یار، آج تم جو بھی ویب سائٹ .pk پر کھولتے ہو نا ، چاہے وہ https://www.daraz.pk ہو یا pakwheels.pk ہو، یا تمہارا اپنا blog.pk ، اس کے پیچھے ایک ایسے بندے کا دماغ ہے جس کا نام 99% پاکستانیوں نے کبھی نہیں سنا۔
نام ہے اشعر نثار
1989 کی بات ہے۔ انٹرنیٹ کا نام بھی کسی نے نہیں سنا تھا۔ UET لاہور سے ایک لڑکا پاس آؤٹ ہوتا ہے۔ امریکہ جاتا ہے، پڑھتا ہے، لیکن دل پاکستان میں ہی اٹکا رہتا ہے۔
1992 میں جب دنیا کہہ رہی تھی ’انٹرنیٹ ترقی یافتہ ملکوں کا کھلونا ہے‘، اس بندے نے کہا ’نہیں، پاکستان کا بھی اپنا انٹرنیٹ کا ایڈریس ہو گا‘ اور اکیلے بیٹھ کر .pk ڈومین رجسٹری بنا دی۔ نام رکھا PKNIC۔
مسئلہ کیا تھا؟
حکومت کو انٹرنیٹ کی سمجھ نہیں تھی۔ کوئی فنڈ نہیں، کوئی ٹیم نہیں، کوئی دفتر نہیں۔ اوپر سے دباؤ کہ ’یہ انٹرنیٹ-ورنیٹ چھوڑو، ملک کے اور مسئلے ہیں‘ لیکن یہ بندہ ڈٹا رہا۔
گھر کے ایک کمرے سے شروع کیا۔ خود کوڈ لکھتا، خود سرور چلاتا، خود شکایتیں سنتا۔ 90s میں جب کسی کی ای میل بند ہو جاتی تو لوگ عمران انور کو فون کرتے تھے اور عمران انور آگے اشعر نثار کو۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں انٹرنیٹ کے ’باپ‘ صرف 2-3 لوگ تھے۔ اشعر ان میں سے ایک تھا۔
آج نتیجہ کیا ہے؟
30 سال بعد، 5 لاکھ سے زیادہ .pk ویب سائٹس لائیو ہیں۔ ہر یوٹیوبر، ہر فری لانسر، ہر اسٹارٹ اپ جو ’ڈاٹ پی کے‘ لگاتا ہے، وہ انجانے میں اشعر نثار کے بنائے ہوئے سسٹم کو استعمال کر رہا ہے۔
اربوں روپے کی ای-کامرس انڈسٹری .pk پر کھڑی ہے، لیکن جس نے بنیاد رکھی، وہ نہ TV پر آتا ہے، نہ ایوارڈ لینے۔ آج بھی خاموشی سے PKNIC چلاتا ہے۔ کبھی تصویر تک نیٹ پر نہیں ملتی۔
اسے گمنام کیوں کہتے ہیں؟
کیونکہ ہم ہیرو اسے کہتے ہیں جو دھماکہ کرے۔ جو خاموشی سے پوری قوم کے لیے ڈیجیٹل شناخت بنا دے، اسے ہم بھول جاتے ہیں۔
عمران خان، عبدالقدیر خان کو سب جانتے ہیں، لیکن جس نے پاکستان کو انٹرنیٹ کا ’شناختی کارڈ‘ دیا، اس کا نام لینے والا کوئی نہیں۔
ٹیکنالوجی کی طاقت یہی ہے دوستو
یہ شور نہیں کرتی۔ یہ بس ایک بندے کو لیپ ٹاپ دے دیتی ہے اور وہ پوری قوم کا مستقبل کوڈ کر دیتا ہے۔
اشعر نثار نے کوئی ایٹم بم نہیں بنایا۔ اس نے اس سے زیادہ خطرناک چیز بنائی: موقع۔
اس .pk کی وجہ سے لاکھوں لوگوں نے آن لائن کاروبار شروع کیے۔ لاکھوں فری لانسرز نے ڈالر کمائے۔ اگر 1992 میں یہ بندہ ہمت ہار جاتا، تو آج ہم سب.com کے کرائے دار ہوتے۔
سبق کیا ملا؟
ہیرو وہ نہیں ہوتا جو سٹیج پر کھڑا ہو۔ ہیرو وہ ہوتا ہے جس کے کندھے پر سٹیج کھڑا ہو۔
اشعر نثار، عمران انور، ایلوی برادران ، یہ پاکستان کی IT انڈسٹری کے اصل باپ ہیں۔ ان کے بغیر نہ تمہاری فیس بک پوسٹ .pk پر رینک کرتی، نہ تمہارا دراز سٹور چلتا۔
اگلی بار جب کوئی .pk ویب سائٹ کھولو، تو ایک سیکنڈ کے لیے اس گمنام بندے کا شکریہ ادا کر دینا جس نے 1992 میں کہا تھا ’پاکستان کا بھی اپنا ڈومین ہو گا‘۔
پاکستان کا گمنام ہیرو اشعر نثار
















