مارچ میں ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے فورا بعد ہم نے لکھا تھا
“”پھر نئی جنگیں ، فلسطین پھر غائب””
اور اب آپ کے سامنے آچکا کہ یہ ساری حرکتیں مسئلہ فلسطین کو پس پشت ڈالنے کے لئے کی جاتی ہیں ، اکتوبر 2024 میں جب حماس نے اسرائیل کے خلاف کارروائی کی اس کے بعد سے مسئلہ فلسطین بہت زیادہ اجاگر ہوا اسرائیل کے ہر حملے پر لوگ فلسطین کو یاد کرتے تھے، اسوقت بھی اسرائیل کی کوشش تھی کہ فلسطین کا مسئلہ غائب کردیا جائے ، اسی لئیے پہلے بھی ایران پر حملہ کیا گیا، حزب اللہ اور لبنان پر حملے کئیے گئے، اور ایپسٹین فائلز کے بعد تو ٹرمپ اور بدعنوانی کے مقدمات میں الجھا ہوا نیتن یاہو چاہتے تھے کہ فلسطین میں ان کی بدمعاشی کو لوگ بھول جائیں، چنانچہ ایران پر حملے کردئیے گئے، لیکن ایران کا ردعمل ان کے لئیے غیر متوقع تھا تاہم ان کا مقصد اس سے بھی حل ہورہا تھا، پہلے حالات گرم کئیے گئے ایٹم بم مارنے تک کی بات کرکے مذاکرات کا ڈراما کیا گیا ،
اس لڑائی میں پہلے تو ایران نے امریکا کے اتحادیوں پر حملے کئیے، کوشش کی گئی کہ سب لپیٹ میں آجائیں، ناکامی پر یہ بحث چھیڑی گئی کہ ایران کو پڑوسیوں اور شہریوں کو نشانہ نہیں بنانا چاہئیے تھا،ساری بحث چھوڑ کر دیکھیں کہ اصل کھیل کیا ہورہا ہے ۔
سب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ ایران پر حملہ کیوں کیاگیا،بلکہ افغانستان اور پاکستان میں کشیدگی کیوں ہے ؟ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل بھی کرلے تو امریکا کا کچھ نہیں بگڑے گا،اسی طرح افغانستان اور پاکستان کی لڑائی سےپاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، البتہ ان دونوں جنگوں کا فائدہ اسرائیل اور امریکا کو ہوگا بلکہ
ہورہا ہے اور فائدہ یہ ہے کہ دنیا کی دو بدمعاش اور غیر ذمہ دارترین ریاستیں امریکا اور اسرائیل اب مصلح بن گئی ہیں۔ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات میں بھی فلسطین کہیں نہیں تھا ۔خود ایران کے دس مطالبات کا آخری یعنی دسواں نکتہ علاقائی سطح پر مکمل جنگ بندی، بشمول غزہ و لبنان، تھا، امریکی شرائط میں تو ظاہر ہے ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔
تو پھر اسرائیل کو نابود ہوجانا چاہئیے، والے حکم یا نعرےکا کیا ہوگا؟؟
فلسطین سے اسرائیل کے انخلا کا مطالبہ کہاں گیا ،غزہ کی ناکا بندی ختم کرنے اور وہاں پر مظالم پر نیتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دینے کا مطالبہ کہاں گیا ؟
لہٰذا اس حملے،جوابی کارروائیوں اور مذاکرات سے کس نے کیا کھویا کیا پایا اس کا تجزیہ ہونا چاہئیے۔
اس ساری لڑائی کے پیچھے اسرائیل اور امریکا کے یہ دو حکمران ہیں دنیا میں نئے نئے محاذ کھولنے میں ان کا مفاد ہے ،جتنے محاذ کھلیں گے ان کے پرانے جرائم پر نیا پردہ پڑتا جائے گا،ذرا غور کریں آج کوئی امریکا کے ویتنام، عراق، افغانستان پر حملوں کی بات نہیں کررہا،ان ممالک میں امریکا کے ہاتھوں انسانی حقوق، جنگی جرائم اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کا ذکر نہیں کیا جارہا،۔کیونکہ پوری دنیا کا بکاو میڈیا ایران امریکا تنازع کو امریکی جارحیت کہنے کے بجائے اسے جنگ کہہ رہا ہے،بالکل اسی طرح دنیا بھر سے لاکر فلسطین میں بسائے گئے یہودیوں کے ذریعہ فلسطینیوں کے ملک میں اسرائیل کاقیام عمل میں لایا گیا ۔اس قبضے کو سچا ثابت کرنے کے لئیے پےدرپےحملے اور قبضے کئیے گئے پہلے گولان کی پہاڑیوں کا جھگڑا پھر عرب اسرائیل جنگ ،پھر غزہ اور اریحا میں فلسطینی ریاست بنادی گئی، فلسطین پر قبضہ گول ہوگیا ۔اب ایک بار پھر نیتن یاہو نے ایران کا محاذ کھولنے پر اصرار کیا، ایک نئی لڑائی شروع کروادی ،اب اسرائیل کا ناجائز قیام موضوع نہیں رہا ،فلسطینیوں کی نسل کشی موضوع نہیں ہے، جبری بے دخلی، نئی یہودی بستیوں پر کوئی احتجاج نہیں ،غزہ کے طویل ترین محاصرے پر بات نہیں ہورہی، اب ایران امریکا جنگ کی بات ہورہی ہے۔ ان دو ممالک کو اس نئی صورتحال سے بہت فائدہ ہوا ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ یہ ایران کی فتح ہے کہ امریکا اس سے مذاکرات پر مجبور ہوگیا ہے۔ یہ اس اعتبار سے تو درست ہے کہ امریکی صدر جو ایران کو مکمل تباہ کرنے کی بات کررہا تھا وہ مذاکرات پر آمادہ ہوگیا ہے ،لیکن ان تین میں سب سے بڑی کامیابی صہیونیوں کی ہوئی ہے کہ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کے اداروں اور دنیا بھر کے عوام کے مطالبات اور خواہشات کے برعکس
فلسطینیوں کا مسئلہ کہیں نہیں اٹھایا جارہا ہے، بلکہ صرف جنگ بندی،ایران کے ایٹمی عزائم اور آبنائے ہرمز کی باتیں ہورہی ہیں۔ غزہ میں ہزاروں فلسطینی بچوں عورتوں اور مردوں کا قتل کوئی اہم واقعہ نہیں ہے ،دنیا کو پیٹرول نہیں ملا یا کم ملا تو کیا ہوگا، بس اسی کو اصل مسئلہ سمجھو اور اسرائیل کی خواہش بھی یہی ہے کہ اگلے مسائل کی بات کرو، جوکچھ ہم ہڑپ کرچکے اس کی بات نہ کرو، اور اس کام میں اقوام متحدہ سمیت تمام ادارے سہولت کار ہیں۔
دوسری طرف بلا شبہ پاکستان کا نام ہر ملک کے سربراہ کی زبان پر ہے،واہ واہ بھی ہورہی ہے ، لیکن غور کرنے کا مقام ہے کہ پاکستان کی اس واہ واہ سے ملک کا طویل مدت فائدہ کیاہے۔ فوری فائدہ تو “واہ واہ “ہے ،دنیا میں امن کے قیام کے لئیے سہولت کاری بڑا کام ہے لیکن اتنا بڑا نہیں کہ ملک کی قسمت بدل جائے،پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن ایسی ہے کہ پوری دنیا کو ہمیشہ پاکستان کی ضرورت پڑتی ہے۔جب افغانستان میں روس داخل ہوا تو اسے نکالنا پاکستان کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا، پھر طالبان کو اپنی جگہ سے ہلا کر امریکیوں کے لئیے فضا سازگار کرنا اور ان کو افغانستان میں بٹھانا بھی ہاکستان کے بغیر ناممکن تھا اسی طرح بیس سالہ جنگ کے بعد امریکا کو افغانستان سے نکالنا بھی پاکستان کے بغیر ناممکن تھا ،اتفاق سے ان تمام کاموں میں پاکستان کا مختصر مدت کا فائدہ تو ہوا لیکن ان سب مختصر فوائد کےمستقل نقصانات اب تک پاکستان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں،جنرل ضیاءالحق کے دور میں افغان مہاجرین کے ساتھ جوکچھ آیا آج تک اس سے جان نہیں چھوٹی۔ البتہ اس دور کی ایک اہم کامیابی ایٹمی پروگرام اور اسلحہ کی تیاری پر مسلسل کام جاری رہنا ہے، جس نے پاکستان کاوقار بلند کیا ہے۔ پھر جنرل مشرف کے ساتھ جوکچھ آیا وہ بھی چمٹا ہوا ہے، جنرل مشرف نے قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی سمیت ہزاروں پاکستانیوں کو فروخت کیا، کچھ کو امریکیوں نے خود چھور دیا اور کچھ کو دوسروں نے رہا کرایا لیکن 23 برس میں عافیہ نہیں آسکی ،امریکا افغانستان سے بھاگ گیا، لیکن جو کچھ چھوڑ کر گیا وہ آج بھی پاکستان کیلئے مصیبت ہے۔ حالیہ ایران امریکا مذاکرات اور اس تنازع سے چین نے بھی خاموشی سے فائدہ اٹھایا ہے، آبنائے ہرمزکھلنے سے امریکا کو تو فائدہ ہوگا لیکن چین کے قدم بھی مضبوط ہوئے ہیں ۔ ابنائے ہرمز سے چینی کرنسی میں ٹیکس دینے کا مطلب چین کا فائدہ اور ڈالر کا نقصان ہے۔ اب صورتحال یہ ہےکہ مذاکرات امریکا اور ایران میں ہوئے، واہ واہ پاکستان کی ہوئی، لیکن مذاکرات کے پہلے دور سے پاکستان کو کیا ملا ، اب دوسرا دور ہونے والا ہے، پاکستان اپنے ہاتھ پاؤں میں کیا بندھوانے جارہا ہے اس کا کسی کو علم نہیں۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ جب بھی کبھی ملبہ گرتا ہے تو کمزور لوگوں اور ممالک پر گرتا ہے ۔پاکستانی قیادت اپنی واہ واہ پر تو خوش ہورہی ہے لیکن ذراسی بداحتیاطی پاکستان کے لئیے مستقبل میں کئی مسائل کھڑے کرسکتی ہے، آج بھارت مذاکرات سے دور ہے ہم خوشیاں منارہے ہیں،، لیکن کل کوئی خرابی، معاہدے کی خلاف ورزی یا دھوکا دہی ہوئی تو ملبہ پاکستان پر گرے گا۔ابھی بھارت اور افغانستان سے الجھے ہوئے ہیں، سعودی عرب سے معاہدے پر ایران کے اعتراضات ہوسکتے ہیں،تو کیا پاکستان کو ایران سے بھی لڑنا پڑے گا؟لہٰذا ٰذرا سنبھل کے چلیں۔
فلسطین پھر غائب
















