جاپانی اخبارات میں میزوہو اومیمورا، کا ایک بیان شائع کیا گیا ہے، جو سانسےئتو پارٹی کی رہنما ہیں، انہوں نے اپنے بیان میں جاپان کے امیگریشن نظام پر شدید تنقید کی ہے ۔ ان کے مطابق غیر ملکی افراد کو شادی یا بچوں کے ذریعے قیام میں توسیع دینا ایک “بہت نرم” اور “خامیوں سے بھرپور” نظام کی نشاندہی کرتا ہے۔ اور یہ گنجائش بعض افراد کو مستقل قیام کے لیے “راستہ” فراہم کرنے کے مترادف ہے۔
جاپان میں اس بیان کے بعد ایک نئی بحث کا آغاز ہوا ہے ، ایک جانب امیگریشن کنٹرول کو سخت کرنے کے حامی افراد ہیں، اور دوسری جانب وہ لوگ ہیں جو اس خیال کو خاندانی حقوق اور انسانی وقار کے منافی تصور کرتے ہیں۔
ایک رائے یہ ہے کہ “امیگریشن” صرف سرحد پار کرنے کا معاملہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ انسانی رشتوں، معاشرتی استحکام اور ریاستی ضرورتوں کا نازک توازن ہے۔ جبکہ اومیمورا کے نقطہ نظرکی بنیاد نظام کے غلط استعمال کا خدشہ ہے۔
ویسے تو دنیا کے تقریباً ہر ملک میں یہ خدشہ پایا جاتا ہے، اور اسے یکسر رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مگر اس کے مخالفین کی دلیل یہ ہے کہ کیا محض اس خدشے کی بنیاد پر پورے نظام کو منہدم کر دینا درست ہوگا؟
ماہرین کی رائے میں اس حوالے سے چند بین الاقوامی تجربات سے استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔ جرمنی میں 2015 کے بعد مہاجرین کی بڑی تعداد کے باعث۔ ابتدا میں کئی خدشات ظاہر کیئے گئےتھے اور ایک بڑے سماجی دباؤ کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا تھا، لیکن جرمنی نے ایک منظم integration پالیسی کے ذریعے بہت سے مہاجرین کو معیشت کا حصہ بنالیا۔ بعینہ کینیڈا کا ماڈل بھی ایک اور کیس اسٹڈی ہے، جہاں امیگریشن کو خاندانی بنیادوں پر قبول کیا جاتا ہے، جس کی بنیاد یہ تصور ہے کہ مضبوط خاندان، مستحکم معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔
جاپان کو اس حوالے سے ایک خصوصی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ، تیزی سے بوڑھی ہوتی آبادی اور افرادی قوت کی کمی ایسی وجوہات ہیں جن کے تحت یہاں ٹیکنیکل انٹرن پروگرام جیسے اقدامات متعارف کروائے گئے۔
ایسی صورتحال میں کسی غیر ملکی کا یہاں خاندان بنانا سماج کا حصہ بننے کے مترادف ہے۔ بہت سے جاپانی ، خاندانی بنیاد پر قیام کی اجازت دینے کے عمل کو رعایت سے زیادہ بین الاقوامی اصولوں سے جڑا معاملہ سمجھتے ہیں اور اس کی بھرپور وکالت کرتے ہیں۔ دوسری جانب اومیمورا کے خدشات کو بھی مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ مشاہدے کی بات ہے کہ “شادی کے ذریعے امیگریشن” کا اکثرغلط استعمال بھی کیا جاتا رہا ہے ۔بین الاقوامی سطح پر برطانیہ اور امریکا جیسے ممالک نے اس حوالے سے سخت ویریفیکیشن سسٹمز متعارف کروائے ہیں تاکہ جعلی شادیوں کو روکا جا سکے۔
گویامسئلے کا حل مکمل پابندی نہیں بلکہ بہتر نگرانی و شفافیت ہے۔
سماجی اور عمرانی ماہرین کے مطابق جاپان کے موجودہ تناظر میں اصل سوال یہ ہونا چاہیئے کہ کیا وہ ایک بند معاشرہ رہنا چاہتا ہے یا ایک ایسا معاشرہ جو اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے نئے لوگوں کو اپنے اندر سمو سکے؟ جہاں معاشرتی توازن قائم رکھا جاسکے۔ جو صدیوں سے جاپانی معاشرے کا حسن ہے۔
جاپان کو محض ساکوک یا Era of isolation کے تناظر میں دیکھنا شاید منطقی نہ ہو، تاریخ میں کئی ایسے مواقع نظر آتے ہیں جب جاپان نے نہ صرف غیر ملکیوں کو قبول کیا بلکہ انہیں اپنے سماجی اور ریاستی ڈھانچے کا حصہ بھی بنایا، اور ان مثالوں سےآج بھی امیگریشن اور غیر ملکیوں کی قبولیت سے متعلق بحث کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
ان میں نمایاں اور قدیم ترین مثال ویلیئم ایڈمز کی ہے۔
یہ ایک انگریز ملاح تھا جو 1600 میں جاپان پہنچا اور بعد میں مشہور شوگن توکوگاوا ایئے یاسو کے قریب ہو گیا۔ ایڈمز کو جاپان میں نہ صرف رہنے کی اجازت ملی بلکہ سامورائی کا منصب بھی دیا گیا جو کسی بھی غیر ملکی کے لیے ایک غیر معمولی اعزاز تھا۔ ایڈمز نے جاپان ہی میں شادی کی اور عملی طور پر جاپانی معاشرے کا حصہ بنا۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ اس دور میں پیش آیا جب جاپان بیرونی دنیا کے حوالے سے محتاط تھا، اس کے باوجود ایک باصلاحیت غیر ملکی کو جاپان میں جگہ دی گئی۔
ہمیں دوسری بڑی مثال لف کادیو ہرن کی ملتی ہے۔ یہ صاحب جاپان میں کوئزومی یاکومو کے نام سے معروف ہیں،
19ویں صدی کے آخر میں جاپان آنے والے ہرن نے، نہ صرف یہاں شادی کی بلکہ جاپانی شہریت بھی اختیار کر لی۔ ہرن کو جاپانی معاشرے میں اس لیئے بھی احترام سے دیکھا جاتا ہے کہ انہوں نے جاپانی ثقافت، لوک کہانیوں اور معاشرت کو مغربی دنیا تک پہنچانے میں بڑا کردار ادا کیا۔یہی وجہ ہے کہ انہیں جاپان اور مغرب کے درمیان ایک ثقافتی پل سمجھا جاتا ہے۔
تیسری بڑی مثال جدید دور سے ہے، ماسایوکی اوتاکا جن کا اصل نام کونیشیکی ہے، ہوائی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ جاپان آکر، سومو ریسلنگ میں شہرت حاصل کی اور بعد میں جاپانی شہریت بھی اختیار کی، ہرچند کہ انہیں چند سماجی چیلنجز کا سامنا رہا، لیکن اس سے پتہ چلتا ہے کہ جاپان نے کھیل کے میدان میں غیر ملکیوں کو نہ صرف جگہ دی بلکہ انہیں قومی شناخت کا حصہ بننے کا موقع بھی فراہم کیا۔
ایسی ہی ایک اور مثال ماروتی کمار کی ہے، جو جنگ کے بعد جاپان میں آباد ہوا اور کاروباری و سماجی سطح پر اپنا مقام بنایا۔
ہمیں جاپانی معاشرے میں ہزاروں کورین نژاد افراد نظر آتے ہیں جنہیں “زائنیچی” کہا جاتا ہے ۔ یہ لوگ کئی نسلوں سے جاپان میں رہ رہے ہیں۔
البتہ یہ بات بھی مسلمہ ہے کہ جاپان نے غیر ملکیوں کو اندھا دھند قبول نہیں کیا، لیکن جہاں ثقافتی ہم آہنگی نظر آئی، وہاں دروازے بند بھی نہیں کیے۔
ہماری بحث میں بھی یہی نقطہ اہم ہے کہ جاپان کے اندر قبولیت کی گنجائش ہمیشہ موجود رہی ہے، بس اس کا دائرہ اور رفتار مختلف ادوار میں بدلتے رہے ہیں۔
یوں اگر دیکھا جائے تو آج کی امیگریشن بحث کوئی نئی چیز نہیں، بلکہ جاپان کی اسی پرانی کشمکش کا تسلسل ہے۔
جاپان میں غیر ملکیوں کے انضمام کا تنازع
















