دنیا کی زبردست اور نامور طاقتیں اس وقت دو تھیں جن کے نام سے سب تھراتے تھے اور جن کا لوہا مشرق ومغرب مانے ہوئے تھے۔ مغرب میں رومن امپائر یا شہنشاء روم، اور مشرق میں پرشین امپائر یا شہنشاء ایران۔ دونوں بڑی بڑی فوجوں اور لشکروں کے مالک، دونوں میں زر ودولت کی افراط، اور دونوں کا تمدّن عروج پر۔ لیکن دونوں کی اخلاقی حالت ناگفتہ بہ، عیش وعشرت نے مردانگی کی جڑیں کھوکھلی کر ڈالی تھیں اور روح وقلب کے روگ ہر قسم کے پھیلے ہوئے، انسان کا رشتہ اپنے خالق سے بالکل ٹوٹا ہوا، توحید کا چراغ گویا بالکل بجھا ہوا۔ اور یہی حال کم وبیش ساری دنیا کا۔ تفصیل کا وقت کہاں ورنہ ہندوستان، چین، مصر وغیرہ ایک ایک ملک کا نام لے کر اس وقت کے اخلاقی زوال کی تصویر آپ کے سامنے پیش کردی جاتی۔
اس وبائے عام میں ملکِ عرب کا نمبر خاص، شاعری کے آرٹ میں یہ قوم یقیناً طاق، اور تجارت کے کاروبار میں بھی بہت ممتاز۔ چند اور اخلاقی جوہر بھی ان کے اندر خوب چمکے ہوئے۔ بہادری اور سپہ گری، فیاضی مہمان نوازی میں ان کا سکہ قرب وجوار ہی میں نہیں دور دور تک بیٹھا ہوا۔ لیکن اس سے آگے چلیے تو یہ لوگ بالکل کورے، آج اسے لوٹ لیا کل اُسے ختم کردیا، بے حیائی فیشن میں داخل اور بے ستری جز وعبادت، شراب کی محفل جمی تو شام کی صبح ہوگئی، جوئے کی بازی لگی تو جسم سے کپڑے تک اتر گئے، اور خون کے انتقام در انتقام کا سلسلہ جو چلا تو کہنا چاہیے کہ صدی کی چھٹی ہوگئی عمریں ختم ہوگئیں، پشتیں گزر گئیں اور جھگڑا چکائے نہیں چکتا۔ تو یہ تھا چھٹی صدی عیسوی کی آخری تہائی کا ملک عرب، جس کے مشہور ترین اور مقدس ترین شہر مکہ میں 570ء میں ایک روز صبح صادق کے وقت قوم کے شریف ترین گھرانے میں ایک جیتا جاگتا چاند عالمِ ظہور میں آیا، جس کی نورانیت سے کہنے والے کہتے ہیں کہ ان کے گھر کے درو دیوار تک جگ مگ کرنے لگے۔ زچہ خانہ کے مادّی حدود کی بساط ہی کیا، یہ نورانیت تو اس غضب کی تھی کہ مشرق ومغرب کے سرے اس سے جگمگا اٹھنے والے تھے۔
عرب کی جغرافیہ کا خاکہ تو آپ کے ذہن میں ہوگا ہی، طول البلد 12 اور 32، عرض البلد 35 اور 60، ایک طرف مصر اور حبشہ اور طرابلس اور سارا براعظم افریقہ، دوسری طرف ملک روم وشام وفلسطین اور سارا یورپ، تیسری جانب عراق اور ایران اور سارا ایشیا، اور چوتھی سمت میں سمندر ہی سمندر۔ گویا معمورئہ عالم خصوصاً اس وقت کی دنیاے مہذب کا عین چوراہہ اور پھر جو تجارتی شاہراہ مشرق کو مغرب سے ملارہی تھی اور بحرِ ہند وخلیج فارس کے تجارتی مال کو خشکی کے راستہ مصر وروم وشام تک پہنچا رہی تھی، وہ بحر احمر کے برابر برابر گویا ایک خط مستقیم بتاتی ہوئی ٹھیک اسی عرب ہی کے مغربی کنارے پر تو تھی! تاریخ اور جغرافیہ دیکھیے دونوں کی شہادت کیا گزری ہے، یہی نہ کہ اکیلے عرب ہی کی نہیں دنیا کی اصلاح کے لیے اس سے بڑھ کر ضروری وقت وزمانہ اور کون ہوسکتا تھا، اور مقام اس کے لیے عرب سے موزوں تر کون سا ہوسکتا تھا۔ زمان ومکان دونوں کے لحاظ سے ولادت ایسی ’’باسعادت‘‘ اور کون سی ہوگی؟ والد ماجد کا نام عبداللہ، توحید وعبودیت کی طرف کتنا صاف اشارہ۔ والدہ ماجدہ بی بی آمنہ، امن وامان کے حق میں ایک مستقل فالِ نیک! آنکھ یتیمی میں کھلی، والد ماجد نور عین کے دیدار جمال سے قبل ہی سفر آخرت پر روانہ ہوچکے تھے۔ جس کو سارے عالم کا سہارا بنایا جانے والا تھا، حق تھا کہ قدرت اسے وجود میں بغیر ظاہری سہارے کے لائے، اور اس کا سہارا روزِ ازل سے بجز ذات حق کے اور کوئی ساجھی نہ رکھے!
نام نامی دادا عبدالمطلب نے ’’محمد‘‘ رکھا۔ لفظی معنی ’’بہت حمد کیے گئے‘‘۔ ذات ستودہ صفات کے لیے اسم بامسمّیٰ۔ دوسرا نام ’احمد‘ پڑا، جس کی زندگی حمد میں کٹی اور جسے اٹھنا بھی مقامِ حمد میں ہے، اس کے لیے اس سے بہتر نام اور ہو ہی کیا سکتا تھا! پلے بڑھے کھیلے، چلے پھرے، ملے جلے بچپن یوں گزرا کہ خود معصومیت اس بچپن پر فخر کرنے لگی۔ جوان ہوئے تو نیکی اور پارسائی طاعتِ حق اور خدمتِ خلق بلائیں لینے لگیں۔ جوانی یوں بھی دیوانی ہوتی ہے اور پھر ایسے ملک و قوم میں جہاں عیش پرستی اور لذت کوشی کی ہر راہ کھلی ہوئی، قدم کی ہر لغزشِ مستانہ پر رواج اور فیش کی مہر لگی ہوئی۔ اسی ماحول میں اور سن وسال میں محلہ اور بستی والوں نے کنبہ اور قبیلہ والوں نے لقب دیا یہی تو کیا؟ ’’امین‘‘! امین کا لفظ بڑا وسیع اور جامع ہے۔ انگریزی میں اس کا ترجمہ Virtuous ہی کیا جا سکتا ہے۔ یعنی محمدؐ دیانت دار بھی ہیں اور راست باز بھی، نظریں نیچی رکھے والے بھی اور سب کی خدمت کرنے والے بھی۔ کتنے ایسے ہیں جن کی قسمت میں ہر وقت دیکھنے والوں کی زبان سے یہ شہادت آتی ہے!
لڑکپن بھر گلہ بانی کی، جس کے نصیب میں آگے چل کر قوموں اور امتوں کا گلّہ بان ہونا تھا اس کے لیے کتنی اچھی تعلیم۔ جوان ہوئے تو تجارت اختیار کی، جس کا کام آگے بڑھ کر جنت کے تمسکات Share certificates ہلکے پھلکے داموں خریدوانا ہونا تھا، اس کے لیے کتنا موزوں اور پر معنی پیشہ! امانت ودیانت اور کاروبار میں مہارت دیکھ کر ایک دولت مند بیوہ نے شادی کی درخواست از خود کی، اور 25 سال کے سن میں اس جوان رعنا کی خانگی زندگی بھی شروع ہوگئی۔ سن کے چالیسویں سال میں تھے کہ مرتبۂ نبوت سے سرفراز ہوئے، ساری تیاریاں اسی لیے تھیں، اور 23 سال تک اپنے خالق ومالک کا پیام بندوں کو سناتے رہے۔ نکاح کئی فرمائے، اولادیں بھی متعدد ہوئیں۔ لڑائیاں بار بار سخت اور خوں ریز اپنے ہم وطنوں اور ہم قوموں سے لڑنا پڑیں۔ ہم سایہ ملکوں سے معاہدے بھی کیے، ملک کے انتظام۔۔۔ (کذا) ہر طرح کے فرمائے۔ دیوانی فوج داری قانونی فیصلے ہر قسم کے کرنے پڑے۔ غیر مسلم تاجروں سے نامہ وپیام رکھا۔ بے شمار نمازیں پڑھیں اور پڑھائیں۔ خطبہ یا برجستہ تقریریں خدا معلوم کتنی کر ڈالیں۔ غرض یہ کہ دنیا کو ہر ہر پہلو پر خوب برتا۔ لیکن دنیا میں ایک بار بھی نہ پڑے، جیسے غوطہ خور نے سمندر میں گر کر غوطہ لگایا اور جسم کا ایک رویاں بھی بھیگنے نہ پایا۔ اور جب 63 سال کی عمر شریف میں جون 633ء میں اس فانی دنیا کو چھوڑا، تو دل میں تمنا اپنے رفیق اعلیٰ کے دیدار کی بسی ہوئی تھی اور پاک اور معصوم ہونٹوں سے آواز اللّٰھمَّ بِالرَّفیقِ الْاَعلیٰ کی چلی آرہی تھی!۔
تعلیم یہ لائے کہ اپنی عقلوں اور ذہنوں کو مادیات کے جنجال میں نہ پھنسائو۔ اسباب ظاہری کے دھوکے میں نہ آئو۔ ان سے کام یقینا لو اور پوری طرح لو، لیکن اصلی سہارا اور حقیقی بھروسہ ایک اَن دیکھی ذات ہی کا رکھو، وہی سب کا پیدا کرنے والا، وہی سب کو پالنے جلانے والا اور وہی سب کو آخر میں مارنے اٹھانے والا ہے، اس کا کوئی شریک نہ ذات میں نہ صفات میں۔ زندگی کے چھوٹے بڑے ایک ایک عمل میں اپنی ذمے داری محسوس کرو۔ اور مادی وجسمانی زندگی کو سلسلہ ہستی کا ایک جزو اور بہت ہی محدود جزو سمجھو، تنگ نظری سے کام لے کر اسی کو کل سمجھ لینے کے دھوکے میں نہ پڑو۔ اس ’’آج‘‘ کا عنقریب ’’کل‘‘ ہونے والا ہے، ہر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہو کر رہے گا، ساری تیاریاں اس یومِ حساب کے لیے رکھو۔
قانون یہ بنایا کہ کوئی کسی حال میں کسی پر ظلم نہ کرے۔ بڑائی اور چُھٹائی اس عالمِ آب وگِل کا بنیادی قانون ہے۔ کوئی امیر رہے گا کوئی غریب، لیکن بڑے کو چھوٹے کے دبانے کا اور امیر کو غریب کے پیسے کا، حاکم کو محکوم کے ستانے کا قطعاً کوئی حق نہیں۔ میاں اور بیوی، بادشاہ اور رعایا، زردار ونادار، ادائے حقوق کے لحاظ سے اللہ کی عدالت میں سب بالکل برابر ہیں۔ دھیان اپنے فرائض کا رکھو، اپنی ذمے داریوں کو ایک دوسرے کے حق میں ادا کرو۔ مطالباتِ حقوق کا نام لے کر غل غپاڑہ نہ کرو، دنیا کو ہنگامہ وفساد کے تہلکہ میں نہ ڈالو۔ تلوار ہاتھ میں اٹھائو بھی تو دنیا میں امن قائم کرنے کو، اللہ کی حکومت کا سکّہ از سر نو چلانے کو۔ سود کا، رشوت کا، خیانت کا، ایک ایک پیسہ حرام سمجھو۔ بے حیائیوں کے قریب نہ جائو۔ ننگے ناچ کی قدردانی نہ کرو۔ نشہ کی چیزوں کو ہاتھ بھی نہ لگائو۔ ترکہ سب وارثوں کو ان کے حصّۂ رسدی کے مطابق تقسیم کرو۔ یہ نہ ہوکہ سب کچھ بڑا لڑکا پاگیا اور دوسرے لڑکے لڑکیاں منہ دیکھتی ہی رہ گئیں۔ جوئے کی کمائی چوری کے مال کی طرح گندی سمجھتے رہو۔ بیگانی عورت کی طرف نظر بھی نہ اٹھائو۔ ہاں جائز شادیاں اگر ضرورت یا مصلحت سمجھو تو ادائے حقوق کے ساتھ ایک سے زائد بھی کرسکتے ہو۔
غرض ان ساری ہدایتوں کو اپنے پروردگار سے سیکھ کر جب وہ رہبر اعظم اس دنیا سے رخصت ہوا تو وہ دنیا کے ہاتھ میں ایک مکمل ہدایت نامہ اور جامع ومفصل دستورالعمل دے کر گیا۔ اور اُس کی یہ ساری تعلیمات محض مخفی نہ تھیں، وہ ان سب کی مشق سالہا سال تک اپنے سامنے کرا کر گیا۔ اس کی قوم کے جاہلوں اور فاسقوں نے اس کا پیچھا لیا اسے اپنے مشن کے تحفظ کے لیے مکہ معظمہ سے جلاوطن ہوکر ڈھائی پونے تین سومیل کی منزلیں طے کرکے مدینہ جا بسنا پڑا تھا، اور بے رحمانہ سختیوں کی کوئی قسم ایسی نہ تھی جو اسے اور اُس کے وفادار ساتھیوں کو جھیلنا نہ پڑی ہو۔ ساری مشکلات پر وہ اپنی معجزانہ ہمت وتدبیر سے غالب آیا۔ ملکوتی اور لاہوتی قوتیں پہاڑوں کو اس کے سامنے پانی کرتی گئیں۔ اس نے اپنے پیجھے اپنے شاگردوں کی ایک جماعت ایک لاکھ سے اوپر کوئی سوا لاکھ چھوڑی۔ اور عرب کے کوئی 10 لاکھ مربع میل پر وہ اپنی عادلانہ حکومت کا نقش قائم کرگیا۔ اس کی ہمہ گیر، بے نظیر، اور جمال وجلال اور کمال سب کی جامع شخصیت کے لیے ہم کو آپ کو نہیں یورپ کو آج تک اعتراف ہے کہ ’’وہ دنیا کے تمام انبیا اور مذہبی شخصیتوں میں کامیاب ترین ثابت ہوئے‘‘۔
نبی کریم ﷺکی ولادتِ باسعادت
















