Advertisement

پانی محفوظ، مستقبل محفوظ

پانی اللّہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔اس نعمت کی قدر کیجیے۔پانی میں ہر شے کی زندگی ہے۔ زمین پر زندگی کا دارومدار اسی پر ہے۔ اس کو ضائع کرنا ناشکری ہے۔ناشکرے انسان کی کہیں بھی قدر و قیمت نہیں ہوتی۔آئیے ہم اپنے خالق کے شکر گزار بندے بن کر رہیں۔انسانوں کی خیر خواہی اور بھلائی کے لیے کام کریں۔
پانی کی کمی نہیں ہے۔اللہ نے وافر مقدار میں اتارا ہے ۔ دنیا بھر میں بارشیں ہو رہی ہیں۔برف باری ہو رہی ہے۔جھیلیں بن رہی ہیں۔آبشار، ندی ، نالے اور دریا بہ رہے ہیں تاکہ ہم اپنی ضرورت ضرور پوری کریں ۔افسوس ہم سب پانی کو ضائع کر رہے ہیں۔پانی کو محفوظ کرنے کی برائے نام کوشش کر رہے ہیں۔
آج دنیا بھر میں پانی کی قلت ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ کیونکہ پانی کی تقسیم غیر منصفانہ ہے۔جس کے پاس میٹھے پانی کے منبع ہیں۔وہ سانپ بن کر بیٹھ گیا ہے یا اسے ندی ،نالوں اور دریاؤں کے ذریعے انسانوں کو سیلاب سے دوچار کرتے ہوئے ،سمندر میں ڈال رہا ہے۔
خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک میں زیرِ زمین پانی تیزی سے کم ہو رہا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم زمین سے جتنا پانی لیتے ہیں،اتنا پانی واپس نہیں لوٹاتے،نہ ہی اسے محفوظ کرنے کا انتظام کر رہے ہیں۔زبانی کلامی دعوے کرتے ہیں اور خیالی نقشے اور منصوبے بناتے ہیں۔کثیر سرمایہ خرچ ہو جاتا ہے۔عملاً کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔مفلس انسان سیلاب کی نذر ہوجاتے ہیں۔پانی اپنے گھر میں پہنچ جاتا ہے۔پانی سے محروم انسان محروم ہی رہتا ہے۔
بارش کا میٹھا اور قیمتی پانی ضائع ہو کر سمندر میں چلا جاتا ہے۔ اس کے ذمہ دار ہم انسان ہیں ،حیرت ہے کہ انسان ہی انسان کے ساتھ دشمنی کر رہا ہے۔
اس لیے وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ عوام اور حکومت مل کر پانی کو محفوظ کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔پانی کو محفوظ کرنے کے جو منصوبے بنائے جائیں۔انہیں مکمل کیا جائے۔ عوام حکومت کی اور حکومت عوام کی نگرانی کرےاور پانی جیسے قیمتی سرمائے کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔تاکہ انسانوں کے کام آئے۔
سب سے پہلے ہمیں بارش کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے تالاب، جوہڑ (قدرتی گڑھے) بنائے جائیں تاکہ بارش کا پانی ذخیرہ کیا جا سکے۔ دیہی علاقوں میں پہلے جوہڑ اور تالاب بنانے کی روایت موجود تھی، جس سے نہ صرف پانی محفوظ رہتا تھا بلکہ زیرِ زمین پانی کی سطح بھی برقرار رہتی تھی۔ اس ثقافت کو دوبارہ زندہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہر گاؤں کے چاروں طرف کم از کم چار چار کنال کے تالاب بنائے جائیں۔ جن میں سے دو میں بارش کا پانی اور دو میں استعمال شدہ پانی جمع ہو۔ان کے کناروں میں باڑ لگائی جائے اور پھل دار درخت لگائے جائیں،نیز ان میں مجھلیاں بھی پالی جا سکتی ہیں۔
اسی طرح ہر بیس کنال رقبے میں ایک کنآل کا تالاب بنایا جائے ،جس میں اس بیس کنال کے رقبے پر جوبارش کا پآنی نازل ہو،سیدھا اس تالاب میں جمع ہو جائے۔تالاب میں مچھلیوں کی افزائش ہو اور کنارے پر پھلدار درخت لگائے جائیں۔
اسی طرح ندیوں، نالوں اور دریاؤں کی صفائی اور کھدائی بھی ضروری ہے۔ جب ان کی گہرائی بڑھائی جائے گی تو پانی زیادہ مقدار میں محفوظ ہوگا اور سیلاب کے خطرات بھی کم ہوں گے۔ دریاؤں کی کھدائی اتنی گہری ہو کہ اس میں چھوٹے بحری جہاز یا بڑی کشتیاں چل سکیں، تاکہ عوام کی سفری سہولت کے لیے یہ لانچیں رواں دواں رہیں۔ دریاؤں کے کناروں کو مضبوط اور اونچا کیا جائے، دونوں طرف سڑکیں بنائی جائیں اور پھل دار درخت لگائے جائیں تو یہ نہ صرف ماحول کو خوبصورت بنائے گا بلکہ معیشت میں بھی بہتری لائے گا۔ مزید یہ کہ دریاؤں میں چھوٹی ٹربائنیں لگا کر بجلی بھی پیدا کی جا سکتی ہے، جو توانائی کے بحران کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
پانی کے ذخائر جیسے تالاب اور دریاؤں میں مچھلیاں پالنا بھی ایک بہترین عمل ہے۔ اس سے خوراک اور روزگار دونوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ مچھروں کی افزائش کو روکنے کے لیے مناسب انتظام بھی ضروری ہے تاکہ بیماریوں سے بچا جا سکے۔
ہم نے کتنا بڑا ظلم کیا ہے کہ مچھروں کی افزائش کو روکنے کے لیے پانی کے ذخائر کو بند کر دیا ہے۔چاہیے تو یہ تھا کہ ہم مچھروں کو مارنے کا انتظام کرتے، بیماریوں کو روکنے کے لیے ادویات بناتے۔حفاظتی انتظام کرتے۔
اشتہاروں پر رقم ضائع کرنے کے بجائے، اس سرمائے سے پانی کو محفوظ کرتے اور بیماریوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے حفظانِ صحت کے اصولوں کو اپناتے۔اچھی خوراک و ادویات کا انتظام کرتے۔
ایک اہم اصول یہ ہے کہ ہم زمین سے جتنا پانی حاصل کرتے ہیں، اتنا ہی پانی واپس زمین میں شامل کریں۔ اس کے لیے بارش کے پانی کو زمین میں جذب کرنے کے طریقے اپنانے چاہیے، جیسے کہ ری چارج کنویں اور کھلے میدانوں میں پانی کو جمع کرنا۔
ہر گھر میں کم از کم ایک پھل دار درخت لگانا بھی پانی کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ درخت نہ صرف ماحول کو ٹھنڈا رکھتے ہیں بلکہ بارش کے پانی کو زمین میں جذب کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ درخت آکسیجن خارج کرتے ہیں اور کاربن ڈائی اکسائیڈ جذب کرتے ہیں ۔جو جانداروں کے لیے نہایت اہم ہے۔
گھروں میں پھلدار درخت لگاتے وقت اسے مناسب گہرائی (تقریباً چار فٹ) میں لگایا جائے تاکہ فرش اور گھر کی دیواروں کو، درخت کی جڑیں نقصان نہ پہنچا سکیں۔ درخت لگاتے وقت کم از کم چار فٹ مکعب کا گڑھا بنایا جائے،جس کے چاروں طرف دیوار بنائی جائے یعنی اس کے ارد گرد مضبوط ساخت بنائی جائے تاکہ درخت کی جڑیں زمین کے اندر جائیں، پانی ضائع نہ ہو اور درخت بھی اچھی طرح نشوونما پا سکے۔درخت ہمیشہ پھلدار لگائے جائیں۔ ہر گھر میں متفرق ایک پھلدار درخت ہو،تو دس گھروں میں دس قسم کے پھل پیدا ہوں گے، اخوت و بھائی چارے کی فضا قائم رکھی جائے تو دس گھروں والے دس قسم کے پھل مفت میں کھا سکتے ہیں۔
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کی قلت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ایک اندازے کے مطابق آنے والے سالوں میں پاکستان کو شدید آبی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔ زمین کے اندر موجود پانی کا بڑا حصہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے،پانی زیر زمین نیچے ہی نیچے ہوتا جا رہا ہے جس سے زمین خشک اور بنجر بنتی جا رہی ہے۔کیونکہ ہم پانی کا بے دریغ واستعمال کر رہے ہیں۔
پانی کو محفوظ کرنے کے لیے چھوٹے چھوٹے ڈیم بنا جائیں۔ ان میں چھوٹی چھوٹی ٹربائنیں لگائی جائیں۔تاکہ بجلی کے بحران سے بھی نجات ملے۔ان ڈیموں سے نہریں نکالی جائیں تاکہ بنجر اور ویران زمین کو زرعی کاشت کے لیے کار آمد بنایا جا سکے اور ہم خوراک میں خود کفیل ہو سکیں۔
دنیا بھر میں تقریباً 70 فیصد پانی زراعت میں استعمال ہوتا ہے۔ پانی کو جدید طریقوں سے محفوظ کرنے اور استعمال کرنے کے اصولوں پر عمل کرنا لازم ہے۔تاکہ جنگلات اور ذرعی رقبہ بڑھے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پانی کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے آج سے اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں پانی کی ایک ایک بوند کو ترسیں گی۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم پانی کو ضائع ہونے سے بچائیں، اسے محفوظ کرنے کا ابھی سے انتظام شروع کر دیں اور ایک بہتر مستقبل کی بنیاد رکھیں۔
درخت اور پودے جہاں جہاں ہوں گے ،وہاں وہاں بارشیں بھی ہوں گی۔پاکستان کے ویران بنجر اور صحراؤں میں سب سے پہلے تھور اور کیکر کے بھیج اور قلمیں لگائیں جائیں نیز ان کو پانی دینے کا انتظام کرنے کا بندوبست کریں۔جب یہ جڑیں پکڑ لیں گے تو یہ خودبخود بڑھنا اور پھیلنا شروع ہو جائیں گے۔آپ دیکھیں چند سال بعد وہاں بارشیں بھی برسنا شروع ہو جائیں گی۔ دنیا میں کئی ملکوں یہ تجربہ کیا گیا ہے اور کامیاب بھی رہا۔
ہم پھل کھاتے اور بیج ضائع کر دیتے ہیں۔اگر ہم بیجوں کو خشک کر کے محفوظ کرتے جائیں۔این جی اوز اور حکومت مل کر ان بیجوں کو جمع کریں اور دریاؤں، ندی نالوں، سڑکوں،شاہراہوں کے کناروں میں اور ویرانوں میں بونے شروع کریں تو چند سالوں میں پھلوں کے حوالے سے ہمارا ملک خود کفیل ہوئے گا اور بیرونِ ملک بھیج کر منافع کما سکتے ہیں۔جس سے بے روز گاری میں کمی آئے گی۔ہمارے ملک میں جو آلودگی ہے وہ ختم ہو گی۔آگسیجن بھی وافر مقدار میں ملے کی۔ہماری صحت پہلے سے بہتر ہو گی۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ گائے اور بھینس پالیں۔اس طرح ہم دودھ، گوشت اور کھاد میں خود کفیل ہو جائیں گے۔
وہ کاشکار جو چاول کی فصل بوتے ہیں۔جنہیں پانی پورا ملتا ہے۔ انہیں چاہیے کہ اپنے کھیتوں میں چھوٹی مچھلیوں کی بھی افزائش کریں اور دہرا فائدہ اٹھائیں۔
کاشتکار فصلوں کی باقیات کو آگ نہ لگایا کریں، انہیں زمین میں دفنا دیا کریں،یہ کیمیائی کھادوں کے مقابلے بہترین کھاد ہے جو آپ کی فصلوں دُگنا کر دے گی۔
آخر میں پھر گزارش ہے پانی کو ضائع نہ کریں۔اسے زمین کو واپس دے کر اپنے لیے اور اپنی نسلوں کے یے محفوظ کیجیے۔

error: