Advertisement

ایران اسرائیل جنگ 2026: کیا پاکستان اور ترکیہ مشرقِ وسطیٰ کو عالمی جنگ سے بچا سکتے ہیں؟

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک علاقائی تنازعہ پوری دنیا کو اپنی لپٹ میں لے سکتا ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں یہ خطہ متعدد جنگوں اور سیاسی بحرانوں کا مرکز رہا ہے، مگر موجودہ صورتحال کو کئی عالمی مبصرین پہلے سے زیادہ خطرناک قرار دے رہے ہیں۔
28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں ایران کی بعض اسٹریٹجک تنصیبات اور سیکیورٹی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی طور پر ان حملوں کو محدود فوجی کارروائی قرار دیا گیا، لیکن چند ہی دنوں میں صورتحال ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کرنے لگی۔
حملوں کے بعد میزائل حملوں کا تبادلہ، سخت سفارتی بیانات اور فوجی نقل و حرکت نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس کشیدگی کو بروقت کم نہ کیا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
اسی پس منظر میں پاکستان اور ترکیہ جیسے ممالک کی سفارتی اہمیت بڑھ جاتی ہے، کیونکہ دونوں ریاستیں خطے میں اعتدال پسند اور سفارتی حل کی حامی سمجھی جاتی ہیں۔
آپریشن ’ایپک فیوری‘ اور
خطے میں طاقت کا توازن
امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی کو “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا گیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو محدود کرنا تھا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام خطے میں موجود امریکی فوجیوں اور اتحادی ممالک کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اس پروگرام کو روکنا ضروری تھا، تاہم کئی بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق اس کارروائی کو صرف ایک فوجی حملہ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
حملوں کے دوران ایران کی نیوی، میزائل بیسز اور سیکیورٹی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ بعض بین الاقوامی رپورٹس میں کہا گیا کہ ایرانی قیادت کے بعض ارکان کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم ایران کی حکومت نے فوری ردعمل میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اہم تنصیبات کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔
اس کے نتیجے میں خلیج میں کشیدگی مزید بڑھ گئی اور عالمی سطح پر اس تنازعے کے پھیلنے کے خدشات ظاہر کیے جانے لگے۔
رجیم چینج کی بحث
اور عالمی سیاست
اس بحران کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث کو جنم دیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے بعد ایرانی عوام کو اپنی حکومت خود سنبھالنی چاہیے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس بیان کو ایران میں ممکنہ رجیم چینج کے اشارے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اگر ایران کے سیاسی ڈھانچے میں اچانک تبدیلی آتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں کئی ممالک ایران کے ساتھ سیاسی، مذہبی اور عسکری تعلقات رکھتے ہیں۔ لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثی تحریک جیسے گروہ ایران کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کا مؤقف ہے کہ یہ گروپس خطے میں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں، جبکہ بعض تجزیہ کار انہیں اسرائیل کے خلاف ایران کی دفاعی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
ترکیہ کے لیے
سلامتی کے خدشات
ترکیہ کے لیے ایران میں عدم استحکام ایک پیچیدہ مسئلہ بن سکتا ہے۔ انقرہ کئی دہائیوں سے کردستانی ورکرز پارٹی (PKK) کے خلاف برسرپیکار ہے، جسے ترکیہ دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔
ترک حکام کا مؤقف ہے کہ پڑوسی ممالک میں عدم استحکام بعض اوقات ایسے حالات پیدا کر دیتا ہے جہاں عسکری گروہ اپنے نیٹ ورکس کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں ترک وزیر خارجہ حقان فدان نے 7 مارچ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں خانہ جنگی یا ریاستی ڈھانچے کے خاتمے کا کوئی بھی منظرنامہ خطے کے لیے انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اس بحران کا حل صرف سفارت کاری اور سیاسی مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
پاکستان کے لیے
سرحدی چیلنجز
پاکستان کے لیے بھی یہ بحران اہم سلامتی خدشات پیدا کر سکتا ہے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے جو بلوچستان کے دشوار گزار علاقوں سے گزرتی ہے۔
گزشتہ برسوں میں اس سرحدی علاقے میں بعض عسکری اور علیحدگی پسند گروہوں کی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں۔ ان میں بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور جیش العدل جیسے گروہ شامل ہیں، جنہیں پاکستان اور ایران دونوں دہشت گرد تنظیمیں قرار دیتے ہیں۔
سلامتی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران میں طویل عدم استحکام پیدا ہوتا ہے تو سرحدی علاقوں میں سلامتی کے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے اسلام آباد اس صورتحال کو نہایت قریب سے دیکھ رہا ہے اور سفارتی حل پر زور دے رہا ہے۔
سی پیک اور علاقائی معیشت
اس بحران کا ایک اہم معاشی پہلو بھی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم منصوبہ ہے جس میں گوادر بندرگاہ مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔
اگر خطے میں طویل عدم استحکام پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف پاکستان بلکہ چین اور دیگر علاقائی معیشتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان کے لیے خطے میں استحکام برقرار رکھنا ایک اہم قومی ترجیح ہے۔
تیل کی سیاست اور عالمی منڈی
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں توانائی ہمیشہ مرکزی کردار ادا کرتی رہی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے تقریباً 20 فیصد عالمی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
حالیہ کشیدگی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ توانائی درآمد کرنے والے ممالک جیسے پاکستان اور ترکیہ کے لیے یہ صورتحال معاشی دباؤ کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی وجہ سے کئی ممالک اس بحران کو جلد از جلد سفارتی طریقے سے حل کرنے کے خواہاں ہیں۔
ماحولیاتی خطرات
حملوں کے بعد ایران کی کچھ آئل ریفائنریوں میں آگ لگنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق تہران کے اوپر سیاہ دھوئیں کے بادل اور آلودہ بارش کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
ماہرین کے مطابق اگر تیل کی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچتا ہے تو اس کے ماحولیاتی اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات انسانی صحت اور ماحول دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ترکیہ اور پاکستان کا سفارتی کردار
اس بحران کے دوران ترکیہ اور پاکستان دونوں نے سفارت کاری اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔
ترکیہ ماضی میں کئی علاقائی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کر چکا ہے۔ اسی طرح پاکستان بھی خلیجی ممالک، ایران اور مغربی طاقتوں کے ساتھ سفارتی روابط رکھتا ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور اسٹریٹجک تعلقات موجود ہیں اور اکثر علاقائی مسائل پر مشترکہ موقف اختیار کیا جاتا ہے۔
اسی لیے بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اگر کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ مذاکرات شروع ہوئے تو اسلام آباد اور انقرہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
کیا بحران کو روکا جا سکتا ہے؟
اگرچہ صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، لیکن کئی ماہرین کا خیال ہے کہ بحران ابھی اس مقام تک نہیں پہنچا جہاں واپسی ممکن نہ ہو۔ اقوام متحدہ، قطر، عمان، چین اور دیگر ممالک سفارتی سطح پر متحرک ہیں اور جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی حمایت کر رہے ہیں۔
تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ بڑی جنگیں اکثر چھوٹے تنازعات سے شروع ہوتی ہیں، لیکن بروقت سفارت کاری انہیں بڑے بحران میں تبدیل ہونے سے روک سکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ طاقت کے مظاہرے اور فوجی کارروائیاں مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہیں۔
پاکستان اور ترکیہ جیسے ممالک، جو خطے میں اعتدال پسند سفارتی کردار رکھتے ہیں، کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر عالمی قیادت نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مکالمے اور تعاون کو ترجیح دی تو اس بحران کو ٹالا جا سکتا ہے۔ کیونکہ تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ پائیدار امن صرف سفارت کاری اور مذاکرات سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، جنگ سے نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: