Advertisement

بائیکاٹ سے متبادل تک | میرا برینڈ پاکستان

بابائے قوم قائداعظم کے معاشی خود انحصاری کے وژن سے پاکستانی برانڈز کی عالمی شناخت تک۔
14 اگست صرف جشنِ آزادی کا دن نہیں، بلکہ اپنے قومی سفر کا جائزہ لینے اور مستقبل کے لیے نئے عزم کی تجدید کا دن بھی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھا تھا جو سیاسی طور پر آزاد، معاشی طور پر خودمختار اور دنیا میں باوقار مقام رکھنے والی ریاست ہو۔ آج اگر ہم ان کے وژن کو عملی شکل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے نوجوانوں، صنعت کاروں، تاجروں، خواتین اور پاکستانی مصنوعات کو مضبوط بنانا ہوگا۔
چند برس قبل غزہ کے صورتحال پرجب دنیا بھر میں بعض عالمی مصنوعات کے بائیکاٹ کی بات ہو رہی تھی، پاکستان میں ایک مختلف اور دوراندیش سوچ سامنے آئی۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے یہ سوال اٹھایا کہ صرف بائیکاٹ کافی نہیں، ہمیں اپنے لوگوں کو متبادل پاکستانی مصنوعات بھی فراہم کرنی چاہئیں۔
یہ ایک عام تجارتی تجویز نہیں تھی، بلکہ ایک معاشی وژن تھا۔
انہوں نے کراچی کے تاجروں کو ایک جگہ جمع کیا اور یہ سوچ سامنے رکھی کہ اگر پاکستانی قوم کسی غیرملکی برانڈ کا متبادل چاہتی ہے تو اسے پاکستانی برانڈ بھی دینا ہوگا۔ محض یہ کہنا کافی نہیں کہ یہ چیز نہ خریدیں؛
ضروری یہ ہے کہ ہم کہیں
’اس کے بجائے پاکستان کی بنی ہوئی چیز خریدیں۔‘
اسی وژن کے تحت کراچی کے تاجروں کو ایک پلیٹ فارم دینے اور پاکستانی مصنوعات کو عوام کے سامنے لانے کے لیے ایک ایکسپو کا ٹاسک سہیل عزیز صاحب صدر PIBF کراچی کو سونپا گیا۔
سہیل عزیز صاحب نے اس ذمہ داری کو محض ایک ایونٹ سمجھ کر نہیں لیا بلکہ اسے ایک تحریک اور معاشی مشن کے طور پر آگے بڑھایا۔ انتہائی مختصر مدت میں میرا برینڈ پاکستان کی پہلی شاندار نمائش کا انعقاد ہوا۔ اس ایکسپو نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان میں صلاحیت کی کمی نہیں، صرف صلاحیتوں کو ایک منظم پلیٹ فارم دینے کی ضرورت ہے۔
یہیں سے ایک سفر شروع ہوا۔
اور آج یہی سفر ایک بڑے قومی برانڈ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
میرا برینڈ پاکستان اب پاکستان کی معروف ایکسپوز میں شمار ہوتا ہے۔ کراچی سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ لاہور، اسلام آباد اور ملک کے دیگر بڑے شہروں تک پہنچ چکا ہے۔ یہ صرف نمایش نہیں بلکہ پاکستانی کاروبار، پاکستانی مصنوعات اور پاکستانی ٹیلنٹ کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا ایک وسیع پلیٹ فارم بن چکا ہے۔
14 اگست کے موقع پر لاہور کے تاریخی شہر میں ایکسپو سینٹر میں میرا برینڈ پاکستان کی تین روزہ نمائش کا انعقاد محض ایک اتفاق نہیں کہ پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر پاکستانی برینڈز ایک بڑے تجارتی پلیٹ فارم پر اپنی شناخت پیش کریں۔
یہ دراصل آزادی کے ایک نئے مفہوم کی عکاسی ہے۔
سیاسی آزادی کے بعد معاشی خودمختاری۔
میرا برینڈ پاکستان کا بنیادی مقصد صرف مصنوعات کی نمائش نہیں۔ اس کے پیچھے ایک واضح سوچ ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں کو اپنے ہی ملک میں روزگار، کاروبار اور ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
آج ہمارا نوجوان صرف ملازمت کا خواہش مند نہیں؛ وہ entrepreneur بننا چاہتا ہے، اپناstartup شروع کرنا چاہتا ہے، اپنی SME قائم کرنا چاہتا ہے اور اپنی مصنوعات کو پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی مارکیٹ میں متعارف کرانا چاہتا ہے۔
میرا برینڈ پاکستان ایسے ہی نوجوانوں کو پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔
یہاں ایک چھوٹا کاروبار بھی اپنی مصنوعات کو بڑے خریداروں کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔ ایک startup اپنے آئیڈیا کو مارکیٹ سے متعارف کرا سکتا ہے۔ ایک SME اپنی برانڈنگ بہتر بنا سکتی ہے اور ایک پاکستانی صنعت کار اپنی مصنوعات کے لیے نئی مارکیٹ تلاش کر سکتا ہے۔
اس سفر کا ایک انتہائی اہم اور خوبصورت پہلو پاکستانی خواتین کی معاشی شمولیت بھی ہے۔
بہت سی خواتین برسوں سے گھروں میں بیٹھ کر کپڑے، دستکاری، کھانے پینے کی اشیاء، جیولری، فیشن اور دیگر مصنوعات تیار کرتی رہی ہیں۔ مسئلہ یہ تھا کہ ان کی مصنوعات گھر کی چار دیواری سے نکل کر بڑی مارکیٹ تک نہیں پہنچ پاتی تھیں۔
میرا برینڈ پاکستان نے ان خواتین کو بھی ایک بڑا پلیٹ فارم دیا۔
آج وہ صرف اپنی مصنوعات فروخت نہیں کر رہیں بلکہ اپنی برانڈنگ، پیکیجنگ، مارکیٹنگ اور تجارتی شناخت پر بھی کام کر رہی ہیں۔ ایک گھریلو کاروبار کو باقاعدہ برانڈ میں تبدیل کرنے کا یہ عمل پاکستان کی معیشت میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کی ایک مثبت مثال ہے۔
سب سے اہم یہ ہے کہ میرا برینڈ پاکستان اب صرف پاکستان تک محدود نہیں رہا۔
کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے بعد اس کی رسائی بیرونِ ملک بھی بڑھ رہی ہے۔ ستمبر میں ترکیہ میں پاکستانی بزنس کمیونٹی وفد کی شرکت اسی بین الاقوامی سفر کی ایک اہم کڑی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر پاکستانی مصنوعات کو مناسب پلیٹ فارم، بہتر presentation اور عالمی مارکیٹ تک رسائی دی جائے تو ہمارے برانڈز دنیا کے سامنے اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔
اسی سال اسلام آباد میں20-21-22 نومبر میرا برینڈ پاکستان کا انعقاد ہوگا، جبکہ جنوری 2027 میں کراچی ایکسپو سینٹر میں بھی میرا برینڈ پاکستان گرینڈ ایکسپو کی ایک بڑی نمائش منعقد ہونے جا رہی ہے۔
اس پورے سفر میں ایک فرد یا ایک ادارے کی نہیں بلکہ ایک وژن کی کامیابی ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے متبادل پاکستانی مصنوعات کا وژن دیا۔
سہیل عزیز نے اس وژن کو ایک عملی ایکسپو میں تبدیل کیا۔
اور آج مرکزی صدر جناب محمد مشتاق مانگٹ صاحب کی سربراہی میں یہ سلسلہ پاکستان بھر میں آگے بڑھ رہا ہے۔
یہی کسی وژن کی اصل کامیابی ہوتی ہے کہ وہ ایک فرد تک محدود نہ رہے بلکہ ایک قومی تحریک کی شکل اختیار کر جائے۔
آج 14 اگست کے دن ہم سبز ہلالی پرچم کو دیکھتے ہیں تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ اس پرچم کے ساتھ ہماری مصنوعات بھی دنیا بھر کی مارکیٹوں میں لہرا سکتی ہیں۔
ہمیں صرف یہ نہیں کہنا کہ پاکستان زندہ باد۔
ہمیں اپنی صنعت، اپنے کاروبار، اپنے نوجوانوں، اپنی خواتین اور اپنی مصنوعات کو مضبوط کرکے اس نعرے کو عملی حقیقت میں تبدیل کرنا ہوگا۔
کیونکہ جس دن دنیا پاکستانی مصنوعات کو معیار، اعتماد اور جدت کی علامت کے طور پر پہچاننے لگے گی، اس دن ہماری معاشی آزادی بھی ایک نئی منزل حاصل کرے گی۔
میرا برینڈ پاکستان اسی سفر کا نام ہے۔
یہ ایک ایکسپو نہیں؛
یہ پاکستانی مصنوعات کی شناخت ہے۔
یہ نوجوانوں کے خوابوں کا پلیٹ فارم ہے۔
یہ خواتین کی معاشی خودمختاری کا راستہ ہے۔
یہ SMEs اور startups کے لیے مواقع کا دروازہ ہے۔
اور سب سے بڑھ کریہ قائداعظم کے معاشی خودانحصاری کے وژن کو عملی شکل دینے کی ایک کوشش ہے۔
آئیے اس 14 اگست پر ایک نیا عہد کریں:
بائیکاٹ کے ساتھ متبادل پیدا کریں،
مقامی کے ساتھ عالمی معیار پیدا کریں،
نوجوانوں کو روزگار کے ساتھ کاروبار دیں،
اور پاکستانی مصنوعات کو پاکستان سے دنیا تک لے جائیں۔
یہی حقیقی معاشی آزادی ہے۔
پاکستان زندہ باد
پاکستانی برانڈز پائندہ باد۔

error: