ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی اہم تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم میزبان انگلینڈ کے خلاف سیریز کھیل رہی ہے۔ یہ سیریز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2025، 2027 کا بھی حصہ ہے، جس کے باعث ہر میچ عالمی ٹیسٹ رینکنگ اور چیمپئن شپ پوائنٹس کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ 19 سے 23 اگست 2026 انگلینڈ کے تاریخی میدان ہیڈنگلے، لیڈز میں کھیلا گیا۔ دوسرا ٹیسٹ 27 سے 31 اگست تک دنیا کے مشہور ترین کرکٹ گراؤنڈ لارڈز، لندن میں منعقد ہوا۔ 2018 کے بعد لارڈز کے میدان میں پاکستان نے اپنا دوسرا ٹیسٹ میچ کھیلا۔جبکہ تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 سے 13 ستمبر 2026 تک ایجبسٹن، برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔
میچوں کی تاریخ
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان پہلی مرتبہ ٹیسٹ کرکٹ 1954 میں کھیلی گئی، جب پاکستان نے اپنی تاریخ کا پہلا دورۂ انگلینڈ کیا۔ یہ سیریز چار ٹیسٹ میچوں پر مشتمل تھی اور دونوں ممالک کے درمیان ٹیسٹ کرکٹ کی ایک طویل اور شاندار روایت کا آغاز بنی۔
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ 10 سے 15 جون 1954 تک تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ، لندن میں کھیلا گیا۔ انگلینڈ کے کپتان لین ہٹن تھے جبکہ پاکستان کی قیادت عبدالحفیظ کاردار نے کی۔ انگلینڈ نے پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ پاکستان پہلی اننگز میں صرف 87 رنز بنا سکا، لیکن شاندار باؤلنگ کی بدولت انگلینڈ بھی 117 رنز پر 9 کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد اننگز ڈکلیئر کرنے پر مجبور ہوا۔ پاکستان نے دوسری اننگز میں 121 رنز پر 3 گنوائیں اور یوں یہ تاریخی پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوگیا۔
1954 کی تاریخی سیریز
4 ٹیسٹ میچوں کی اس سیریز میں انگلینڈ نے ایک، پاکستان نے ایک اور دو میچ ڈرا کھیلے، اس طرح سیریز 1-1 سے برابر رہی۔ پاکستان نے آخری ٹیسٹ اوول، لندن میں 24 رنز سے جیت کر تاریخ رقم کی اور انگلینڈ کے پہلے دورے میں ٹیسٹ جیتنے والی پہلی نئی ٹیسٹ ٹیم بن گیا۔ اس تاریخی کامیابی میں فضل محمود کی تباہ کن باؤلنگ نے مرکزی کردار کیا، جنہوں نے میچ میں 12 وکٹیں حاصل کی۔۔ان کو اوول کا ہیرو کا خطاب دیا گیا۔
پاکستان کی جانب سے حنیف محمد، ظہیر عباس، جاوید میانداد، انضمام الحق، یونس خان، محمد یوسف، مصباح الحق اور بابر اعظم نے انگلینڈ کے خلاف کئی یادگار سنچریاں اسکور کیں۔
باؤلنگ میں فضل محمود، وسیم اکرم، وقار یونس، عبدالقادر، ثقلین مشتاق، دانش کنیریا، یاسر شاہ اور شاہین شاہ آفریدی نے انگلینڈ کے خلاف نمایاں کارکردگی دکھائی۔
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان مجموعی طور پر 89 ٹیسٹ میچ کھیلے گئے تھے۔ ان میں انگلینڈ نے 29 اور پاکستان نے 21 جیتے، جبکہ 39 ٹیسٹ ڈرا ہوئے۔
انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے
انضمام الحق 1,584رنز
مشتاق محمد 1,554رنز
محمد یوسف 1,400 رنز
سلیم ملک 1,396رنز
جاوید میانداد 1,329 رنز
ظہیر عباس 1,086رنز
ظہیر عباس نے انگلینڈ کے خلاف 14 ٹیسٹ میں 24 اننگز کھیل کر 1,086رنز بنائے، ان کی اوسط 51.71رہی اور دو سنچریاں بنائیں۔ ان کا سب سے بڑا اسکور 274 رنز ہے۔
جون 1971 میں پاکستان نے انگلینڈ کا دورہ کیا۔ برمنگھم کے ایجبسٹن گراؤنڈ میں 3 جون سے ٹیسٹ شروع ہوا۔ یہ ظہیر عباس کا انگلینڈ کی سرزمین پر صرف دوسرا ٹیسٹ تھا، لیکن انہوں نے ایسی شاندار بیٹنگ کی کہ دنیا بھر میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوا لیا۔
ظہیر عباس نے 274 رنز بنانے کیلئے 467 گیندیں کھیلیں اور ان کی اننگز میں 38 چوکے شامل تھے۔ انہوں نے تقریباً 544 منٹ کریز پر گزارے۔ ان کا اسٹرائیک ریٹ 58.67 تھا۔
ان کے ساتھ مشتاق محمد نے 100 اور آصف اقبال نے ناقابلِ شکست 104 رنز بنائے۔ پاکستان نے پہلی اننگز 608 رنز 7 وکٹوں کے نقصان پر ڈکلیئر کی۔
انگلینڈ کی پہلی اننگز 353 رنز پر ختم ہوئی، لیکن میچ کا فیصلہ نہ ہو سکا اور ٹیسٹ ڈرا ہوگیا۔ اسی میچ میں پاکستانی کھلاڑی عمران خان نے اپنا ٹیسٹ ڈیبیو بھی کیا۔
پاکستان اور انگلینڈ کے کرکٹ میچوں کا ریکارڈ












