Advertisement

پاکستانی طبی عملے کے لیے سعودی عرب میں مواقع

پاکستان قونصل جنرل سید مصطفی ربانی کی سربراہی میں قونصلیٹ جدہ میں وزارت محنت پاکستان کی کوششوں سے پاکستانی طبی ماہرین کے لیے سعودی عرب میں روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے جس کے تحت۔ وزارت اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ (او ای سی)، حکومت پاکستان اور سعودی عرب کی معروف طبی ادارہ Middle East Healthcare Company کے درمیان ایک مفاہمتی یاد داشت پر دستخط ہوئے حکومت پاکستان کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان کے قونصل جنرل جدہ نے کیے۔

اس معاہدے کا مقصد سعودی عرب میں پاکستانی ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی شعبوں سے وابستہ پیشہ ور افراد کی بھرتی اور تعیناتی کے حوالے سے تعاون کو فروغ دینا ہے۔

اس موقع پر قونصل جنرل نے کہا کہ پاکستان کے پاس اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار طبی افرادی قوت موجود ہے، جو عالمی معیار کے مطابق خدمات انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس شراکت داری سے پاکستانی طبی ماہرین کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھلیں گے اور پاکستان و سعودی عرب کے درمیان اقتصادی اور عوامی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔

مڈل ایسٹ ہیلتھ کیئر کمپنی خطے کے نمایاں طبی اداروں میں شمار ہوتی ہے اور متعدد اسپتالوں و طبی مراکز کا کامیابی سے انتظام چلا رہی ہے۔ کمپنی اعلیٰ معیار کی طبی سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتی ہے۔ معاہدے کے تحت کمپنی اپنی بڑھتی ہوئی افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پاکستانی ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کی بھرتی کے امکانات کا جائزہ لے گی۔

یہ مفاہمتی یادداشت حکومت پاکستان کی جانب سے ہنر مند افرادی قوت کی برآمد، بیرون ملک روزگار کے مواقع میں اضافے اور زرمبادلہ کی آمد بڑھانے کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل قرار دی جا رہی ہے۔بات چیت کے نتیجے میں سعودی جرمن گروپ پاکستان میں دو نئے اسپتال قائم کرنے جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت سعودی جرمن گروپ میں تقریباً 500 پاکستانی ڈاکٹرز، نرسیں اور دیگر طبی عملہ خدمات انجام دے رہا ہے، جو دونوں برادر ممالک کے درمیان صحت کے شعبے میں مضبوط تعاون کا مظہر ہے۔قونصل جنرل جدہ کے ہمراہ بات چیت میں قونصل ویلفیئر زینب اسد اور سادیہ خان و یگر بھی موجود تھے۔

error: