکتے، عورتوں سے تعرض نہ کرنا باغات کو نہ کاٹنا نہ جلانا کسی پھلدار درخت کو نہ کاٹنا، کھانے کی ضرورت سے زائد کسی جانور کو ذبح نہ کرنا تم لوگوں کا گزر ایسے لوگوں پر ہوگا جنہوں نے اپنے آپ کو گرجوں میں عبادت کے لیے وقف کر رکھا ہے توان کو ان کے حال پر چھوڑ دینا انہیں وہ کام کرنے دینا جس کے لیے وہ یکسو ہو گئے ہیں‘‘۔ چونکہ مسلمانوں کو اپنے دفاع کے لیے لڑائیاں لڑنی پڑیں اس سے ناقدین اسلام نے یہ الزام لگایا کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہے لیکن جس کسی نے کارلائل کو پڑھا ہے اس کی طرح اسلام کے عروج کا مطالعہ کیا ہے یا ٹی ڈبلیو آرنلڈ کی طرح مسلمانوں کی فتوحات اور ان کی تبلیغی کوششوں پر فرقہ وارانہ تنگ نظری کے بغیر اسے دیکھا ہے وہ نہایت آسانی کے ساتھ اس الزام کی تردید کر سکتا ہے۔ پھر اس کا ایک جواب یہ بھی ہے کہ جن لوگوں نے مکہ اور مدینہ میں اسلام کے ابتدائی برسوں میں اسلام قبول کیا ان پر کون سی تلوار چلائی گئی تھی ایک ایسا مذہب جس کا بنیادی اصول لا اکراہ فی الدین ہو وہ جبر سے کام نہیں لے سکتا یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے تمام رائج الوقت الفاظ کو چھوڑ کر جنگوں کے لیے جہاد فی سبیل اللہ کی اصطلاح وضع کی جو اپنے معنی پر ٹھیک ٹھیک دلالت کرتی ہے اور جنگ کے وحشیانہ تصور کی نفی کرتی ہے اس پاکیزہ تصور کے پیش نظر اسلام نے جنگ کا ایک مکمل ضابطہ قانون وضع کیا ،جس میں جنگ کے آداب اس کی اخلاقی حدود، محاربین کے حقوق مقاتلین اور غیر مقاتلین کا امتیاز اور ہر ایک کے حقوق، معاہدین کے حقوق سفرا اور اسیران جنگ کے حقوق یرغمالیوں اور مفتوح اقوام کے حقوق تفصیل سے بیان کیے ہیں جن پر رسول اللہ خلفائے راشدین اور دیگر متعدد خلفاء اسلام نے اس کے مطابق عملی نمونہ پیش کیا اسلام کے فلسفے جہاد و شہادت کے بارے میں علامہ اقبال کہہ گئے ہیں:
جنگ شاہان جہاں غارت گری است
جنگ مومن صفت پیغمبری است
جنگ مومن چیست ،ہجرت سوئے دوست
ترک عالم ،اختیار کوئے دوست
(جاوید نامہ)

error: