جب سے ایران پر امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ ہوا ہے ، اُسی دن سے مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا ، دونوں پر ایک ہی بات ہورہی ہے کہ یہ حملہ کیسے ہوا ۔ ہر شخص اس بارے میں آسمان و زمین کے قلابے ملا رہا ہے ۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس میں غیروں کے کمال سے زیادہ اپنوں کی غداری کا دخل تھا ۔ جس طرح سے ٹیپو سلطان کو میدان میں شکست دینے میں ناکامی کے بعد میر صادق کی غداری نے کام دکھایا تھا ۔ مشہور عربی کہاوت ہے کہ اکیلی کلہاڑی کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی مگر جب اس میں لکڑی کا دستہ لگ جاتا ہے تو یہ جنگل کا جنگل کاٹ ڈالتی ہے ۔ کچھ ایسا ہی ایران میں ہوا ۔ اس غداری کے نتیجے میں ایک منٹ کے اندر اندر ایران کے سپریم کمانڈر سمیت اعلیٰ سطح کے 40 کمانڈروں کی شہادت ہوگئی جو معمولی بات نہیں ہے ۔ یہ سب کیسے ہوا سے زیادہ اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیوں ہوا ؟ ایران پر حملہ آخر کیوں ؟ جب ہم اس کیوں کے سوال کا جواب جان لیں گے تو ہمیں یہ جاننے میں آسانی ہوجائے گی کہ اس حملہ کے تخلیق کار چاہتے کیا ہیں ۔ آگے بڑھنے سے قبل ایک بات سمجھنے اور یاد کرنے کی ہے کہ جنگ ہمیشہ کسی بھی بڑے عظیم مقصد کا ایک چھوٹا حصہ ہوتی ہے ۔
اس سوال کاپہلا جواب تو کچھ ایسا ہی ملتا ہے جیسا کہ صدام حسین پر حملے کے لیے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا جھوٹ گھڑا گیا تھا ۔ یعنی ایران ایسے ہتھیار بنا رہا ہے جو اسرائیل اور امریکا کو تباہ کردیں گے ، ایران ایٹم بم بنانے کے نزدیک پہنچ گیا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ حالانکہ ابھی ایک برس قبل ہی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے ایران کی ایٹمی استعداد کو بالکل صفر کی سطح پر پہنچادیا ہے ۔
پہلے ان نکات کو دیکھتے ہیں ۔ ایران کی میزائل سازی کی ٹیکنالوجی شمالی کوریا سے بہت پیچھے ہے ۔ شمالی کوریا نے جو میزائل ابھی تک ٹیسٹ کیے ہیں وہ براہ راست امریکا کو نشانہ بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ ایران تو محض خطہ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی بات کرتا ہے مگر شمالی کوریا تو براہ راست امریکا پر حملہ کی بات کرتا ہے ۔ اس کے باوجود کبھی ٹرمپ نے میلی آنکھ سے بھی شمالی کوریا کی طرف دیکھنے کی زحمت نہیں کی ۔شمالی کوریا دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جن کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں ۔ رہی بات ایران میں یورینیم کی افزودگی کی تو ایران بہت پہلے سے ہی افزودگی کی صلاحیت کو کم ترین سطح پر لاچکا ہے جس کی تصدیق یورپی ممالک کے علاوہ عالمی ایٹمی کمیشن بھی کرچکا ہے ۔ تو اس طرح سے یہ الزامات نہ تو حقیقی ہیں اور نہ اس قابل کہ ان کی آڑ لے کر ایک آزاد ملک پر اس طرح حملہ کیا جائے کہ اس کے سپریم کمانڈر سمیت اعلیٰ سطحی فوجی قیادت کو ہی ختم کردیا جائے ۔ اگر ان ہی جوازات پر حملہ کرنا تھا تو ایران سے قبل شمالی کوریا پر کیا جاتا جس سے امریکا کو براہ راست خطرہ ہے ۔ ایران پر حملے کے لیے ٹرمپ نے جو جواز پیش کیے ہیں ، یہ اسی اسکرپٹ سے لیے گئے ہیں جو 2003 میں جارج بش کو عراق پر حملے کے لیے دیا گیا تھا ۔اس میں محض اتنا فرق ہے کہ عراق پر حملے کے لیے بش اور اس کی ٹیم کا بیانیہ ایک ہی تھا جبکہ ایران پر حملے کے وقت ٹرمپ کی اپنی بولی تھی اور اس کی ٹیم کی اپنی اپنی ۔ مثلا ٹرمپ کے خاص ساتھی اور نائب صدر جے ڈی وانس نے کہا کہ امریکا کا ایران میں حکومت کی تبدیلی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ، امریکا صرف ایران کی ایٹمی صلاحیت کا خاتمہ چاہتا ہے جبکہ ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ امریکا کا ہدف ایران کی حکومت کی تبدیلی ہے اور اس کے لیے Make Iran Great Again یا MIGA کا نعرہ پیش کیا ۔
یہ تو ہم دیکھ ہی چکے کہ زمینی حقائق ٹرمپ کے دعووں کے برعکس ہیں ۔ تو پھر پس پردہ حقائق کیا ہیں جسے ٹرمپ اور اس کے ساتھی پوری دنیا سے چھپانے کی کوشش کررہے ہیں ۔
کہا گیا کہ یہ ایران کے تیل پر قبضہ کی جنگ ہے تو یہ چیز ہم وینزویلا میں دیکھ چکے ہیں کہ وینزویلا کے تیل کے ذخائر امریکی حکومت یا عوام کے قبضے میں نہیں آئے ہیں اور نہ ہی اس سے امریکی خزانے کو کوئی فائدہ پہنچا ہے ۔ یہ براہ راست ملٹی نیشنل تیل کمپنیوں کے کنسورشیم کے قبضے میں آئے ہیں تو اسی طرح ایران کا تیل بھی ان ہی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے کنسورشیم کے پاس جائے گا اور اس سے امریکی عوام کو کوئی فائدہ نہیں ملے گا ۔
یہ تو ضمنی فوائد ہیں کہ جنگ کا آغاز ہوتے ہی دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں تیزی آگئی ہے جس کا مطلب تیل کمپنیوں کے منافع میں راتوں کئی گنا نہیں بلکہ exponential اضافہ ہوگا ۔ یہ ساری تیل کمپنیاں کسی ملک کی نہیں بلکہ عالمی سازش کاروں کی ملکیت ہیں ۔ خطہ میں جنگ ہوتے ہی بحری جہازوں اور ہوائی جہازوں کے ذریعے سفر کرنے والے افراد کے ٹکٹ اور سامان پر جنگی انشورنس کا اطلاق کردیا گیا ہے ۔ یہ انشورنس بھی ان ہی عالمی سازش کاروں کی کمپنیوں کو ہی جائے گا اور یوں یہ عالمی سازش کار اس طرح سے بھی راتوں رات اپنے سرمایہ کو مفت میں ضرب دے لیں گے ۔
جنگ کا مطلب اسلحہ ساز کمپنیوں کی لاٹری کھلنا ہوتا ہے ۔ امریکا اور یورپ میں یہ کمپنیاں قومی ملکیت میں نہیں ہیں بلکہ ان ہی عالمی سازش کاروں کی ملکیت ہیں ۔ یوں ان کا پرانا رکھا ہوا اسلحہ بھی منہ مانگی قیمت پر فوری فروخت ہوچکا ہے اور مزید کے آرڈر بھی موصول ہوچکے ہیں اور یہ کمپنیاں بھی ان ہی عالمی سازش کاروں کی ملکیت ہیں ۔ یوں یہ جنگ شروع کروانے والے کرداروں کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں اور سر کڑاہی میں ۔
اصل سوال اب بھی باقی ہے کہ ایران پر حملہ آخر کیوں ؟ کیا صرف یہی وجہ تھی کہ اس جنگ کے ذریعے یہ عالمی سازش کار اپنے سرمایہ کو ضرب دے سکیں ۔
کسی بھی ملک یا قوم پر حملے کا کبھی بھی کوئی اخلاقی یا قانونی جواز نہیں ہوتا ۔ وجہ کوئی بھی بیان کی جائے ، حملہ محض مفادات کے لیے کیا جاتا ہے ۔ امریکا کی صورت حال یہ ہے کہ اس کی ڈھائی سو سالہ تاریخ میں محض 21 برس ایسے گزرے ہیں جس میں یہ کسی جنگ میں ملوث نہیں تھا ۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان جنگوں کے اخراجات امریکی عوام کے ٹیکسوں سے ہی پورے کیے گئے ہیں ۔ جی ہاں یہ بالکل سو فیصد درست بات ہے کہ ان جنگوں سے امریکا میں موجود اسلحہ سازی کی صنعت کو عروج ملا ہے ۔ ان جنگوں کی بدولت ہی ان فیکٹریوں کو اپنی مصنوعات کی کارکردگی کو حقیقی میدان میں آزمانے کا موقع ملا ہے ۔ حقیقی میدان میں آزمائش کے بعد ہی ان کی فروخت ممکن ہوتی ہے ۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر جنگ کے نتیجے میں امریکی عوام کئی ٹریلین ڈالر کے مقروض ہوجاتے ہیں ۔ ان جنگوں کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ امریکا ایک ایسی قوم میں ڈھل چکا ہے جس سے پوری دنیا میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ نفرت کی جاتی ہے ۔
اب آپ یہ کہیں گے کہ امریکی اسلحہ کی پوری دنیا میں فروخت کی وجہ سے امریکا میں ڈالر بہہ کر امریکی خزانے میں پہنچے ۔ ایسا ہر گز نہیں ہے ۔ امریکا میں اسلحہ سازی ، طیارہ سازی سمیت کوئی بھی صنعت قومی ملکیت میں نہیں ہیں ۔ یہ ساری صنعتیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ملکیت میں ہیں اور یہ ساری کی ساری امریکا سے باہر جزائر میں رجسٹرڈ ہیں جس کی وجہ سے یہ اپنے کمائے گئے منافع کا کوئی ٹیکس بھی امریکا میں ادا نہیں کرتیں ۔ بس چند فیصد رائلٹی یا ملازمین کا انکم ٹیکس اور کچھ بھی نہیں ۔ امریکا بھی اپنی فوج کے لیے ان کمپنیوں سے اسلحہ اسی قیمت پر خریدتا ہے جس پر دیگر ممالک خریدتے ہیں ۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے پاکستان میں نکلنے والی قدرتی گیس پاکستانی حکومت ان کمپنیوں سے بین الاقوامی قیمت پر خریدتی ہے اور پھر اس پر گھروں پر پہنچانے کی لاگت اور مزید ٹیکس لگا کر عوام سے بل وصول کرتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان جنگوں میں خون دیا امریکی عوام نے ، لاگت برداشت کی امریکی عوام نے اور مزے کیے ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ۔ یہ صورتحال صرف امریکا تک محدود نہیں ہے بلکہ عمومی طور پر پوری دنیا کی ہے ۔ اب تو قومی فوج کی جگہ نجی کمپنیوں نے لے لی ہے ۔ امریکا نے افغانستان میں نجی فوجی کمپنیوں کو استعمال کیا جبکہ روس بھی یوکرین میں نجی فوجی کمپنیاں استعمال کررہا ہے ۔
یہ ایک مختصر تمہید تھی تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ پوری دنیا میں جنگیں کیوں برپا کی جاتی ہیں ۔ جنگوں کے اس تسلسل میں ایران بھی شامل ہے ۔ مگر امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کی صرف یہی وجہ نہیں ہے بلکہ دیگر جنگوں کی طرح اس پروجیکٹ کے بھی کثیر الجہتی مقاصد ہیں ۔ ہم دوبارہ سے اس دنیا پر عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی منصوبہ بندی کا بلیو پرنٹ دیکھتے ہیں۔ اس کے مطابق انہیں دنیا پر اپنی حاکمیت کے قیام کے لیے پوری دنیا کا جغرافیہ تبدیل کرنا ہے ۔ موجودہ ممالک کی نئی حدبندیاں کرنی ہیں اور دنیا کی آبادی کو اپنے مطلوبہ عدد تک لاکر روک دینا ہے ۔ اس بلیو پرنٹ پر میں کئی مرتبہ لکھ چکا ہوں مگر اس وقت صورتحال زیادہ واضح ہوچکی ہے ۔ بچوں کو مصنوعی طور پر پیدا کرنےکے لیے اب انسان کی ضرورت نہیں رہی ہے ۔ ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ آج کے انسان کو بچے پیدا کرنا اور پالنا مشکل لگنے لگا ہے اور یوں پوری دنیا کی آبادی منفی شرح میں چلی گئی ہے ۔ متعدد طریقے استعمال کرکے مردانہ اور زنانہ دونوں طریقے کے بانجھ پن کو عام کردیا گیا ہے ۔ کئی اقوام تو پارسیوں کی طرح نابود ہونے کے قریب ہیں ۔
دوبارہ سے ایران کے موضوع پر آتے ہیں ۔ ایران کی جنگ کو شروع سے دیکھتے ہیں ۔ ایران پر گزشتہ برس بھی امریکا نے باقاعدہ حملہ کیا تھا جس میں اس کی ایٹمی سائٹس تباہ کی گئی تھیں اور فوجی اعلیٰ قیادت بھی ماری گئی تھی ۔ اس کے سائنسدان مسلسل مارے جاتے رہے ہیں ۔ یہ سب اس لیے ممکن ہوسکا تھا کہ ایران کے پاس ائر ڈیفنس کا کوئی نظام ہی نہیں ہے ۔ یہ دشمن کی فضائیہ کے لیے افغانستان کی طرح کھلا اور ایک آسان ہدف ہے ۔ گزشتہ برس حملے کے بعد بھی امریکا کی کھلی دھمکیاں مسلسل جاری تھیں ۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ اب کی مرتبہ تو خامنہ ای کو چھوڑ رہا ہوں مگر آئندہ نہیں چھوڑوں گا ۔ اس کے بعد کرنا کیا چاہیے تھا ؟ یہی کہ ائر ڈیفنس کو مضبوط کیا جاتا ۔ اس کے لیے چینی اور روسی بیٹریاں خریدی جاتیں ۔ اس وقت ایران کے پاس جو چینی ائر ڈیفنس سسٹم موجود تھا وہ کسی کام کا نہیں تھا ۔ ایران کی بحریہ اور فضائیہ دونوں بغیر لڑے انتہائی آرام سے تباہ ہوگئیں ۔ اس کے مقابلے میں ایران کے پاس ڈرون کی اچھی ٹیکنالوجی ہے جبکہ بیلاسٹک میزائل بھی موجود ہیں ۔ مگر یہ تو حملہ کرنےکے لیےہیں ۔ دفاع کے لیے نہیں ۔ دفاع میں ناکامی کی وجہ سے ایران اپنی اعلیٰ ترین لیڈر شپ کو ختم کروا چکا ۔ اس کی فوجی قیادت کی تین تہیں ماری جا چکی ہیں ۔ اعلیٰ ترین سائنسداں مارے جا چکے ہیں ۔
جی پی ایس سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے ایرانی میزائل بھی اب تک کسی قابل قدر ہدف کو نشانہ نہیں بنا سکے ۔ (بدقسمتی سے یہی صورتحال پاکستان کی بھی ہے ۔ بھارت کے ساتھ گزشتہ جھڑپ میں پاکستان کے اندر محض اسی لیے بھاری نقصان ہوا کہ پاکستان کے پاس موزوں ائر ڈیفنس سسٹم نہیں تھا جبکہ پاکستان نے بھی حملہ کرنے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ) ۔ امریکی اور اسرائیلی دھمکیوں کو دیکھتے ہوئے ایران کو روسی S300 یا S400 کی ضرورت تھی ۔
امریکی حملے کے بعد ایران کی توجہ اسرائیل یا امریکا پر مار کرنے کے بجائے پڑوسی ممالک پر زیادہ رہی ۔ کہا گیا کہ ہم ان ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔ مگر سعودی عرب کے سامنے ہی موجود جبوتی میں تو کسی امریکی اڈے کو نشانہ نہیں بنایا گیا ۔ عرب ممالک کے ساتھ ساتھ ترکی اور آذربائیجان پر بھی میزائیل داغ دیے گئے ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی ہے جو ان ممالک کو مجبور کررہا ہے کہ وہ بھی اس جنگ میں شامل ہو جائیں اور ایران پر کم از کم فضائی حملہ کردیں ۔
ایک دن ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک وڈیو بیان میں جو سرکاری ایرانی ٹی وی پر نشر کیا گیا ، کہا کہ اب ایران پڑوسی ممالک پر اس وقت تک حملے نہیں کرے گا جب تک ان ممالک سے ایران پر حملہ نہیں ہوتا ۔ انہوں نے پڑوسی ممالک پر ایرانی حملوں کی معذرت بھی کی ۔ ایرانی حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ پڑوسی ممالک پر حملے کرنا ایران کی پالیسی نہیں تھی مگر اعلیٰ ترین فوجی و سیاسی قیادت کے خاتمے کی وجہ سے کمیونیکیشن گیپ آیا اور ایسا لگتا ہے کہ پڑوسی ممالک پر حملے موجودہ فوجی قیادت کا انفرادی فیصلہ تھا ۔ ابھی مسعود پزشکیان کا بیان ختم ہی ہوا تھا کہ ایران کی طرف سے دبئی ائرپورٹ پر میزائیل داغ دیا گیا ۔ شام کو قطر میں بھی سائرن بج رہے تھے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایران کے اندر کوئی تو ہے یا ہیں جو چاہتے ہیں کہ اس جنگ کو پھیلایا جائے اور اس میں آذربائیجان ، ترکی اور عرب ممالک کو بھی شامل کرلیا جائے ۔ پاکستان نے بھی واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدے کی وجہ سے وہ سعودی عرب کا ساتھ دینے پر مجبور ہوگا ۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ایران تنہا ہے ، اس کے ساتھ جو اتحادی ہوسکتے ہیں یا جنگ بندی میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں ، ان سب کو باغی عناصر زبردستی جنگ میں دھکیل رہے ہیں جو ایرانی حکومت کے بھی قابو میں نہیں ہیں ۔
یہ کھیل آخر کیوں رچایا جارہا ہے ، اس کا گہرا تعلق ایران پر حملے سے ہے ۔
صہیونیوں کے اس وقت دو ہی عزائم یا ہدف ہیں ۔ ان کا پہلا ہدف ہیکل سلیمانی کی تعمیر نو ہے جسے وہ تیسرا ہیکل بھی کہتے ہیں جبکہ دوسرا ہدف عظیم تر اسرائیلی ریاست کا قیام ہے ۔ تیسرے ہیکل کی تعمیر میں سب سے بڑی رکاوٹ بیت المقدس ہے ۔ گو کہ خود صہیونیوں کا بھی ماننا ہے کہ ہیکل سلیمانی کی اصل عمارت کا بیت المقدس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ بیت المقدس کی جگہ پر نہیں بلکہ اس کے پہلو میں واقع تھا ۔ تاہم صہیونی انتہا پسند مسجد بیت المقدس کو فوری شہید کرکے اس کی جگہ پر تیسرے ہیکل کی تعمیر چاہتے ہیں ۔
اسرائیلیوں کی کوشش رہی کہ بیت المقدس کی بنیادوں کو اتنا کمزور کردیا جائے کہ وہ ازخود ہی گر جائے مگر اس کوشش میں وہ اب تک ناکام رہے ہیں ۔ اب کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے خود ہی بیت المقدس پر کوئی میزائل گرا کر اس کا الزام ایران پر لگا دے اور پھر اس کے بعد وہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر شروع کردے ۔ ایران پر الزام لگانے کی وجہ سے اسے عیسائیوں کی اس مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جس سے اسرائیل سب سے زیادہ خوفزدہ ہے ۔ اسرائیلی اور امریکی حکومتیں فالس فلیگ آپریشن میں مہارت رکھتی ہیں ۔ اس کی بہترین مثال امریکا میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر یا ٹوئن ٹاورز کی تباہی ہے ۔ اس میں کمال مہارت سے یہودی میڈیا کے ذریعے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی ۔
ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے درکار شرائط پہلے ہی پوری کی جا چکی ہیں ۔ یعنی مکمل سرخ بچھیا کو وہ مصنوعی بریڈنگ کے ذریعے پیدا کیا جا چکا ہے اور اب ان کے پاس ایک نہیں بلکہ بیسیوں سرخ بچھیا موجود ہیں جن کی قربانی کرکے وہ پاکیزگی حاصل کرسکتے ہیں تاکہ تیسرے ہیکل کی تعمیر کا آغاز کیا جاسکے ۔ تیسرے ہیکل کی تعمیر کے لیے درکار دیگر لوازمات جیسا کہ نقشہ ، تعمیراتی سامان وغیرہ بھی پہلے سے تیار ہیں اور اس کی مکمل ریہرسیل بھی کئی مرتبہ کی جاچکی ہیں ۔
صہیونیوں کا دوسرا ہدف عظیم تر اسرائیل کا قیام ہے ۔ عظیم تر اسرائیل کے نقشے کو دیکھیں تو یہ نیل سے لے کر فرات تک پھیلا ہوا ہے ۔ اس میں سعودی عرب کے علاقے بھی شامل ہیں ، مصر ، عراق ، اردن اور شام بھی ۔ یہودیوں کی آبادی اتنی نہیں ہے کہ وہ اتنے وسیع علاقے کو کنٹرول کرسکیں ۔ اس کے لیے انہیں اس علاقے میں وہی ماڈل درکار ہے جو ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا تھا ۔ یعنی صرف پانچ ہزار گورے پورے برصغیر پر غداروں کے ذریعے حکومت کررہے تھے ۔ ایسے ہی ماڈل کے ذریعے عرب امارات میں اقلیت میں ہونے کے باوجود 20 فیصد مقامی 80 فیصد غیر مقامیوں کو خوب قابو رکھتے ہیں ۔
جیسا کہ میں نے شروع میں ہی عرض کیا تھا کہ جنگ خود کوئی مقصد نہیں ہوتی بلکہ کسی بڑے پروجیکٹ کا ایک چھوٹا جز ہوتی ہے ۔ اب ایران پر حملہ کردیا گیا ہے ۔ ایران کی فضائیہ اور بحریہ کو مکمل طور پر ختم کیا جاچکا ہے ۔ اس کی ملٹری لیڈر شپ مکمل طور پر صاف کی جاچکی ہے ۔ ایٹمی صلاحیت بھی ختم اور سائنسداں بھی ۔ مگر ایران کی ڈرون اور میزائیل کی صلاحیت کو حیرت انگیز طور پر نہیں چھیڑا گیا ہے ۔ امریکی حملوں کے جواب میں ایران روز ڈرونز اور میزائیلوں کی بارش کرتا ہے ۔ اس کا اصل ہدف پڑوسی عرب ممالک ہیں ۔ گو کہ گاہے گاہے اسرائیل پر بھی حملے جاری ہیں مگر اسرائیل میں ابھی تک ایک بھی ہائی ویلیو ٹارگٹ کو نقصان نہیں پہنچایا جاسکا ہے ۔ یہ میزائل یا ڈرون شہری علاقوں میں ضرور گر رہے ہیں مگر انہوں نے کوئی ایسا قابل ذکر نقصان نہیں پہنچایا ہے جس سے اسرائیلی قیادت میں بے چینی پیدا ہو ۔ یہ میزائیل اور ڈرون حملے بیت المقدس پر فالس فلیگ آپریشن کے ساتھ ساتھ عرب ممالک کو جنگ میں گھسیٹنے کے لیے انتہائی اہم ہیں ۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے وڈیو بیان کے باوجود کہ پڑوسی ممالک پر اس وقت تک حملے نہیں کیے جائیں گے جب تک وہاں سے ایران پر حملے نہ کیے جائیں ، سارے ہی عرب ممالک پر مسلسل حملے جاری ہیں ۔ دوسری جانب اسرائیلی میڈیا مسلسل جعلی خبریں چلا رہا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور قطر نے بھی ایران پر حملہ کیا ہے ۔
جس طرح سے ایرانی سیاسی قیادت کی معذرت کے باوجود ایرانی فوجی قیادت مشکوک طریقے سے عرب ممالک پر مسلسل حملے کررہی ہے، اس سے لگتا ہے کہ وہ ان عرب ممالک کو جنگ میں گھسیٹنے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔ ایرانی فوجی قیادت کی کوشش تو آذربائیجان اور ترکی کو بھی اس جنگ میں گھسیٹنے کی ہے ۔ اگر یہ تمام ممالک جنگ کی اس دلدل میں پھنس جاتے ہیں تو کچھ دنوں میں ہی دفاعی طور پر اتنے کمزور ہوجائیں گے کہ اسرائیل کے کسی ایڈونچر کی صورت میں زبانی گیدڑ بھبکی بھی نہیں دے سکیں گے ۔ پاکستان کو پہلے ہی افغانستان اور بھارت کے درمیان سینڈوچ بنا دیا گیا ہے ۔ اول تو پاکستانی قیادت ٹرمپ سرکار کی انتہائی تابعدار ہے اور وہ ٹرمپ سرکار کی مرضی کے بغیر کچھ کرنا تو دور کی بات ، آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گی ۔ پھر بھی عوامی بے چینی کو ختم کرنے کے لیے افغان بھارت کارڈ تیار ہے ۔
اب بات کچھ کچھ سمجھ آنے لگی ہے کہ پہلے مسلم ممالک کو عسکری اور مالی طور پر اتنا کمزور کیا جائے کہ وہ تیسرے ہیکل کی تعمیر کے لیے بیت المقدس کی شہادت کی صورت میں مزاحمت کرنا تو دور کی بات ، سوچ بھی نہ سکیں ۔ اس کے بعد عظیم اسرائیل کے قیام کے لیے مسلم ممالک کی زمین پر ایک ایک کرکے قبضہ کیا جائے ۔
دوسرا مرحلہ تو انتہائی آسان ہے ۔ ہم نے دیکھا کہ افغانستان ، عراق ، لیبیا ، شام وغیرہ پر امریکی حملوں کی صورت میں کسی کے منہ سے اُف تک نہیں نکلی ۔ گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل نے مکمل طور پر قبضہ کرلیا ، کسی نے چوں تک نہیں کی ۔ غزہ پر جو خوفناک مظالم کیے گئے ، اس کے بعد بھی زبانی کلامی کے علاوہ کسی نے کچھ نہیں کیا ۔ اب ایران پر امریکی اسرائیلی حملے جاری ہیں تو بھی کسی کے منہ سے بھاپ نہیں نکلی ۔ اگر اب اسرائیل بتدریج اپنی سرحدوں کو توسیع دیتا ہے ۔ سب سے پہلے اگر وہ شام کو نگلتا ہے کہ یہی کمزور ترین ہدف ہے ، پھر دیگر ممالک کی زمینوں کو اسرائیل میں داخل کرتا ہے ، تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ دنیا بھر میں کیا ردعمل ہوگا ۔ یقینا وہی ردعمل ہوگا جو گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیلی ریاست میں شامل کرنے پر ہوا تھا ۔
تو اب بات سمجھ میں آتی ہے کہ ایران پر کیوں حملہ کیا گیا ۔ اسٹیج پر جو کچھ بھی ڈائریکٹر کی ہدایت کے مطابق مختلف کردار اداکاری کے جوہر دکھا رہے ہیں ، اسے چھوڑ کر ڈائریکٹر کے پاس موجود اسکرپٹ کو دیکھنے کی کوشش کریں تو بہت کچھ خود سے ہی سمجھ میں آجائے گا ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔
ایران پر حملوں کا اصل گیم پلان
صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے روکنے کے اعلان سے محض 5 منٹ پہلے… کسی نے اسٹاک مارکیٹ میں قیمتیں اوپر جانے پر 1.5ارب ڈالر کا داؤ لگایا اور 192 ملین ڈالر مالیت کا تیل مارکیٹ میں پھینک دیا۔
صرف 5 منٹ پہلے…
یہ تجارتی سودے پوری مارکیٹ میں ہونے والے کسی بھی دوسرے سودے سے 4 سے 6 گنا بڑے تھے۔ جس نے بھی یہ کیا، وہ محض اندازہ نہیں لگا رہا تھا۔ کوئی بھی شخص محض ایک وہم کی بنیاد پر 1.5ارب ڈالر داؤ پر نہیں لگاتا۔
اس اعلان کے آنے کا کوئی عوامی اشارہ موجود نہیں تھا۔ نہ کوئی خبر لیک ہوئی، نہ میڈیا کو پتا تھا، کچھ بھی نہیں۔ صرف ان لوگوں کو علم تھا جو اس وقت کمرے میں موجود تھے جب یہ فیصلہ کیا گیا۔
اس کمرے میں موجود کسی شخص نے فون اٹھایا۔ اور چند ہی منٹوں میں انہوں نے اتنی دولت کما لی جو اکثر امریکی ہزاروں نسلوں میں بھی نہیں کما سکیں گے۔ ایک ہی سودے میں۔ ایک ایسی جنگ پر جو آپ کو 4 ڈالر فی گیلن سے مہنگے پیٹرول اور 16 ارب ڈالر کے ٹیکسوں کی صورت میں بھگتنی پڑی۔
امریکی شہریوں نے اس جنگ کے لیے فنڈز دیے۔ سیاست دان اس سے منافع کما رہے ہیں۔
یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ اس انتظامیہ کے ہر بڑے اعلان سے ٹھیک پہلے، چاہے وہ ٹیرف (Tariff) کی واپسی ہو، پالیسی میں تبدیلی ہو یا جنگی فیصلے، ہمیشہ مشکوک بڑے سودے دیکھے گئے ہیں۔
یہ امریکی سیاست کی تاریخ میں ’’انسائیڈر ٹریڈنگ‘‘ (اندرونی معلومات پر مبنی تجارت) کی سب سے کھلی اور واضح مثال ہے۔ اس کا کوئی مقابلہ نہیں۔ اور یہ بار بار دن دیہاڑے ہو رہا ہے۔
اگر آپ اپنے کسی کزن سے ملنے والی اطلاع پر تجارت کریں تو آپ کو جیل ہو جائے گی۔ لیکن یہ لوگ جنگی فیصلوں سے پہلے اربوں ڈالر کے داؤ لگا کر سب سے آگے نکل رہے ہیں اور کوئی ایک سوال تک نہیں پوچھے گا۔
نہ کوئی تحقیقات ہوگی، نہ کسی پر فردِ جرم عائد کی جائے گی۔ کل تک یہ خبر کسی دوسری بڑی سرخی کے نیچے دب جائے گی۔ بالکل پچھلی بار کی طرح، اور اس سے پہلی بار کی طرح۔
کھیل مکمل طور پر ’’فکس‘‘ ہے (The game is rigged)۔ اور اب تو وہ اسے چھپانے کی کوشش بھی نہیں کی جاتی ہے۔
















