Advertisement

بنگلہ دیش الیکشن، بھارت اور پاکستان میں ٹینشن

بارہ فروری کو اِنتخاب بنگلہ دیش میں ہوا ہے مگر اس کی گھبراہٹ کی بازگشت بھارت اورپاکستان میں سنائی دےرہی ہے۔ بھارت کی بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ اس کے پندرہ سالہ غلبے اور پچپن سالہ محنت کا صفایا ہوگیا ہے،اسے شیخ حسینہ کے اقتدار کے خاتمے کا قلق تو تھا ہی لیکن جس جماعت کو کچل کر مسل کر پھینک دینے کے لئیے بھارتی ریاستی مشینری برسوں سے دن رات سرگرم تھی وہی جماعت اسلامی الیکشن میں ابھر کر سامنے آرہی تھی پوری انتخابی مہم میں بھی بھارتی تجزیہ نگاروں کا نشانہ محض جماعت اسلامی ہی تھی،اور ان کا کہنا تھا کہ پوری تحریک دراصل جماعت اسلامی نے چلائی اور حسینہ کا تختہ بھی اسی نے الٹا ہے۔
پھر جب انتخابات کا اعلان ہوا جماعت اسلامی بھرپور انتخابی مہم کے تحت میدان میں ابھری تو ان ہی پاکستان دشمن بھارت تجزیہ نگاروں کو عشروں سے بری لگنے والی بی این پی سے ہمدردی ہوگئی، پاکستانی جرنیل کی بیوی خالدہ ضیا کے انتقال کو ہمدردی سمیٹنے کا بہانہ بنایا اور اچانک ازلی دشمن پاکستان کی فوج کے ایک جرنیل کے بیٹے طارق رحمان کو وزیر اعظم بنگلا دیش بنوانے پر کمر بستہ ہوگئے، ان کا خیال تھا کہ ہم نے جماعت اسلامی کو حسینہ واجد کی مدد سے ختم کردیا ہے اور الیکشن میں بھی ایک دو سیٹوں سے زیادہ نہیں لے سکے گی لیکن سیاسی سرگرمیاں شروع ہوتے ہی انہیں ،بلکہ ساری دنیا کو اندازا ہوگیا کہ جماعت اسلامی ختم نہیں ہوئی مزید مضبوط ہوگئی ہے ،اس کے بعد انتخابی عملے اور سول سروسز میں موجود حسینہ کی باقیات نے پوری جانفشانی سے کام کیا اور جہاں موقع ملا انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوئے،اس کے نتیجے میں تقریبا پچاس نشستوں پر جماعت اسلامی نہایت قلیل ووٹوں کے فرق سے ہارگئی یا ہروادی گئی، اس کا اندازا نہیں کہ پاکستان کہ طرح آرٹی ایس بٹھانے یا فارم 47 کے معاملے میں بنگلا دیش کتنا آگے ہے لیکن جماعت اسلامی نے حیرت انگیز طور پر 77 نشستیں حاصل کرلیں ،بھارتی میڈیا، ان کو چلانے والی ایجنسیاں اور نام نہاد تجزیہ نگار بھی بھونچکے رہ گئے۔ان کو خطرہ ہوا کہ جماعت اسلامی حکومت میں شامل نہ ہوجائے،کہیں ایسا نہ ہوجائے کہیں ویسا نہ ہوجائے ۔لیکن جماعت اسلامی کی قیادت نے نہایت ٹھوس انداز میں پورے تحمل سے نتائج کا تجزیہ کیا اور نہایت محتاط انداز میں صرف 30 حلقوں کے نتائج رکوانے، حلف بردای رکوانے اور دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ جماعت کو پچاس سے زیادہ نشستوں پر بے ضابطگیوں کی شکایت ہے،تاہم ان 30 نشستوں پر ٹھوس ثبوت ہیں اور فرق بھی بہت کم ہے۔
ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے:
O جماعت اسلامی کی اکیاون نشستیں ایسی ہیں جہاں چار سے پانچ سو ووٹ سے جماعت اسلامی کے مقابلے میں بی این پی کو برتری حاصل ہوئی۔
O جماعت اسلامی کو جن اکیاون نشستوں میں انتہائی قلیل ووٹوں سے کامیابی نہ مل سکی اُس کا بڑی ذمہ داری وہاں کی مذہبی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے،بنگلہ میں مدارس کا ایک جال بچھا ہوا ہے ،ان مدارس کی نمائندہ تنظیموں نے الگ حیثیت سے انتخاب میں حصہ لیا۔جیسے اسلامی اندولن بنگلہ دیش نے 253نشستوں پر امیدوار اتارے لیکن صرف ایک امیدوار کامیاب ہوسکا۔اسی طرح فرائضی اندولن ،ذاکر پارٹی نے بھی سینکڑوں کی تعداد میں امیدوار کھڑے کیے لیکن کہیں ایک نشست پر کامیابی ممکن نہ ہوئی۔
O حفاظت اسلام بنگلہ دیش ،بنگلہ دیش نظام اسلام پارٹی جیسی جماعتوں نے بی این پی کی کھل کر حمایت کی ۔ اسی طرح حسینہ واجد کے دور اقتدار میں بنگلہ دیش کے ہر ادارے میں تھوک کے حساب سے لوگوں کو بھرتی کیا گیا ،بیوروکریسی میں لایا گیا ، جو الیکشن میں حرکت میں لائے گئے، اس پوری صورتحال میں جماعت کا شاندار طریقے سے ابھرنا معمولی بات نہیں۔
یہاں ایک سوال یہ بھی ہے کہ جماعت اسلامی نے اب تک کیا ثمرات سمیٹے۔ جماعت اسلامی اپنی مہم کے زریعے اور بیانیے کی بنیاد پر 18سے 77نشستوں تک پہنچ گئی اور 51نشستوں پر معمولی فرق سے ہاری،جماعت اسلامی نوجوانوں کی مقبول ترین جماعت بن گئی ہے۔ جماعت اسلامی نے پابندی کے بعد پھر سے اپنی تنظیم کو وسعت دی اور مضبوط کیا۔ بنگلہ دیش جماعت اسلامی نے دنیا بھر کی تحریکوں کو امیدکی کرن دکھائی ۔بنگلہ دیش کا معاملہ تو دو قومی نظریے سے جڑا ہے ،ہم پاکستانی اس لیے بھی بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کو سپورٹ کرتے ہیں کہ وہ دو قومی نظریہ کے محافظ ہیں، لیکن یہاں کے لبرلز کہتے ہیں کسی صورت رائٹ ونگ قبول نہیں بے شک بھارت نواز لوگ ہی اقتدار میں کیوں نہ آئیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ لوگ بھی نہیں آئے۔ان لبرلز اور دین بیزار لوگوں کو تو سمجھ ہی میں نہیں آرہا کہ بات کیا کریں، اب ذرا تصور کریں کہ پاکستان میں سیکیولرزم اور لِبرلزم کے سیاسی بیانیے کا کیا حال ہوگا۔اسی طرح بنگلہ دیش میں جَماعَتِ اِسلامی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت پاکستان کے کچھ حلقوں کے لیے بے چینی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ الٹے سیدھے تجزئیے کیے جارہے ہیں،یہاں تک کہ جماعت کے ہمدردوں کا وہ گروہ بھی جو خود مذمتی میں واٹس اپ گروپوں میں ماہر ہے اور اس خود مذمتی کی بحث میں چسکے لیتا ہے اسے بھی یہ بیانیہ دیا گیا کہ اب فارم 47اور دھاندلی کے روایتی الزام لگیں گے دھرنے ہونگے اور ٹائیں ٹائیں فش، لیکن جماعت اسلامی بنگلا دیش نے سیکولر، لبرزکی طرح ایسے واٹس ایپی دانشوروں کو بھی مایوس کردیا اور نہایت ٹھوس موقف کے ساتھ صرف 30 نشستوں کو قانون کے دائرے میں چیلنج کیا ہے، جماعت اسلامی بنگلادیش نے خطے کی تمام تحریکوں خصوصا جماعت اسلامی پاکستان کے لیے بھی واضح اشارے چھوڑے ہیں کہ سیاسی لائحہ عمل کو کیسے آگے بڑھایا جائے اور میدان کیسے ہاتھ میں رکھا جائے ، اس کی روداد ابتلا مصر کے اخوان اور فلسطین کے مجاہدوں سے کم نہیں بلکہ بعض معاملات میں تو اگے ہی ہے، ہاں ، اس سارے عمل میں جماعت اسلامی بنگلا دیش کے طرزعمل اور رویوں میں سید مودودی کی فکر، روئیے، لٹریچر سے وابستگی، حکمت عملی اور دانش بہت واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے اور یہی سیکھنے کی چیز ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: