بعض اصطلاحات اغراض و مقاصد کا ایک خاص پس منظر رکھتی ہیں، “ابراہیمی مذاہب ” اور “معاہدہ ابراہیمی ” بھی ایسی ہی اصطلاحات ہیں جنہیں مخصوص سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
“ابراہیمی مذاہب ” کا لفظ بیسویں صدی میں استعمال کیا گیا جس سے مراد ایک خدا کو ماننے والے وہ مذاہب جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے چلے۔اس میں عموما تین بڑے الہامی مذاہب —–یہودیت، عیسائیت اور اسلام——کو محسوب کیا جاتا ہے، اس طرح ان تینوں مذاہب کو “ہندوستانی مذاہب ” ،”ایرانی مذاہب ” اور “مشرقی ایشیائی مذاہب ” سے الگ شناخت دی جاتی ہے۔(١) خاص طور سے نائن الیون(١١ ستمبر ٢٠٠١) کے بعد جب اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ بین المذاہب ہم آہنگی پیدا کی جائے تو “یہودی-نصرانی روایت” (Judeo-Christian tradition ) میں اسلام کا اضافہ کر کے “ابراہیمی مذاہب ” کی اصطلاح کو استعمال کیا گیا۔اس حوالے سے مغرب میں کئی کتابیں منظر عام پر آئیں، مثلا ٢٠٠٢ ء میں بروس فیلر Bruce Feiler) )کی کتاب “Abraham:A Journey to the heart of three faiths ” اپنے وقت کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب تھی۔اسی طرح مشہور زمانہ ٹائم میگزین نے ٣٠۔ستمبر ٢٠٠٢ کے سرورق پر حضرت ابراہیم کا عکس شائع کیااور اس میں ایک مضمون بعنوان “The legacy of Abraham ” شامل کر کے اسی بحث کو آگے بڑھایا۔ابتدا میں یہ ایک علمی بحث تھی لہذا بہائی اور دروز مذاہب کے بارے میں بھی یہ کہا گیا کہ انہیں بھی “ابراہیمی مذاہب ” میں محسوب کیا جانا چاہئے کیونکہ یہ دونوں مذاہب بھی ایک خدا کو ماننے والے ہیں اور حضرت ابراہیم کو جو اہمیت اور فضیلت یہودیت، نصرانیت اور اسلام میں حاصل ہے وہی اہمیت اور فضیلت انہیں دروزی اور بہائی مذاہب میں بھی حاصل ہے۔
تاہم رفتہ رفتہ یہ اصطلاح خاص سیاسی مقاصد کیلئے استعمال ہونے لگی، امریکی صدر بارک اوباما نے ٤ جون ٢٠٠٩ء کو قاہرہ میں تقریر کرتے ہوئے یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کو “ابراہیم کے بچے “(Children of Abraham ) قرار دیتے ہوئے اس امید کا اعادہ کیا کہ تینوں مذاہب باہمی رواداری کا مظاہرہ کریں گے۔رواں صدی کے آغاز میں “معاہدہ ابراہیمی ” کا سلسلہ شروع کیا گیا، اس دستاویز میں بھی “ابراہیمی مذاہب ” کا لفظ استعمال کیا گیا، اس کا ذکر آگے آئے گا۔
یہاں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ دعوٰی درست ہے؟ کیا یہودیت اور عیسائیت فی الواقع—–اپنی موجودہ ہیئیت میں—-ابراہیمی مذاہب ہیں؟ جہاں تک قرآن کریم کا تعلق ہے، یہ بات واضح ہو جانی چاہیے کہ ایسی اصطلاحات نہ قرآن میں مذکور ہیں نہ بائیبل میں۔قرآن دین ابراہیمی اور ملت ابراہیمی کا ذکرضرور کرتا ہے لیکن جن معنوں میں ابراہیمی مذاہب کی اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے، یہ تصور قرآنی نہیں ہے، یہ خالصتا سیاسی مقاصد کیلئے وضع کی گئی اصطلاح ہے۔
یہودی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پہلا یہودی کہتے ہیں(٢) جبکہ قرآن صراحتا کہتا ہے کہ ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ وہ “مسلم” تھے۔
(ابراہیم نہ یہودی تھا نہ نصرانی، بلکہ وہ تو ایک یکسو مسلم تھا، اور وہ ہر گز مشرکوں میں سے نہ تھا )(آل عمران:٦٧)
حضرت ابراہیم ہی نہیں بلکہ حضرات اسماعیل، اسحاق، یعقوب، موسی اور عیسی کوئی بھی نہ یہودی تھے نہ نصرانی۔
سورہ بقرہ میں ارشاد ہوتا ہے:”پھر کیا تمھارا کہنا یہ ہے کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور اولاد یعقوب سب کے سب یہودی تھے یا نصرانی تھے؟ کہو تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ؟(البقرہ: ١٤٠)
دلچسپ بات یہ ہے کہ خود توریت میں نہ انہیں یہودی کہا گیا ہے نہ ہی انجیل میں حضرت ابراہیم کے عیسائی ہونے کا قول موجود ہے۔
یہودیت اور نصرانیت دونوں بعد کی پیداوار ہیں۔یہودیت اپنے اس نام، مذہبی خصوصیات اور رسوم و قواعد کے ساتھ تیسری، چوتھی صدی قبل مسیح میں پیدا ہوئ، اور عیسائیت جن عقائد اور مخصوص مذہبی تصورات کا نام ہے وہ تو حضرت عیسی علیہ السلام کے بھی ایک مدت کے بعد وجود میں آئے ہیں۔
(اے اہل کتاب! تم ابراہیم کے بارے میں ہم سے کیوں جھگڑا کرتے ہو؟تورات اور انجیل تو ابراہیم کے بعد نازل ہوئی ہیں، پھر کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے؟)آل عمران: ٦٥)
بالفاظ دیگر یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ توریت اور انجیل ( اپنی ابتدائی اور اصلی صورت میں ) الہامی کتابیں تھیں اور ان کے ماننے والے بالترتیب یہودی اور عیسائی کہلاتے تھے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حضرت ابراہیم کا مذہب یہودیت یا نصرانیت تھا، چنانچہ “ابراہیمی مذاہب ” (Abrahamic Faith) میں نہ یہودیت شمار ہو سکتی ہے نہ ہی عیسائیت۔صرف محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیروکاروں نے ” مسلم ” نام اختیار کیا، یہ وہی نام ہے جو اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم کے لیے پسند کیا تھا۔رسول اللہ اور ان کے ماننے والوں کو حکم دیا گیا ہے :
“قائم ہو جاو اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر۔اللہ نے پہلے بھی تمھارا نام “مسلم ” رکھا تھا اور اس(قرآن)میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) (الحج:٧٨)
یہاں یہ عقدہ بھی حل ہوتا ہے کہ خود حضرت ابراہیم کے ماننے والوں کے لیے بھی “ابراہیمی ” کی اصطلاح استعمال نہیں ہوئی تھی بلکہ انہیں مسلم کہا گیا تھا۔ لہذا “ابراہیمی مذاہب ” ایک لایعنی اصطلاح ہے۔
فرانسیسی مستشرق لوئیس ماسینون(Louis Massignon ) (٣) لکھتے ہیں:” قرآن میں “دین ابراہیمی ” کا لفظ استعمال ہوا ہے، اسی کے جمع کا صیغہ “مذاہب ابراہیمی ” ہے، جس کا مطلب ہے کہ تینوں مذاہب ایک ہی روحانی سرچشمے سے وجود میں آئے ہیں “(٤)
یہاں فاضل مستشرق اس فرق کو ملحوظ نہیں رکھ پائے جو “دین ” اور “مذہب ” کے درمیان ہے۔ یوں ایک زبردستی کا ارتباط پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر اس قسم کا اشتراک ممکن ہوتا تو ہجرت مدینہ کے بعد یہود و نصارٰی سے کر لیا جاتا، لیکن ہجرت کے دوسرے ہی سال تحویل قبلہ کے ذریعے اسلام کا امتیاز قائم کر دیا گیا، کسی نبی کی نسل سے ہونے یا کسی آسمانی کتاب پر ایمان رکھنے یا انبیاء میں سے کسی جلیل القدر نبی کو ماننے جیسے تمام ما بہ الاشتراک امور کو اتحاد کی بنیاد بنانے کی نفی کر دی گئی۔
معاہدہ ابراہیمی کے پیچھے بھی یہی زبردستی کی سوچ کارفرما ہے،اس کا سیدھا سیدھا مطلب “عظیم تر اسرائیل ” کے منصوبے کی طرف پیش رفت ہے۔اگر ابراہیمی مذاہب کا نعرہ متعارف کرا کے یہ مقصد حاصل کرنا مقصود ہے کہ مسلمان، عیسائی اور یہودی بھائی بھائی ہیں، یا دو بھائیوں کی نسل ہیں جنہیں امن و آشتی سے رہنا چاہیے تو معاہدہ ابراہیمی سے بھی پہلے یہ مطالبہ ہونا چاہیے کہ “بڑا بھائی ” (یہودی ) “چھوٹے بھائی “(فلسطینی مسلمانوں ) کی جن زمینوں پر قابض ہے اس سے دستبردار ہو جائے۔
معاہدہ ابراہیمی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یہودی داماد اور مشیر جیرڈ کشنر(Jared Kushner ) کے دماغ کی اختراع معلوم ہوتی ہے تاکہ اس معاہدہ کے ذریعے عرب ممالک سےاسرائیل کے تعلقات کو معمول پر لایا جا سکے۔
یہ معاہدات کا ایک سلسلہ ہے جس کا مقصداسرائیل اور عرب ریاستوں کے مابین معمول کے تعلقات قائم کرنا ہے،اس کا آغاز بحرین اور متحدہ عرب امارات سے کیا گیا اور ١٥ ستمبر ٢٠٢٠ کو ان دونوں ممالک نے اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم کر لیئے۔دسمبر ٢٠٢٠ کو مراکو اور جنوری ٢٠٢١ میں سوڈان بھی معاہدہ ابراہیمی سے منسلک ہو گئے۔
اس سلسلہ معاہدات سے قبل جن عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات تھے ان میں ایک مصر ہے، جس کے ساتھ اسرائیل کا معاہدہ ١٧۔ستمبر ١٩٧٨ میں ہوا، یہ کیمپ ڈیوڈ ایگریمنٹ کہلاتا ہے، دوسرا ملک اردن ہےجس کا اسرائیل کے ساتھ ایک امن معاہدہ ١٩٩٤ میں ہوا ۔
اب ٹرمپ کے دوسرے دور اقتدار میں یہ مانا جا رہا ہے کہ امریکی صدر اسی معاہدہ ابراہیمی کے تحت دیگر ممالک مثلا سعودی عرب، قطر،شام اور لبنان کو بھی لانا چاہتے ہیں تاکہ خطے میں اسرائیل کا کوئی مخالف نہ رہے۔دوسری مدت کے لیے اپنی صدارت سنبھالنے کے بعد شرق اوسط کا دورہ کرنے میں سعودی عرب کو ترجیح دینا اور جولانی سے ملاقات کر کے شام پر سے پابندیوں کا خاتمہ کرنا، اسی سمت اشارا کر رہے ہیں۔
معاہدہ ابراہیمی کے تحت اسرائیل سے اپنے تعلقات معمول پر لانے کے عوض ہر ملک کو امریکا نے کچھ نہ کچھ “عطا ” کیا ہے۔مثلا مراکو کے کیس میں یہ طے ہوا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات نارملائز کرنے کے عوض مغربی صحارا پر مراکو کا دعوٰی تسلیم کر لیا جائے گا۔ سوڈان کے معاملے میں یہ طے ہوا کہ سوڈان کو دہشت گرد ممالک کی فہرست سے نکال دیا جائے گا اور اسے عالمی اقتصادی تعاون بھی فراہم کیا جائے گا۔تاہم سوڈان میں اس معاہدے کے ردعمل شدید عوامی غم و غصہ دیکھنے میں آیا، اس کی وجہ سے سوڈانی فوج بھی دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی، ایک دھڑا وہ جو معاہدہ ابراہیمی کے حق میں حکومت وقت کے ساتھ تھا، جبکہ دوسرا فوجی دھڑا اس کے خلاف تھا۔دونوں فوجی گروہوں میں لڑائیوں کی وجہ معاہدہ پر دستخط کا معاملہ ٹلتا رہا تھا۔
جو ممالک معاہدہ ابراہیمی کے دستخط کنندہ ہیں، ان حکمرانوں نے یہ فیصلہ اپنے عوام کی رضامندی سے نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب ابھی تک اس معاہدہ میں شامل نہیں ہوا کیونکہ وہاں ٩٠ فیصد سے زائد عوام اسرائیل سے تعلقات رکھنے کے خلاف ہیں، لیکن عرب ریاستیں امریکا کے دباو کی وجہ سے یہ قدم اٹھا رہی ہیں۔
عرب ممالک میں اس کے مظہر بھی نظر آنے لگے ہیں مثلا دبئی نے باقاعدہ چرچ، مسجد اور سیناگوگ کو ایک ساتھ تعمیر کرانے کا پروگرام ٢٠١٩ میں شروع کرا دیا تھا۔
رابطہ عالم اسلامی(سعودی ) کے سکریٹری جنرل محمد بن کرہم العیسی سے لے کر ڈاکٹر طاہر القادری تک اپنے بیانات کے ذریعے “ابراہیمی مذاہب ” کی اصطلاح کو کسی نہ کسی شکل میں تعاون فراہم کر رہے ہیں۔وہیں
مسلم دنیا میں اس کے خلاف اٹھنے والی آوازیں بھی کم نہیں۔جامعہ ازھر کے شیخ احمدالطیب اور کویت کے مشہور مذہبی رہنما عثمان الخمیس اس اصطلاح کے شدید ناقد ہیں۔
حواشی:
)١( Brague, Remi, ‘The Concept of the Abrahamic Religions, Problems and Pitfalls, The Oxford handbook of the Abrahamic Religion (2015; online edn, Oxford Academic)
)٢(Charles Praston, ‘Abrahamic Religions’ www.britanica.com
(٣) فرانسیسی کیتھولک مستشرق لوئیس ماسینون ٢٥ جولائی ١٨٨٣ کو پیدا ہوئے اور ٣١اکتوبر ١٩٦٢ کو پیرس میں انتقال کیا۔یہ مسلم- کیتھولک باہمی مفاہمت کے بڑے علمبردار تھے۔
)٤( Massignon, L, (1949) “The Three Prayers of Abraham, father of all believers’ P.20-23
ابراہیمی مذاہب اور معاہدہ ابراہیمی کی حقیقت
















