Advertisement

فاران کلب میں ’سلام عافیہ مشاعرہ‘

عافیہ موومنٹ کے زیراہتمام ان کی ہمشیرہ ڈاکٹرفوزیہ صدیقی کی طرف سے ایک بزم مشاعرہ کااہتمام کیاگیا۔ اسے ’’ایک شام عافیہ کے نام‘‘سے منسوب کیاگیا۔یوں توعافیہ کی عجیب و غریب اورغیرانسانی حراست کی داستان عرصہ سے سنتے چلے آئے ہیں۔ ایک بے چارے الطاف شکوراسے اکثریاد دلاتے رہتے ہیں لیکن اس دعوت مشاعرہ سے علم ہواکہ اسے قیدبھگتتے تیئیس (23) سال ہوگئے ہیں۔ سنتے ہیں عمرقید چودہ (14)سال کی ہوتی ہے، یہ قیدتواس کی تقریباً دوگناہوگئی ہے اورنہ جانے ہمارے حکمرانوں کی بے حسی اورڈھٹائی کی بدولت نہ جانے کب تک چلے۔
؎ہمارے وزیراعظم صاحب نے اس پرتوکوئی توجہ نہیں کی لیکن امریکی صدرکونوبل پرائزکے لیے نامزدکردیا۔ وہی صدرجس کی شراکت میں اسرائیل اسلامی مملکت ایران اورملحق علاقوں پربم اور میزائل برسا رہاہے،ان کی نظرمیں نوبل انعام کامستحق ٹھہرا۔ ان کے بس میں ہوتاتو اسے اپنے اتحادی عہدیداروں کی طرح زندگی بھر کااستثنیٰ دے دیتے
ع
تومشقِ نازکر،خونِ دوعالم مری گردن پر
یہ بھی غنیمت ہے کہ ان کی نظر اپنے خاندان کے افراد پرنہ گئی ورنہ وہ اپنے بھائی،بیٹے اوربھتیجی کواس اعزازیعنی نوبل پرائز کا حق دار قرار دیتے ۔ انہوں نے تواتناکرم کیالیکن ہمارے صدر صاحب نے تواسی طرح کا حیرت ناک اقدام جوعوام کے لیے اذیت ناک کارنامہ انجام دیا۔ ابھی حال میں انہوں نے اپنے بیٹے کوکوئی قومی اعزازدیاہے۔یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہواہے۔ بیٹے کا ایک کارنامہ ہماری نظرسے گزرچکاہے جب انہوں نے فرمایا:’’بارش آتی ہے توپانی آتاہے،زیادہ بارش آتی ہے توزیادہ پانی آتاہے‘‘۔
بہر حال یہ تو برسبیل تذکرہ تھا،مشاعرے کاوقت ساڑھے آٹھ دیاگیاتھا،ہماری روایت بن گئی ہے کہ تقریب کی ابتداکاجووقت ذہن میں ہے اس سے ایک گھنٹہ قبل کاوقت دیا جائے، ذہنی کشمکش میں مبتلاتھے کہ حاضری کس وقت کی جائے۔عشاکی نماز تقریباًہرجگہ نوبجے اداکی جاتی ہے۔ اگر دیے ہوئے وقت پرمشاعرے کاآغازہوجاتاتوچندمنٹ بعدملحق مسجدسے نمازکی آوازاجتماع تک پہنچ جاتی(یاد رہے کہ مسجداورفاران کلب میں دیوار مشترک ہے)۔اگرایساہوتاتو کہاوت ’’مسجدکے زیرسایہ خرابات چاہیئے‘‘کی عملی تفسیرنظرآجاتی۔
اپنے حساب سے نوبجے گھرسے نکلنے کاارادہ کیا،ابھی ایک پیرمیں جوتاسمایاتھاکہبرادرمظفراعجازکافون آگیاکہاں ہو،ہم نے جواب دیابس نکل رہاہوں۔ ٹھیک سوانوبجے فاران کلب پہنچ گئے،گیٹ پرعافیہ رہائی موومنٹ کے سرکردہ رہنماالطاف شکور مہمانوں کے استقبال کے لیے موجود تھے، کوئی واقفیت نہیں تھی صرف ایک ظہرانے میں جہاں پندرہ افراد شریک تھے ملاقات صرف سلام تک محدودرہی۔انہوں نے اتنی گرمجوشی سے استقبال کیاکہ ہمیں اپنے وی آئی پی ہونے کااحساس جاگ گیا،ایک نوجوان سے کہاکہ انہیں اندرہال میں کرسیوں تک لے جائیں ۔ ہماری اپنی اعلیٰ حیثیت سے متعلق غلط فہمی جلددور ہوگئی جب دیکھاکہ وہ ہرآنے والے کااسی اندازسے استقبال کررہے ہیں۔
نوبج کربیس منٹ پرہال میں داخل ہوئے تومشاعرے کے آثارنظرآئے، صدرمشاعرہ انورشعوراورکئی شعراموجود تھے،ان میں فراست رضوی، خالدمعین ، اخترسعیدی ،عثمان جامعی اورناظم مشاعرہ خلیل اللہ فاروقی وغیرہ تشریف رکھتے تھے۔
مشاعرے سے قبل موجودشعراکوچائے پیش کی گئی۔ سامعین کوبھی اس سے نوازاگیا۔ دوران مشاعرہ پانی اور چائے ایک کارکن مہیّاکرتارہا۔
عافیہ صدیقی کی ہمشیرہ نے تقریرمیں پاکستان کے اہل اقتدارکی بے حسی کاذکرکیا۔انہی سے ہمیں یہ پتاچلاکہ عافیہ کی قید 86برس کی ہے۔ محسوس ہوتاہے کہ امریکی انتظامیہ ہندوؤں کے عقیدے آواگوان (دوسرے جنم)پریقین رکھتی ہے۔ تیس سال کی عمرمیں قیدہونے والی بقیہ سزادوسرے جنم ہی میں پوری کرسکتی ہے۔
مشاعرے میں عافیہ پرکچھ اشعار پیش کرنے کے بعددومزاحیہ شاعروں حکیم ناصف اورعلا الدین خانزادہ نے اپنامزاحیہ کلام پیش کیا جسے سامعین نے بے حدپسندکیا۔
مشاعرے میں ایک درجن سے زائدشاعروں نے کلام پیش کیا۔تقریباً سب نے ایک نظم یاچنداشعار میں عافیہ کی حبس بے جامیں قیدپر افسوس کااظہار کیا۔خانزادہ صاحب کے چنداشعار پیش خدمت ہیں ؎
استقامت کی ملکہ ،امام عافیہ۔۔حوصلہ بھی ہے تیراغلام عافیہ
کاش کہ تیری مددکرپاتامیں۔۔استقامت کوتیری سلام عافیہ
عثمان جامعی کا کلام بھی خوب تھا ؎
طاقتیں ریاستیں اوراکیلی عافیہ
دہشتیں،وحشتیں اوراکیلی عافیہ
ماں کی دکھ بھری صدا عرش کوہلائے گی
وہ ضمیرعصرکو ایک دن جگائے گی
ہے یقین عافیہ گھرکولوٹ آئے گی
سابق طالب علم رہنمااورجامعہ کراچی یونین کے دو مرتبہ کے صدرمحمودغزنوی نے غزل کے اندازمیں عافیہ پرنظم پیش کی ؎
وہ جوقیدمیں پیکرعزیمت ہے۔۔جبرکے اندھیروں میں صبر کی علامت ہے
سختیاں سلاسل کی سہہ رہی ہے وہ تنہا۔۔قیدکی فضاؤں میں رشک استقامت ہے
مشاعرے کے آؒخری دورمیں معروف شاعرخالدمعین کوزحمت کلام دی گئی۔ خالدمعین صاحب نہ صرف شاعری بلکہ نثرنگاری میں بھی اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔نثرمیں کئی کتابیں آچکی ہیں۔بدقسمتی سے ہماری پہنچ صرف ایک ’’رفاقتیں کیاکیا‘‘تک ہی رہی۔اپنے دوست احباب کے خاکے تحریرکیے ہیں۔ اس سے ہٹ کراپنی مرحومہ اہلیہ عصمت جوکینسر کا شکارہوگئیں اورہمشیرہ آسیہ جو گردہ کی بیماری کے سبب زندگی کی بازی ہارگئیں کے آخری دنوں کے کی رودادبہت جذباتی اندازمیں بیان کی ہیں۔
مشاعرے میں عافیہ صدیقی کی حراست ک حوالے سے تقریباً تمام شعرانے نظم یاچنداشعار پڑھے۔ان سب میں خالدمعین کی غزل کے اندازمیں نظم سب پرفوقیت رکھتی ہے ۔کتنے خوبصورت الفاظ میں طنزواستہزاکے نشتربرسائے ہیںکہ دل باغ باغ ہوجاتاہے ؎
کئی زمانوں کے فتنہ گرہواورایک عورت سے ڈررہے ہو
تم اپنی طاقت سے باخبرہواورایک عورت سے ڈررہے ہو
بہادرویہ کہاتھاتم نے کہ مردعورت الگ نہیں ہیں
کہنے سے اپنے مکررہے ہواورایک عورت سے ڈررہے ہو
منافقت کی یہ داستانیں دکھی دلوں پررقم رہیں گی
نظرسے دل سے اتررہے ہواورایک عورت سے ڈررہے ہو
سب سے آخرمیں صدر مشاعرہ انورشعورنے کلام سنایا، عافیہ کی حالت زار پر اشعار سن سن کر مضمحل سے ہوگئے تھے ایک قطع عافیہ پر سنایا اور کچھ اشعار سنائے۔ ناظم مشاعرہ انہیں ان کے اشعاریاد دلاتے رہے۔ چالیس سال قبل دبئی کے ایک مشاعرے میں ان کوکلام بھولتے دیکھاتھا۔ آج کل تو شعرااپنے موبائل فون پراپنی غزل یانظم لکھ کرلاتے ہیں تاکہ بھولنے سے چھٹکارہ ملے۔یااپنی شائع شدہ کتاب بھی لاتے ہیں۔ بہر حال صدر محترم نے یہ سب نہیں کیا۔
مشاعرے کے اختتام پرعشائیہ بھی دیاگیاتھا۔ عام طور پراس طرح کے عشائیہ میں ایک ڈش پیش کی جاتی ہے لیکن یہاں بہترانتظام تھا، بریانی کے ساتھ قورمہ بھی موجودتھا۔ میٹھے میں چھوٹے سائزکے گلاب جامن اورمختلف رنگوں کے چم چم بھی تھے۔بڑی حیرت ہوئی جب ایک صاحب کو دیکھاکہ انہوں نے بریانی اور قورمے کوچھوڑکربارہ یاچودہ مٹھائیاں اپنی پلیٹ میں ڈال لیں۔ انہوں نے اس سے پورا انصاف کیا۔ مزیدحیرت اس بات پرہوئی کہ ہماری طرح وہ بھی ذیابیطس (Diabetes)کے مریض تھے۔ان کودیکھ کرہم نے بھی ہمت کرناچاہی لیکن چار عدد گلاب جامن کے آگے جانے کا حوصلہ نہ کرسکے۔
منتظمین خصوصا ڈاکٹر عافیہ کی ہمشیرہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے یہ روایت پوری کی۔اس طرح رات بارہ بجے سے کچھ قبل یہ “شام “اختتام کوپہنچی۔

error: