ہفتہ 2 مئی 2026 کی شام بزمِ شعر و سخن کے زیرِ اہتمام آٹھواں سالانہ فیملی مشاعرہ ایک یادگار ادبی محفل کی صورت میں منعقد ہوا، جہاں لفظوں کی خوشبو اور جذبوں کی روشنی دیر تک فضا میں بکھری رہی۔ شہر کے نامور اور ممتاز شعرا نے اپنے کلام سے سامعین کے دلوں کو چھوا اور محفل کو ایک زندہ، دھڑکتی ہوئی داستان بنا دیا۔
شام ساڑھے سات بجے سے مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہر آنے والا اپنے ساتھ ذوق، شوق اور محبت کا ایک چراغ لیے چلا آ رہا ہو۔ آٹھ بجے تک ہال میں خاصی رونق ہو چکی تھی۔ سوا آٹھ بجے پرتکلف عشائیے کا اہتمام کیا گیا، اور بزم کی روایت کے مطابق مختصر وقفے کے بعد محفل دوبارہ اپنے سلیقے اور ترتیب کے ساتھ سج گئی—اگرچہ چند لمحوں کی تاخیر ہوئی، مگر “ذرا سی دیر ہی سہی، محفل تو سج گئی”۔
تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے محفل کا آغاز ہوا تو فضا میں ایک روحانی سکون اتر آیا، اور پھر یوں لگا جیسے لفظ بھی وضو کر کے لبوں پر آ بیٹھے ہوں۔
مشاعرے کی صدارت معروف صحافی، ادیب اور شاعر محمود شام نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر اور شکیل خان نے انجام دیے۔ اسٹیج پر موجود شعرا کی کہکشاں میں انور شعور، تاجدار عادل، فراست رضوی، خالد عرفان، جاوید صبا، فیاض بیگ، احمد سلمان، نزہت عباسی، دلاور علی آزر، صاحبزادہ عتیق الرحمن، اے ایچ خانزادہ، ہدایت ساحر، یاسمین یاس، عینا میر عینی اور نوید شیخ جیسے معتبر نام شامل تھے۔ مشاعرے کا آغاز نوید شیخ نے کیا، جبکہ مہمانِ خصوصی کے طور پر شمیم احمد جملانہ اسٹیج کی رونق رہے۔
بزمِ شعر و سخن کی ایک خوبصورت روایت کے مطابق اس بار بھی اسکول کے بچوں نے اُن شعرا کی تمثیل پیش کی جو اب ہمارے درمیان موجود نہیں۔ اس سلسلے میں ادا جعفری اور مظفر وارثی کی شخصیات کو جس خلوص، سلیقے اور فنی مہارت سے پیش کیا گیا، وہ محض ایک پرفارمنس نہیں بلکہ ایک زندہ یاد بن گئی۔ بچوں نے اُن کے انداز، لہجے اور طرزِ ادائیگی کو اس خوبی سے اپنایا کہ محفل میں ایک لمحے کو یوں محسوس ہوا جیسے وہ خود ہمارے درمیان موجود ہوں۔ واقعی
“لوگ جاتے ہیں مگر نقش چھوڑ جاتے ہیں”
اور اس شب یہ نقش پھر سے روشن ہو اٹھے
ابتدا میں مشاعرے کے منتظم عدیل سلیم جملانہ نے شرکاء کو خوش آمدید کہا، بعدازاں بزمِ شعر و سخن کے صدر شیخ طارق جمیل نے اپنے خطاب میں اس بات کا اظہار بھی کیا ہے دو ہزار کی طویل فہرست سے 17 شعراء کا انتخاب مشکل کام تھا۔ انہوں نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور ان رفقا کو خراجِ عقیدت پیش کیا جو اس سفر کے آغاز میں ساتھ تھے مگر اب داغِ مفارقت دے گئے ہیں۔ انہوں نے عبید ہاشمی، امین صادق اور اسلام الدین ظفر مرحوم کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان محسنوں نے مشکل وقت میں بھی بزمِ شعر و سخن کا چراغ روشن رکھا۔
محمد ابراہیم جویو آڈیٹوریم کی خوشگوار فضا، ٹھنڈک بھرا ماحول اور آرام دہ نشستیں—سب کچھ اس طرح ہم آہنگ تھا کہ سامعین پوری دلجمعی کے ساتھ محفل میں ڈوبتے چلے گئے۔ ہال کی تمام نشستیں بھر جانے کے بعد بھی شائقین کا جوش کم نہ ہوا؛ کئی لوگ سیڑھیوں پر بیٹھ کر اس ادبی جشن کا حصہ بنے رہے۔ گویا
“یہی ہے ذوقِ طلب، کہ جہاں جگہ نہ ملے
وہیں پہ بیٹھ کے محفل کا لطف لیا جائے”
مشاعرے کے دوران داد و تحسین کی گونج بارہا فضا میں بلند ہوئی۔ کہیں واہ واہ کی صدائیں، کہیں مسکراہٹیں، کہیں خاموشی میں ڈوبے تاثرات—ہر رنگ اس محفل کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا رہا۔ بزمِ شعر و سخن کی پہچان، یعنی نظم و ضبط اور وقت کی پابندی، اس بار بھی پوری شان کے ساتھ جلوہ گر رہی۔
رات تقریباً 12 بجے جب یہ محفل اپنے اختتام کو پہنچی تو یوں لگا جیسے ایک خوبصورت خواب آہستہ آہستہ آنکھوں سے اتر رہا ہو۔ سامعین اپنے ساتھ صرف یادیں نہیں، بلکہ ایک احساس، ایک لطیف سی روشنی لے کر رخصت ہوئے—کہ لفظ اگر سچے ہوں تو دلوں میں دیر تک رہتے ہیں۔
عوام الناس کو جنتا کہا جاتا ہے بھارت میں
مری دانست میں اس کا عجب مفہوم بنتا ہے
ہمارے ملک میں تو بیویاں وجہ ولادت ہیں
مگر حیرت یہ ہے اس ملک میں شوہر بھی جنتا ہے
خالد عرفان
پھر کوئی خواب نگاہوں میں مچل سکتا ہے
تم چلے آؤ تو موسم بھی بدل سکتا ہے
گفتگو یار کی مبہم ہے اس قدر کہ پوچھ
جو بھی چاہیں وہی مفہوم نکل سکتا ہے
نوید اشفاق
دل میں بیتاب فضاؤں کا سماں ہے جاناں
اب یہ طوفان شب و روز اٹھائے رکھنا
میں بھی دیکھوں گی چراغاں شب الفت کا کبھی
سب چراغوں کو سر شام جلائے رکھنا
عینا میر عینی
ماتھے کا جو بل ہوتا ہے، وہ مشکل سے حل ہوتا ہے
اچھی سوچ مقدم رکھو، نیت کا بھی پھل ہوتا ہے
آنسو کی توہین نہ کرنا، یہ تو گنگا جل ہوتا ہے
یاسمین یاس
اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہوجاتا ہوں
اب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہوجاتا ہوں
خدا کا شکر سہارے بغیر بیت گئی
ہماری عمر تمھارے بغیر بیت گئی
انور شعور
کچھ اثاثہ تو ہو بڑھاپے کا، زخم کھالیجیے جوانی میں
کیا خبر کوئی خاک نشیں، آسماں کو زمیں پہ دے مارے
ایسے توڑے عقیدتوں کے بت
کچھ کہیں کچھ کہیں پہ دے مارے
ہوگا کیا گر خدائے روزے جزا
سارے سجدے جبیں پہ دے مارے
ہدایت سائر
میری پلکیں بھی بہت بوجھل ہیں گہری نیند سے
رات کافی ہو چکی ہے آپ بھی سو جائیے
آپ سے اب کیا چھپانا آپ کوئی غیر ہیں
ہو چکا ہوں میں کسی کا آپ بھی ہو جائیے
شاعری کار جنوں ہے آپ کے بس کی نہیں
وقت پر بستر سے اٹھیے وقت پر سو جائیے
جاوید صبا
پاؤں نیچے سے زمیں بھی نکلی
میں خلاؤں کی طرف لپکا تھا
صبح کی طرح وہ بے رنگ ہے اب
شامؔ کی طرح جسے چاہا تھا
محمود شام
جو دکھ رہا ہے اسی کے اندر جو ان دکھا ہے وہ شاعری ہے
جو کہہ سکا تھا وہ کہہ چکا ہوں جو رہ گیا ہے وہ شاعری ہے
دلوں کے مابین گفتگو میں تمام باتیں اضافتیں ہیں
تمہاری باتوں کا ہر توقف جو بولتا ہے وہ شاعری ہے
تمام دریا جو ایک سمندر میں گر رہے ہیں تو کیا عجب ہے
وہ ایک دریا جو راستے میں ہی رہ گیا ہے وہ شاعری ہے
احمد سلمان
خوشیاں جھوٹی غم جھوٹے ہیں
دنیا کیا تم ہم جھوٹے ہیں
ہاں ہم کو بھی عشق ہے تم سے
ہم کیا تم سے کم جھوٹے ہیں
عنبریں حسیب عنبر
طلسم عشق تھا سب اس کا ساتھ ہونے تک
خیال درد نہ آیا نجات ہونے تک
وہ اس کمال سے کھیلا تھا عشق کی بازی
میں اپنی فتح سمجھتا تھا مات ہونے تک
تاج دار عادل
بزم شعروسخن کا آٹھواں سالانہ مشاعرہ
















