Advertisement

رجیم چینج کا پلٹتا ہوا منصوبہ

2026 کے آغاز میں شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ چند ہی ماہ میں سوال ایرانی نظام پر نہیں بلکہ خود امریکی طاقت کی ساکھ پر اٹھنے لگیں گے۔ ابتدا میں بیانیہ صاف تھا: دباؤ بڑھاؤ، قیادت کو غیر معتبر ثابت کرو، نظام کو ہلا دو اور پھر ایک ایسا سیاسی منظر بناؤ جس میں ’رجیم چینج‘ ناممکن نہ رہے۔ لیکن بعض جنگیں اپنے اصل ہدف تک نہیں پہنچتیں، وہ خود اپنے بنانے والوں کی کمزوریوں کو بے نقاب کرنے لگتی ہیں۔ ایران کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی دکھائی دیا۔
اس پورے بحران کا پہلا اہم نکتہ یہی ہے کہ جس منصوبے کا مقصد ایران کو کمزور کرنا تھا، اس نے کم از کم فوری طور پر ایران کو ٹوٹنے کے بجائے زیادہ منظم، زیادہ محتاط اور بعض حوالوں سے زیادہ مؤثر بنا کر پیش کیا۔ بعض امریکی تجزیہ کاروں نے بھی یہ نکتہ اٹھایا کہ حالیہ جنگ کے باوجود ایران نہ صرف عسکری مزاحمت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا بلکہ اس نے عالمی منڈیوں کو ہلا دینے کی اپنی صلاحیت بھی دکھا دی۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی، بحری ٹریفک پر دباؤ، اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے یہ ثابت کیا کہ ایران کو ہر محاذ پر برتری درکار نہیں تھی؛ اسے صرف یہ دکھانا تھا کہ وہ جنگ کی قیمت دوسروں تک منتقل کر سکتا ہے۔
یہاں اصل مسئلہ صرف میزائل اور ڈرون نہیں تھے، لاگت کی ریاضی تھی۔ اگر ایک سستا ڈرون اپنے ہدف تک پہنچ جائے تو ایران کے لیے کامیابی؛ اور اگر دشمن اسے گرانے کے لیے اس سے کئی گنا مہنگا نظام استعمال کرے تب بھی ایران کے لیے کامیابی۔ یہی عدم توازن اس جنگ کی جان تھا۔ ایران جانتا تھا کہ وہ امریکی اور اسرائیلی عسکری طاقت کے ساتھ روایتی برابری پر نہیں لڑ سکتا، اس لیے اس نے جنگ کو “فتح” کے بجائے “مہنگی بقا” میں تبدیل کیا۔ سستے، بڑی تعداد میں تیار ہونے والے ہتھیاروں کے مقابلے میں مہنگے دفاعی نظام، محدود میزائل ذخائر، اور سیاسی ہچکچاہٹ — یہ سب مل کر اس منصوبے کو فوری کامیابی سے دور لے گئے۔ کبھی کبھی جنگ جیتنے کے لیے ہر حملہ کامیاب ہونا ضروری نہیں ہوتا؛ کافی یہ ہوتا ہے کہ دشمن ہر دفاع میں زیادہ قیمت ادا کرے۔
آبنائے ہرمز اسی لیے اس جنگ کا مرکزی استعارہ بن گئی۔ ایران نے مکمل بندش کے بغیر بھی یہ ثابت کیا کہ وہ سمندری راستے کو ایک ایسے خطرناک دباؤ کے زون میں بدل سکتا ہے جہاں معمول کی تجارت بھی غیر معمولی قیمت مانگنے لگے۔ یہی وہ مقام تھا جہاں جنگ تہران سے نکل کر منڈیوں، بندرگاہوں، انشورنس ریٹس، اور عالمی اعصاب تک پہنچ گئی۔ اور جب جنگ کی قیمت عالمی معیشت ادا کرنے لگے تو پھر سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ کون زیادہ طاقتور ہے؛ سوال یہ بھی ہوتا ہے کہ کون زیادہ دیر تک یہ قیمت برداشت کر سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک سابق توانائی مشیر نے اسی لیے کہا کہ آبنائے ہرمز کی طویل بندش یا disruption کا آسان policy solution نہیں ہوتا۔ strategic reserves، escort operations، یا علامتی اقدامات اصل مسئلہ حل نہیں کرتے؛ اصل مسئلہ flow کی بحالی ہے، اور اگر ایران صرف اتنا دکھاتا رہے کہ وہ جہاز رانی کو مسلسل خطرے میں ڈال سکتا ہے تو “معمول کی واپسی” خود ایک غیر یقینی بن جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں رجیم چینج کا منصوبہ تہران کی کمزوری سے زیادہ واشنگٹن کی بے بسی دکھانے لگتا ہے۔
اس جنگ کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ ایران مکمل طور پر کسی بڑے بیرونی rescue پر کھڑا نہیں دکھا۔ بعض مغربی مبصرین نے خود یہ نکتہ اٹھایا کہ چین اور روس کی مدد اگر تھی بھی تو زیادہ تر حاشیے پر، محدود، یا symbolic نوعیت کی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کی بقا کو صرف بیرونی سہارا نہیں کہا جا سکتا۔ اگر کسی نظام کو فیصلہ کن بیرونی مدد نہ ملے اور پھر بھی وہ collapse نہ کرے، تو سوال اور بڑا ہو جاتا ہے: کیا مسئلہ واقعی ایران کی طاقت تھا، یا منصوبہ ہی اپنی بنیادی assumptions میں کمزور تھا؟
واشنگٹن کے اندر بدلتا ماحول بھی اسی پلٹاؤ کی علامت ہے۔ اسرائیل کے لیے امریکی عوامی حمایت میں گزشتہ برسوں کے دوران واضح تبدیلی آئی ہے، خاص طور پر ڈیموکریٹس، آزاد رائے رکھنے والے ووٹرز، اور نوجوان نسل میں۔ جب جنگ ایک ایسے منصوبے کی شکل اختیار کرے جس کا moral consensus خود اندر سے کمزور ہو، تو اس کی سیاسی لاگت بڑھنے لگتی ہے۔ یعنی جو چیز باہر “رجیم چینج” کے طور پر پیش کی جا رہی تھی، وہ اندر جا کر domestic divide میں تبدیل ہونے لگی۔ یہ صرف خارجہ پالیسی نہیں رہی؛ یہ عوامی رائے، اتحادی ہچکچاہٹ، اور strategic embarrassment کا مجموعہ بن گئی۔
اسی مرحلے پر سفارتی محاذ بھی کھلتا ہے۔ بعض دارالحکومتوں، خصوصاً مسقط جیسے مراکز میں، اس جنگ کو ایک واضح سفارتی ناکامی اور بین الاقوامی قانون کے بحران کے طور پر دیکھا گیا۔ ceasefire، lives کو بچانے، اور destruction کو روکنے کی باتیں اسی لیے ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔ اس سے یہ واضح ہوا کہ سب فریق escalation کو ناگزیر نہیں سمجھ رہے تھے؛ کچھ اسے collective failure سمجھ رہے تھے۔ اگر کوئی جنگ اپنے آغاز پر ہی diplomatic disappointment، legal unease، اور economic panic پیدا کر دے تو اسے آسان فتح کے طور پر نہیں پڑھا جا سکتا۔
یہاں پاکستانی کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے، جس نے اس بحران میں loud posture نہیں اپنایا؛ اس کی اصل کامیابی یہ تھی کہ وہ ملوث ہوئے بغیر متعلق رہا۔ اسلام آباد نے ایک طرف سعودیہ، امارات اور امریکا کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے، دوسری طرف ایران کے ساتھ برادرانہ رابطہ بھی زندہ رکھا اور کوشش کی کہ ایران اور سعودیہ آمنے سامنے نہ آئیں۔ یہی اصل balancing act تھا۔ جنگی ماحول میں اکثر پہلی casualty سفارت ہوتی ہے؛ پاکستان نے کم از کم اس خطے میں یہ دکھایا کہ defence اور diplomacy ایک ساتھ بھی چل سکتے ہیں۔ یہ چھوٹی کامیابی نہیں تھی۔
لیکن اس سارے بحران کا سب سے گہرا پہلو شاید ایران کے اندر سامنے آیا۔ جس قیادت کو ہدف بنا کر نظام کو کمزور کرنے کی امید رکھی گئی تھی، وہی قیادت اپنے ماننے والوں کے لیے شناخت، مزاحمت، اور وحدت کی علامت بن گئی۔ تاریخ، مذہب، قیادت، اور شہادت کے تصورات جب ایک قوم کے اجتماعی شعور میں اس طرح گندھ جائیں تو پھر top leadership پر حملہ ہمیشہ مطلوبہ سیاسی نتیجہ نہیں دیتا؛ بعض اوقات وہ اسی cause کو اور مضبوط کر دیتا ہے جسے کمزور کرنا مقصود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس جنگ نے ایک اور irony پیدا کی: جنہیں “آزاد” کرنے کا دعویٰ تھا، وہ مزید متحد ہو گئے۔ جس فرقہ وارانہ تقسیم کو بار بار ہوا دی جاتی رہی، وہ اس مرحلے پر ثانوی پڑتی دکھائی دی۔ یہ بات ماننی چاہیے کہ جنگ نے نقصان بہت کیا، مگر اس نے ایک دوسرا narrative بھی پیدا کیا: کم از کم اس لمحے میں بہت سے مسلمانوں نے خود کو ایک بڑے مشترکہ زخم اور مشترکہ احساس میں پایا۔
آخرکار، رجیم چینج کا ہر منصوبہ صرف ہدف کو نہیں آزماتا، وہ اپنے بنانے والوں کو بھی آزماتا ہے۔ ایران کو گرانے نکلا یہ منصوبہ اب کم از کم اتنا ضرور دکھا چکا ہے کہ طاقت صرف فائر پاور کا نام نہیں؛ طاقت بقا، اعصاب، لاگت منتقل کرنے کی صلاحیت، اور سفارتی برداشت کا نام بھی ہے۔
اگر اس جنگ سے اب تک کوئی ایک حتمی سبق لیا جا سکتا ہے، تو وہ یہی ہے کہ رجیم چینج کے منصوبے کبھی کبھی اپنے ہدف کو گرانے کے بجائے اسے مزید متحد، زیادہ سخت اور زیادہ پائیدار بنا دیتے ہیں اور یہی اس جنگ کا سب سے کڑا paradox ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: