35 برس قبل میرے مشرق بعید کے سفر کا آغاز ایسے ہوا کہ کسی کوشش اور تگ و دو کے بغیر مجھے سنگاپور کا سرکاری وظیفہ عطا ہو گیا۔ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا آغاز 1990 میں لاہور میں ہوا تھا۔ میری پوسٹنگ اس کے شعبہ بے ہوشی (Anesthesia) میں سپیشلسٹ کے طور پر ہو گئی تھی. یہاں کام کرتے ہوئے ایک سال کا عرصہ گزرا کہ ایک روز پروفیسر کرنل چیمہ نے مجھے اپنے دفتر میں بلایا اور غیر ملکی سکالرشپ برائے ایڈوانس ٹریننگ کا ایک فارم میرے سامنے رکھا جو ان کے سیکریٹری نے پہلے سے مکمل کر رکھا تھا۔ انہوں نے مجھے اس فارم پر دستخط کرنے کے لئے کہا جو میں نے فورا کر دئے۔ آفس سیکریٹری نے بتایا کہ وہ فارم ہسپتال کے مین آفس میں جمع کرا آیا ہے۔ میں نے سوچا کہ بغیر کسی سفارش کے غیر ملکی وظیفہ ملنے کا کوئی امکان نہیں اس لئے اس بات کو بھول ہی گیا۔ دسمبر 1991 کے آخری دن تھے اور ایک دن ڈیوٹی کے بعد شام کو گھر پر سو رہا تھا کہ فون کی گھنٹی سنائی دی۔ میں نے فون اٹھایا تو لائن پر موجود شخص نے اپنا نام ڈاکٹر افضل بتایا اور کہا کہ ان کا اور میرا سنگاپور کا ٹکٹ ائر لائن کے دفتر میں موجود ہے۔ اگلے روز ڈاکٹر افضل کے ہمراہ شملہ پہاڑی پر واقع دفتر گیا تو وہاں سنگاپور کی وزارت خارجہ کی جانب سے 3 روز بعد کا ٹکٹ موجود تھا۔ اس کے ساتھ یہ پیغام موجود تھا کہ 5 روز بعد مجھے سنگاپور جنرل ہسپتال میں ڈیوٹی پر پہنچنا ہے۔ ائر لائن والوں نے بتایا کہ ویزا ایرپورٹ پر وزارت خارجہ کا ٹکٹ دکھا کر سٹمپ ہو جائے گا۔ اب مجھے سمجھ آیا کہ میرے لئے سرکاری وظیفہ منظور ہو چکا ہے حالانکہ حکومت کی جانب سے مجھے اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ ائرلائن کے دفتر سے نکل کر بھاگم بھاگ پنجاب سیکریٹریٹ میں واقع محکمہ صحت کے دفتر میں گیا تو معلوم ہوا کہ میرا نام کامیاب امیدواروں میں شامل ہے لیکن کسی نے مجھے یا میرے ہسپتال کو مطلع کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ چونکہ وقت کم رہ گیا تھا اس لئے دوستوں کے مشورے پر طے پایا کہ سنگاپور کی حکومت سے ایک ماہ کی تاخیر کی اجازت لی جائے۔ ای میل کے ذریعے متعلقہ ہسپتال سے براہ راست رابطہ کیا تو انہوں نے یکم فروری 1992 کو ٹریننگ شروع کرنے کی اجازت دے دی۔ محکمہ صحت کی سرکاری کارروائی اور اپنی دیگر ضروریات مکمل کرکے میں 31 جنوری 1992 کو ایک سال کے لئے سنگاپور روانہ ہوا۔
وطن عزیز سے باہر کسی دوسرے ملک کا یہ میرا پہلا سفر تھا۔ خاندان بھر اور دوستوں کی نصیحتوں کی طویل فہرست میرے ساتھ تھی۔ لاہور سے میرا طیارہ کراچی پہنچا اور وہاں سے چھ گھنٹے کے سفر کے بعد بادلوں میں تیرتا ہوا جہاز سمندر کے قریب واقع چانگی ایرپورٹ پر اترا جہاں پر سب سے زیادہ خوبصورت چیز بڑے بڑے شیشوں میں تیرتی ہزاروں رنگ برنگی مچھلیاں تھیں۔ چند سیکنڈ میں پاسپورٹ پر انٹری ویزا لگ گیا اور سامان لے کر میں ایرپورٹ سے باہر نکلا۔ استقبال کرنے والا سرکاری کارندہ ائرپورٹ سے مجھے لائن سٹی ہوٹل میں لے گیا جو مسلم علاقے میں واقع ایک تھری سٹار ہوٹل تھا اور یہاں ہمارے مستقل قیام کا انتظام تھا۔ اگلے روز سنگاپور کی وزارت خارجہ سے رابطہ کرنے پر ان کی جانب سے مجھے سرکاری مہمان قرار دیا گیا جو میرے لئے بڑے اعزاز کی بات تھی۔ بارہ سو سنگاپور ڈالر ماہانہ اعزازیہ طے کیا گیا۔ میری فیملی چند ماہ بعد سنگاپور پہنچی۔ سنگاپور جنرل ہسپتال پہنچ کر معلوم ہوا کہ میرے شعبے کے سربراہ ایک انڈین نزاد ڈاکٹر ہیں لیکن انہوں نے مناسب طریقے سے استقبال کیا اور دوران ٹریننگ ان کے ساتھ اچھے تعلقات رہے۔ یہاں رہتے ہوئے یہ احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ میں ایشیا کے کسی ملک میں قیام پذیر ہوں بلکہ یوں لگتا تھا کہ میں ایک نئی دنیا میں پہنچ گیا ہوں۔
اس سے پہلے کہ میں آپ کو سنگاپور کے پرانے اور موجودہ ایرپورٹ کی سیر کرائوں ، یہاں کے باشندوں کا حال احوال بتائوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے بارے میں تفصیل سے آگاہی دوں ، میں چاہتا ہوں کہ یہاں کی کچھ چیدہ چیدہ باتوں کا تذکرہ ہو جائے۔ سب سے اچھی بات یہاں پر صفائی ستھرائی کا اعلی معیار ہے۔ اگرچہ یہ ایک چھوٹے سائز کا جزیرہ ہے جس کے چاروں طرف پانی ہے لیکن پورے جزیرے میں کہیں مٹی نظر نہیں آتی۔ بلند و بالا عمارتیں موجود ہیں یا پھر گھاس نے جزیرے کو ڈھانپ رکھا ہے۔ گرد و غبار کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا۔ ایک سال کے دوران جوتے پالش کرنے کی نوبت نہیں آئی اور صرف کپڑے سے کبھی کبھار صاف کر لیتا تھا۔
دوسری بات اس جزیرے کا سرسبز و شاداب ہونا ہے۔ موسم ہلکا گرم اور مرطوب رہتا ہے۔ بارش تقریبا ہر روز جزیرے کے کسی حصے پر ہوتی ہے اس لئے درخت ، پھول اور سبزہ اگانا آسان ہے۔ یوں یہ شہر CLEAN & GREEN کی عملی تصویر نظر آتا ہے۔ جسمانی اور ذہنی صحت کے فروغ پر حکومت کی جانب سے کثیر رقم خرچ کی جاتی ہے۔ صحت مند معاشرے کے قیام کے لئے بیماریوں کی روک تھام اور بچائو پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ اسکولوں ، کالجوں ، پارکوں اور تفریحی مقامات پر کھیل کود اور جسمانی ورزش کے بہترین انتظام موجود ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سنگاپور کے باشندوں کی Life Expectancy (اوسط عمر) 83 برس ہے جبکہ چین 79 سال ، امریکہ میں یہ اوسط 78 برس اور پاکستان میں 67 سال ہے۔ صحت کے شعبہ میں ریسرچ کے میدان میں یہ ملک کافی آگے ہے۔ تعلیمی میدان میں نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور (NUS) کا شمار تعلیم اور تحقیق کے بہترین عالمی اداروں میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی عالمی معیار کے تعلیمی ادارے موجود ہیں جن کا تذکرہ آئندہ کیا جائے گا۔
سیاحت کے لئے سنگاپور ایک خوبصورت اور پرکشش مقام کے طور پر دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں ہر عمر ، ہر نسل اور مختلف مزا کے لوگوں کے لئے منفرد نوعیت کی رنگارنگ تفریحی سہولیات موجود ہیں۔ بچے ، نوجوان ، خواتین اور بڑی عمر کے لوگ سب یہاں پر محظوظ ہوتے ہیں۔ Sentosa Island سنگاپور سے بالکل قریب واقع ہے اور دنیا بھر کے سیاحوں کے لئے تفریح کا دیدہ زیب مقام ہے۔ Merlion پر شیر کا دیو ہیکل مجسمہ جس کے منہ سے پانی کا فوارہ جاری رہتا ہے دور دراز سے آنے والوں کی توجہ کا خاص مرکز ہے۔ بچوں کی خاص دلچسپی کی چیزیں برڈ پارک ، چڑیا گھر اور کروکوڈائل فارم کی صورت میں موجود ہیں۔ نوجوانوں کے لئے آرچرڈ سٹریٹ کی رنگینیوں میں بے حد کشش پائی جاتی ہے۔ ایکوریم Under Water World میں ہر عمر کے لوگ ایک نئی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ چین سے آنے والے سیاح چائنا ٹائون میں گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں ، قریبی جزیرے Kusu Island کے بڑے اژدھے دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں اور جزیرے پر واقع ٹمپل میں پانسے پھینک کر اپنی قسمت کا حال معلوم کرتے پیں۔ انڈیا سے آنے والے لٹل انڈیا میں سیر و تفریح کرتے اور مصطفے سٹور میں خریداری کرتے نظر آتے ہیں۔ تاریخ کے شائقین نیشنل میوزیم اور تاریخی عمارتوں کی سیر کو ترجیح دیتے ہیں۔
مسلمانوں کے لئے حلال کھانے ہر جگہ دستیاب ہیں۔ آج سے 33 برس قبل KFC, Mcdonald اور A & W مکمل حلال فاسٹ فوڈ مہیا کر رہے تھے۔ وہ اپنے استعمال میں لانے والی خودونوش کی تمام اشیا ملائشیا اور انڈونیشیا سے منگوا رہے تھے۔ ہاں کسی چیز کے کی تلاش مشکل کام ہے تو وہ گرما گرم روٹی ہے جس کے لئے آپ کو سرنگون روڈ جانا پڑتا ہے۔ شہر میں کئی مقامات پر مساجد موجود ہیں۔ جمعہ اور عید کی نمازیں شہر کے وسط میں واقع تاریخی عظیم الشان مسجد سلطان میں ادا کی جا سکتی ہیں۔ اس کی قریبی دکانوں میں قیمہ اور انڈے والا پراٹھا ( مرتباک) خاص ذائقہ کی چیز ہے۔ سیاحوں کو نت نئی اشیا کی خریداری کے بے شمار مقامات موجود ہیں۔ سنگاپور کی ان رنگینیوں کی وجہ سے دنیا بھر سے سیاح یہاں کھنچے چلے آتے ہیں۔
قانون کی پاسداری ہر جگہ نظر آتی ہے۔ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ ہر فرد کو قانون کا احترام کرنا پڑتا ہے۔ اگر کسی سے غلطی سرزد ہو جائے تو اس کو بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ اشرافیہ اور عوام کے درمیان بڑی تفریق نہیں پائی جاتی۔ شہری کی حیثیت سے ہر ایک سے برابری کا سلوک کیا جاتا ہے۔ ہر شہری کو تعلیم ، صحت ، رہائش اور ملازمت فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ عوامی فلاح کے منصوبوں پر حکومت ہر سال اربوں ڈالر صرف کرتی ہے۔ تعلیم حکومت کی جانب سے مفت ہے۔ صحت کی اعلی سہولتیں سوشل سیکیورٹی کے ذریعے مفت یا بہت کم خرچے پر فراہم کی جاتی ہیں۔ حکومت ہر شہری کو ملازمت ملنے پر گھر بنا کر دے دیتی ہے جس پر کوئی منافع نہیں لیا جاتا اور اس کے پیسے بیس برسوں میں تنخواہ میں سے آسانی سے ادا ہو جاتے ہیں۔ بے روز گاری کی صورت میں شہریوں کو الائونس ادا کیا جاتا ہے۔ غرضیکہ ہر شہری کو بنیادی ضرورتوں کی فراہمی کا بہترین انتظام موجود ہے۔
بحری شاہراہ رہشم ( MARITIME SILK ROAD) پر واقع ہونے کی وجہ سے یہ ملک کرہ ارض کے مختلف خطوں کے درمیان رابطے کا بڑا ذریعہ ہے۔ یہاں کی بندرگاہیں دنیا کی مصروف ترین بحری مقامات میں شامل ہیں۔ ان کا تفصیلی تذکرہ آگے چل کر کیا جائے گا۔ سنگاپور نے 1965 میں آزادی کے بعد 25 سالوں میں حیرت انگیز رفتار سے ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کرکے اعلی مقام حاصل کر لیا ہے۔ یہاں کی مصنوعات کا معیار بلند ہے اور وہ مہنگے داموں فروخت کی جاتی ہیں۔
مواصلات کا جدید ترین نظام قائم کیا گیا ہے۔ میٹرو ٹرین (MRT) سے آپ شہر کے تمام حصوں میں تیز رفتاری سے جا سکتے ہیں۔ اس کی دیکھ بھال اور وسعت دینے کا کام سارا سال جاری رہتا ہے۔ 10 بڑی شاہراہوں اور ان کو آپس میں ملانے والی سڑکوں کا جال بچھایا گیا ہے۔ ٹریفک کے سخت قوانین نافذ ہیں جن کی وجہ سے حادثات کی شرح بہت کم ہے۔ ایک اور نئی شاہراہ کی تعمیر کا آغاز ہو چکا ہے سڑکوں کو بہترین حالت میں رکھنے پر ہر سال کثیر رقم فراہم کی جاتی ہے۔ فون اور پیجر سروس کا بہترین انتظام موجود ہے۔ لوکل فون کال مفت ہے اگرچہ اب موبائل فون کی وجہ سے لینڈ لائن کی اہمیت بہت کم ہو گئی ہے۔
سنگاپور کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں مختلف تہذیبوں اور مذاہب کے لوگ عرصہ دراز سے آباد ہیں۔ چینی نسل کی اکثرہت ہے اور ان کی تعداد تین چوتھائی سے کچھ زائد ہے۔ ان میں سے بیشتر بدھ مذہب کے پیروکار ہیں۔ سینکڑوں برس تک یہ ملائشیا کا حصہ رہا اور مسلمانوں نے اس پر حکمرانی کی اس لئے مسلم تہذیب و ثقافت کے گہرے اثرات یہاں پائے جاتے ہیں۔ جنوبی ہند سے تعلق رکھنے والے سات فیصد افراد یہاں کے مستقل باشندے ہیں جن میں سے بیشتر کا مذہب ہندو ہے۔ شمالی ہندوستان سے تعلق رکھنے والے سکھ بھی ایک فیصد کی آبادی رکھتے ہیں جن کی علیحدہ مذہبی شناخت ہے۔ یورپ اور امریکہ کے کچھ باشندے بھی پائے جاتے ہیں۔ چینی نسل کے باشندوں میں عیسائی مذہب اختیار کرنے والوں کی تعداد بیس فیصد تک پہنچ چکی ہے اور کرسمس یہاں زور و شور سے منائی جاتی ہے۔ اس طرح یہ ملک مختلف نسلوں اور کئی تہذیبوں کا گہوارہ بن گیا ہے۔
اس سفرنامے کی ابتدا یوں ہوئی کہ میں اپنی یادداشتوں کو تحریر کر لیتا تھا اور یہ وقتا فوقتا آئن لائن شائع ہو جاتی تھیں۔ کچھ دوستوں نے اس سلسلے کو دلچسپ جانا اور مجھے سفرنامہ لکھنے کی ترغیب دی۔ سنگاپور کے بارے میں مضامین کئی برسوں سے تحریر کر رہا ہوں۔ سفر کے دوران پیش آنے والے تجربات ، حیرت انگیز مشاہدات اور دلچسپ معلومات کے ساتھ تاریخ و جغرافیہ ، تہذیب و ثقافت ، تعلیم و صحت ، رہن سہن ، عادات و اطوار ، کھیل کود ، صنعت و حرفت ، تجارت و معیشت ، آئین و قانون ، سیاست و حکومت ، قیادت و سفارت جیسے موضوعات بھی شامل ہوتے چلے گئے۔ اس ملک نے کیسے اس قدر تیزی سے ترقی کرلی اس بارے میں بھی معلومات فراہم کی جائیں گی۔ سنگاپور کے قریبی ملکوں (ملائشیا اور انڈونیشیا) میں کئی بار جانے کا موقع ملا اور ان ملکوں کی سیر بھی اس سفرنامے کا حصہ بن گئی۔ یوں سنگاپور اور اس کے اطراف کے بارے میں 50 برسوں کی اہم معلومات کا ذخیرہ جمع ہو گیا۔ قدیم اور جدید ، دونوں ادوار کی جھلک آپ کو اس سفرنامے میں نظر آئے گی۔
ایک نئی دنیا: سنگاپور
















