Advertisement

امریکا نے ایران پر حملہ کیوں کیا ؟ جنگوں کی سوداگری جاری!

بظاہر امریکا ایران جنگ کا اختتام ہوچکا ہے ۔ دونوں فریق باکسنگ رنگ کے اپنے اپنے کونوں میں بیٹھے سستا رہے ہیں ۔ دونوں ہی فریق تھکاوٹ کا بھی شکار ہیں اور فوری طور پر ایک بریک چاہتے تھے اور اس بریک کے لیے مذاکرات کا سہارا لیا گیا ہے ۔ یہ جنگ بندی کب تک چلے گی ۔ اس سوال کا جواب اس میں پنہاں ہے کہ کیا جنگ کے اہداف حاصل ہوگئے ہیں ۔ ان اہداف کو جاننے کے لیے دیکھنا ہوگا کہ یہ جنگ شروع ہی کیوں کی گئی تھی ۔
جنگ میں بریک کی ایک وجہ اسرائیل اور امریکا میں ہونے والے انتخابات بھی ہیں ۔ جنگ کی موجودہ صورتحال سے اسرائیل اور امریکا دونوں میں ان کے سربراہوں کے خلاف منفی ردعمل بڑھتا جارہا ہے ۔ اسرائیل میں اکتوبر میں عام انتخابات ہیں جبکہ امریکا میں نومبر میں مڈٹرم انتخابات ہوں گے ۔ نیتن یاہو المعروف بی بی کا اسرائیلی سیاست میں سورج تقریبا غروب ہوچکا ہے ۔ ویسے بھی وہ اقلیتی وزیر اعظم تھے جو دائیں بازو کی انتہا پسند پارٹیوں کی حمایت سے برسراقتدار تھے ۔ ایک سروے کے مطابق بی بی کی مقبولیت کا گراف 20 فیصد سے بھی کم پر آ گیا ہے ۔ بی بی کے ساتھ ایک مشکل اور بھی ہے کہ وہ کرپشن کے مقدمے میں ماخوذ ہیں ۔ وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہونے کی بناء پر انہیں عدالتی کارروائی سے استثنیٰ ہے جو اقتدار سے رخصت ہوتے ہی ختم ہوجائے گا اور امید ہے کہ وہ فوری طور پر گرفتار بھی ہوجائیں گے۔ ٹرمپ کے بار بار اصرار اور دباؤ کے باوجود اسرائیلی صدر ہرزوگ بی بی کو مستقل استثنیٰ دینے یا معافی دینے سے انکار کرچکے ہیں ۔ بی بی کے ساتھ ایک مسئلہ اور بھی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بھی ان کے خلاف ہوچکی ہے ۔ موساد میں باہر سے سربراہ لانے پر موساد میں ان کے خلاف غصہ ہے ۔ اٹارنی جنرل سے لے کر عدلیہ تک ان کے خلاف ہے ۔ ان کے خلاف ہونے والے مظاہرے روز بہ روز پرہجوم اور پرتشدد بھی ہوتے جارہے ہیں ۔
ٹرمپ کے لیے بھی امریکا میں حالات سازگار نہیں ہیں ۔ ٹرمپ تو وہ باکمال شخصیت ہیں جسے کسی دشمن کی ضرورت ہی نہیں۔ وہ اپنے لیے گڑھا کھودنے کے لیے آپ ہی کافی ہیں ۔ دوستوں کو دشمنوں کی صف میں شامل کرنے کی صفت میں انہیں ملکہ حاصل ہے ۔ ایران پر حملے میں امریکا کےساتھ صرف اور صرف اسرائیل تھا ۔ امریکا کے سارے روایتی اتحادی یورپ ، آسٹریلیا اور کینیڈا وغیرہ اس لیے دور کھڑے نظر آئے کہ ٹرمپ نے اقتدار میں آتے ہی سب سے پہلے اپنے ان روایتی اتحادیوں کو کنارے کیا تھا۔ کینیڈا کو امریکا کی ریاست بنانے ، تیل سے مالا مال البرٹا کو کینیڈا سے الگ کرنے کی سازشیں ، کینیڈا کو معاشی طور پر بدحال کرنے ، سوئیڈن کے زیر انتظام گرین لینڈ پر قبضہ کرنے ، سارے ہی اتحادیوں پر بھاری ٹیرف لگانے کے ساتھ ساتھ ذاتی حملوں نے بھی ٹرمپ کو اکیلا کردیا ہے ۔ کچھ نہیں تو فرانسیسی صدر پر ان کی اہلیہ کے حوالے سے طنز کرنے یا جملے کسنے، سوئیڈن و اٹلی کی خواتین وزرائے اعظم پر رکیک جملے کسنے کی عادت نے بھی انہیں تنہائی کا شکار کردیا ہے ۔سینیٹ میں گزشتہ دو مرتبہ کی ووٹنگ میں ٹرمپ کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اس کی وجہ وہ چار ریپبلکن سینیٹرز ہیں جنہیں ٹرمپ نے ریپلک پارٹی کی پرائمری میں نہ صرف ذاتی طور پر تضحیک کا نشانہ بنایا تھا بلکہ اپنا اثر استعمال کرکے انہیں ہروایا بھی تھا ۔ اب اگرٹرمپ مڈٹرم انتخابات بھی ہار جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سینیٹ ان کے ہاتھ سے گئی ۔ اگر ٹرمپ بدستور بدسلوکی اور تضحیک کا یہی رویہ اختیار رکھتے ہیں جو ان کا وتیرہ ہے تو کانگریس میں بھی ریپلکن ارکان پارلیمنٹ ڈیموکریٹس کا ساتھ دے کر ان کے لیے مسائل پیدا کرسکتے ہیں ۔
اس کا مطلب یہ ہے کوئی ایسا سرپرائز بی بی کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل میں انتخابات یا تو ملتوی ہوجائیں یا بی بی ایک ہیرو بن کر سامنے آئیں تاکہ وہ انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرسکیں ۔ اسی طرح ٹرمپ کو بھی اکتوبر سرپرائز کی شدید ترین ضرورت ہے تاکہ وہ انتخابات میں امریکی رائے عامہ کو تبدیل کرسکیں ۔ یعنی اکتوبر سے قبل کوئی ایسا بھرپور حملہ یا کوئی ایسا اقدام جس سے امریکا اور اسرائیل کے فاتح ہونے کا تصور سامنے آسکے اور ٹرمپ و بی بی اپنے ووٹرز کو نئے خواب دکھا کر اس صورتحال سے باہر نکل سکیں جو انہیں سیاست کے میدان سے باہر کرنے کا باعث بن رہی ہے ۔
جنگ میں بریک کی ایک اور وجہ بارود کی کمی بھی ہے ۔ امریکا- اسرائیل اور ایران دونوں فریقوں کے پاس اس وقت اسلحہ و بارود کی شدید کمی ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ چند ماہ کا وقفہ لیا جائے تاکہ رسد کی کمی کو پورا کیا جاسکے ۔
یہ تو اس بات کا جائزہ ہے کہ جنگ بندی کیوں ہوئی اور کیا یہ مستقل ہے ۔ پاک بھارت ، بنگلا دیش و بھارت یا تھائی لینڈ و کمبوڈیا جیسی جھڑپوں سے قطع نظر عالمی طاقتیں جب بھی جنگ شروع کرتی ہیں تو جنگ کبھی بھی مطلق ہدف یا مقصد نہیں ہوتی بلکہ یہ ہمیشہ کسی بڑے پروجیکٹ کا ایک چھوٹا سا حصہ ہوتی ہے ۔ ملین ڈالر کا سوال ہی یہی ہے کہ امریکا نے ایران پر حملہ کیوں کیا ؟ یہ احمقانہ جواب ہے کہ اسرائیل کے کہنے پر امریکا نے ایران پر حملہ کردیا یا نیتن یاہو کی دوستی میں آ کر ٹرمپ نے یہ کام کیا یا یہودی لابی امریکا کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔ پرانے زمانے میں تو بادشاہ یا راجا ذاتی دوستی میں جنگ میں کود جایا کرتے تھے مگر آج کے دور میں ایسا کچھ نہیں ہے ۔ یہ ضرور ہے کہ جب دو لوگوں کے مفادات ایک ہو جائیں تو کسی ایک پروجیکٹ میں وہ حلیف ہوتے ہیں اور جب مفادات برعکس ہوں تو وہی دونوں حریف بھی ہوتے ہیں ۔ حلیف و حریف کی یہ صورتحال بیک وقت بھی ہوتی ہے ۔ القاعدہ کے خلاف امریکا اور یورپ پوری دنیا میں مہم چلا رہے تھے مگر یہی القاعدہ شام میں ان ہی ممالک کی حلیف تھی ۔ کچھ یہی صورتحال داعش کی تھی ۔ ترکی افغانستان میں نیٹو کی کمانڈ کررہا تھا مگر کردوں کے معاملے میں وہ ان ہی یورپی ممالک اور امریکا کے خلاف جنگ کررہا تھا ۔ ایک طرف ترکی روس سے فضائی دفاعی نظام خرید رہا تھا تو دوسری طرف شام میں روس کے خلاف لڑ رہا تھا ۔
تو سب سے پہلے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر ٹرمپ نے ایران پر حملہ کیوں کیا؟ جب اس سوال کا جواب جان جائیں گے تو اس سوال پر بات کرنا آسان ہوجائے گی کہ آخر اس جنگ کا منصوبہ کار کون ہے۔ جب منصوبہ کاروں کے بارے میں جانکاری ہوجائے گی تو اس جنگ کا اصل مقصد بوجھنا آسان ہوجائے گا۔
ایران پر حملہ
اسرائیل اور امریکا نے 28 فروری 2026 کو ایران پر حملہ کردیا ۔ اسے ان دونوں ممالک نے OPERATION FURY یا عظیم قہر کا نام دیا ۔ ایران پر یہ حملہ کوئی اچانک نہیں تھا ۔ ہفتوں پہلے سے اس کا اعلان کردیا گیا تھا ۔ اس حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران کئی مرتبہ اپنی فضائی حدود بند کرچکا تھا ۔ حملے کے آغاز سے لے کر پہلے 12 گھنٹوں میں امریکا و اسرائیل نے ایران پر 900 وار کیے تھے ۔ یہ حملے واقعی عظیم قہر کے مصداق تھے ۔ پہلے دن کے ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ایران کے جنوبی شہر ہرمزگان کے علاقے میناب میں لڑکیوں کے ایک پرائمری اسکول پر بھی شدید بمباری کی گئی ۔ چونکہ حملہ اس وقت کیا گیا تھا جب اسکول لگا ہوا تھا اور تدریس پورے عروج پر تھی ۔ اس لیے ساری ہی بچیاں اپنی کلاسوں میں موجود تھیں ۔ اسکول پر ہونے والے اس حملےمیں 110 معصوم بچیوں سمیت 168 بے گناہ افراد موت کا شکار ہوئے ۔
ایران پر حملے کے لیے امریکا نے جو جواز پیش کیے اس میں سے سب سے زیادہ جس پر زور تھا وہ تھا ایران کی ایٹمی صلاحیت ، دوسرا جواز یہ تھا کہ ایران کا میزائل پروگرام امریکا پر حملہ کے قابل ہوگیا ہے ۔ یہ دونوں جواز ایسے ہی تھے جیسے امریکا نے عراق پر حملے کے لیے وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری اور عراق کی ایٹمی صلاحیت کے حوالے سے دنیا کے سامنے پیش کیے تھے ۔ بعد میں امریکا نے خود بھی تسلیم کیا اور اس کے اتحادیوں نے بھی اس امر کا برملا اعتراف کیا کہ یہ سب جھوٹ تھا ۔
کچھ یہی صورتحال ایران کے ساتھ بھی رہی ۔ امریکا پر حملے کے لیے ایران کو بین البراعظمی میزائیل درکار ہیں جس کی صلاحیت ایران کے پاس ہے ہی نہیں اور نہ ہی اس نے اس کا آج تک کوئی تجربہ کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے جو بھی جوابی کارروائی کی وہ متحدہ عرب امارات، بحرین ، اردن ،قطر، سعودی عرب، عراق اور اسرائیل تک ہی محدود رہی ۔ رہی بات ایران کی ایٹمی صلاحیت کی تو امریکا نے گزشتہ برس خود ہی اس بات کا اعلان کیا تھا کہ اس نے ایران کی ایٹمی صلاحیت کا مکمل خاتمہ کردیا ہے ۔ ٹھیک ایک برس قبل 22 جون 2025 کو امریکا نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا تھا ۔ یہ حملے بارہ روز تک جاری رہے تھے جس میں فرودو، نطنز اور اصفہان میں واقع ایران کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا ۔ اس حملے کو OPERATION MID NIGHT HAMMER کا نام دیا گیا تھا ۔ اس آپریشن کے تحت بارہ روز میں بنکر بسٹر بموں سے 14 حملے کیے گئے ۔ یہ بنکر بسٹر بم بھی ایک طرح کے نیوکلیائی ہتھیار ہی ہوتے ہیں کہ ان بموں میں ایٹمی وارہیڈز لگے ہوتے ہیں جو ان بموں یا میزائلوں کو زمین کی انتہائی گہرائی میں واقع اہداف کو تباہ کرنے میں مدد دیتے ہیں ۔ بنکر بسٹر بم جہاں بھی برسائے جائیں ، اسے ایٹمی حملہ ہی کہنا چاہیے ۔ ان بارہ روزہ حملوں کے بعد ٹرمپ نے فخریہ اعلان کیا تھا کہ اس نے ایران کی ایٹمی صلاحیت ہمیشہ کے لیے ختم کردی ہے ۔ گزشتہ دو برسوں میں اسرائیل اور امریکا نے ایران کی صرف ایٹمی تنصیبات ہی ختم نہیں کیں بلکہ چن چن کر ایران کے صف اول و دوم کے سارے ہی ایٹمی سائنسدانوں کو قتل کردیا ہے ۔ تاکہ ایران بعد میں بھی ایٹم بم بنانے کے قریب نہ پہنچ سکے ۔ عراق کی طرح ایران میں بھی IAEA کے انسپکٹر بار بار کہتے رہے کہ انہیں ایران کے ایٹمی بم بنانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ یہ تو امریکا کے الزامات تھے ۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ خطہ میں ایران کی PROXIES سے اس کے وجود کو خطرہ ہے ۔ امریکی الزامات کی طرح یہ بھی جھوٹ کا ایک پلندہ ہے ۔ شام میں ایران کی پراکسی ملیشیا کا مکمل خاتمہ کیا جاچکا ہے ۔ حوثی اور حزب اللہ بھی آخری سانسیں لے رہے ہیں ۔
یہاں تک تو ہم جان چکے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے سے قبل جو بھی الزامات لگائے ، ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ پھر سے وہی سوال موجود ہے کہ آخر امریکا اور اسرائیل کے ایسے کون سے مفادات ہیں جن کے حصول کے لیے یہ ایران پر حملہ آور ہوئے ۔ آگے بڑھنے سے قبل ایک واقعہ کا ذکر جس پر مین اسٹریم میڈیا میں پردہ ڈال دیا گیا ۔ ایک امریکی جنگی جہاز F-15 کو ایران میں 3 اپریل کو گرا لیا گیا ۔ اس جہاز میں تین رکنی عملہ موجود تھا جن میں دو پائلٹ اور ایک کرنل رینک کا WEAPON SYSTEM OFFICER تھا ۔ جہاز کے نشانہ بنتے ہی دونوں پائلٹ جہاز سے فوری EJECT کرگئے جبکہ تیسرا بندہ جہازسے دیر سے نکل سکا اور اس نے پہاڑی سلسلے کوہ زاگرس میں پناہ لی ۔ پائلٹوں کو تو اگلے سات گھنٹوں کے اندر ہی ریسکیو کرلیا گیا مگر تیسرے افسر کا سراغ نہیں لگ رہا تھا کہ اس نے اپنا سگنل سسٹم بند کیا ہوا تھا ۔ امریکا نے اپنے تیسرے افسر کو ریسکیو کرنے کے لیے ایک آپریشن کیا اور اس افسر کو اگلے دن ریسکیو کرلیا گیا ۔ یہ کہانی اتنی سادہ نہیں ہے۔ اس کے لیے ایران میں موجود سی آئی اے اور موساد نے کوہ زاگرس کے پہاڑی سلسلے میں موجود خانہ بدوش بختیاری قبیلے کی مدد لی ۔ اس سے قبل کوہ زاگرس کے دامن میں واقع دشت مہیار میں موجود ایک فضائی پٹی کی ضروری مرمت کی گئی ۔ کسی زمانے میں یہ فضائی پٹی ذرعی مقاصدکے لیے اسپرے کرنے والے چھوٹے جہازوں کی پرواز کے لیے استعمال ہوتی تھی ۔ اس ائر اسٹرپ کی سات گھنٹے تک ضروری مرمت کی گئی کہ اس پر C 130 جیسا جہاز لینڈ کرسکے ۔ اس کے بعد یہاں پر کئی C 130 اور دیگر کئی جہاز اور ہیلی کاپٹر پہنچے ۔ اس میں سے دو C 130 جہاز صحرا کی نرم مٹی میں دھنس گئے ۔
یہاں پر ایک اہم ترین سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر صرف ایک کرنل کو ہی ریسکیو کرنا تھا تو اس کام کے لیے دو ہیلی کاپٹر بہت تھے ۔ ایک ریسکیو کرنے کے لیے اور دوسرا اس کے بیک اپ کے لیے ۔ تو پھر دشت مہیار جو اصفہان کے ایٹمی مرکز سے صرف 60 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے ، فوجی ٹرانسپورٹ طیارے، ہیلی کاپٹر، جنگی طیارے ، ڈرونز اوور سب سے بڑھ کر سیکڑوں امریکی فوجی کیا کررہے تھے۔ یاد رہے کہ یہ آپریشن 4 اپریل کو ہورہا تھا اور ٹرمپ نے 4 اور 5 اپریل کی درمیانی رات ایران پر شدید ترین حملے کی بات کی تھی ۔ تاہم اچانک یہ الٹی میٹم واپس لے لیا گیا اور ٹرمپ نے کہا کہ اس نے پاکستان اور دیگر دوستوں کے دباؤ پر یہ الٹی میٹم واپس لیا ہے ۔ پھر اس کے دو دن بعد 7 اپریل کو پہلی مرتبہ دو ہفتے کی جنگ بندی کا معاہدہ ہوگیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ دشت مہیار میں ہونے والی کارروائی میں امریکی کرنل کو ریسکیو کیا گیا ہو یا نہیں یا یہ ایک بہانہ ہو مگر ٹرانسپورٹ طیاروں میں ایرانی افزودہ یورینیم ضرور ایران سے باہر لے جایا گیا اور اس کے بعد سب کچھ ازخود صحیح ہوتا چلا گیا ۔ صحرا میں دھنس جانے والے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو وہیں پر تباہ کردیا گیا تاکہ امریکی ٹیکنالوجی کسی اور کے ہاتھ نہ لگ سکے ۔ اچانک ہی پاکستان اور قطر کی سفارتکاری کامیاب ہوتی چلی گئی ۔ کہتے ہیں کہ جنگ میں سب سے پہلا قتل سچ کا ہوتا ہے ۔ اصل حقائق شاید 20 برس بعد سامنے آئیں جب یہ دستاویزات ڈی کلاسیفائی کی جائیں گی ۔ اس وقت تو امریکا بھی فتح کے بگل بجا رہا ہے کہ وہ ایران کے درمیان سے سات گھنٹے کا آپریشن کرکے بغیر کسی جانی نقصان کر کے کامیابی سے نکل گیا ۔ ایران بھی فتح کے ترانے گا رہا ہے کہ اس نے امریکی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو تباہ کرکے امریکی فوج کو بھاگنے پر مجبور کردیا ۔
سوال اب بھی باقی ہے کہ آخر وہ کون سے مفادات یا اہداف ہیں جن کے لیے ایران پر حملہ کیا گیا۔
[ ماضی میں جھانکنا ضروری ہے]
امریکا و اسرائیل کے ایران پر حملے پر گفتگو کو یہیں روک کر تھوڑی دیر کے لیے ماضی میں چلتے ہیں ۔ یہ اپریل 1990 کی بات ہے جب ٹرمپ نے اٹلانٹک سٹی میں اپنا تیسرا بڑا کیسینو تاج محل کھولا ۔ اس وقت ٹرمپ اٹلانٹک سٹی کے جوئے کے کاروبار میں ایک چوتھائی کا مالک تھا۔ اتنے بڑے پروجیکٹ کے لیے ٹرمپ کو بھاری سرمایہ کی ضرورت تھی ۔ کیسینو میں ٹرمپ کو زبردست کمائی نظر آرہی تھی اس لیے اس نے بھاری سود پر مارکیٹ سے سرمایہ اکٹھا کرنے کا جوا کھیلنے کا فیصلہ کیا ۔ اس مقصد کے لیے ٹرمپ نے 14 فیصد سود پر سرمایہ کاری بانڈز جاری کردیے ۔ سود کی یہ شرح مارکیٹ میں موجود سود کی شرح سے دگنی تھی ۔ ٹرمپ کا کیسینو اس کی توقعات کے مطابق نہیں چل سکا اور وہ دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا۔ ابھی ٹرمپ شدید مالی دباؤ کا شکار ہی تھا اور تقریبا ڈوب چکا تھا کہ اچانک اس کے پاس غیبی مدد پہنچ گئی ۔ غیبی مدد لانے والے اس فرشتہ کا نام تھا Wilber Rose ۔ یہ ولبر روز Rothschild Inc’s bankruptcy advising team کا سربراہ تھا ۔ اس نے ٹرمپ کی مالی مدد کی اور اسے اس بحران سے نکال لیا ۔ اب ولبر اور روز کے تعلقات قربت میں ڈھل گئے اور وہ یکے بعد دیگرے ٹرمپ کے تمام ناکام منصوبوں کو کامیاب منصوبوں میں تبدیل کرتا چلا گیا ۔ یہاں تک کہ ٹرمپ دوبارہ سے فوربز میگزین کی کامیاب کاروباری شخصیات کی فہرست میں شامل ہوگیا ۔ ٹرمپ کی پہلی کابینہ میں ولبر روز بطور سیکریٹری تجارت شامل تھا ۔
اس کہانی سے ہر شخص بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ یہ ولبر روز نہیں تھا بلکہ روتھس شیلڈ کا ایک کارندہ تھا جس نے روتھس شیلڈ کی ہدایت پر ٹرمپ پر سرمایہ کاری کی ۔ ٹرمپ کی بڑی سرمایہ کاری دو ہی پورٹ فولیوز میں ہے۔ ایک پراپرٹی اور دوسری اسٹاک مارکیٹ ۔ یہ دونوں ہی وہ میدان ہیں جہاں پر بڑے کھلاڑی کسی کو بھی راتوں رات بلندیوں پر بھی لے جاسکتے ہیں اور کسی کو بھی راتوں رات تارے بھی دکھا سکتے ہیں ۔ بعد ازاں ولبر روز کی شراکت داری ٹرمپ سے بڑھ کر اس کے داماد جیرڈ کشنر تک پہنچ گئی ۔
اب کہانی کچھ کچھ سمجھ میں آنی شروع ہوتی ہے کہ ٹرمپ روتھس شیلڈ کی کٹھ پتلی 1990 میں ہی بن چکا تھا ۔ اب ضروری تھا کہ اس کٹھ پتلی کو کسی مقام پر پہنچایا جائے اور اس سے کام لیے جائیں ۔ سو ٹرمپ کو اقتدار میں بھی لایا گیا اور اپنا بندہ اس کی کابینہ میں کلیدی پوسٹ پر بھی بٹھایا گیا اور زبردست مالی فوائد حاصل کیے گئے ۔ ٹرمپ کو دوسری مرتبہ لانے کے لیے بھی اس پر بھرپور سرمایہ کاری کی گئی ۔
اسی برس جنوری 2026 کے آخر میں “مادورو کے اغوا ” کے نام سے دو آرٹیکل میں نے سپرد قلم کیے تھے ۔ یہ آرٹیکل میری ویب سائیٹ کی جنوری 2026 کی آرکائیوز میں ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں ۔ ان آرٹیکلز کے حصہ اول سے ایک اقتباس ۔
“دنیا میں موجودہ طوفان کے کھُرے ہمیں ٹرمپ کی انتخابی مہم سے اٹھانے پڑیں گے ۔ سب سے پہلے تو ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے کہ اسپیس ایکس کا مالک ایلون مسک ٹرمپ کے ساتھ ساتھ ہے ۔ یہ صرف ایلون مسک نہیں تھا بلکہ وہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کا نمائندہ تھا ۔ امریکا میں انتخاب لڑ نا مالی طور پر ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے ۔ اس کے لیے ہر سیاسی جماعت چندہ جمع کرنے اور لابی کرنے کے لیے مختلف کمیٹیاں بناتی ہے جنہیں Political Action Committees یا PAC کہا جاتا ہے ۔ کہنے میں یہ PAC آزاد ہوتی ہیں اور سیاسی جماعت کا ان پر کنٹرول نہیں ہوتا ۔ تو ٹرمپ کی چندہ جمع کرنے والی PAC کی قیادت ایلون مسک کررہا تھا اور بے دریغ پیسے خرچ کررہا تھا ۔ جو فرد بھی امریکا کے انتخابات سے ذرا سی بھی دلچسپی رکھتا ، وہ جانتا ہے کہ امریکی انتخابات میں swinging states کی بڑی اہمیت ہے ۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جن کے ووٹ فیصلہ کن مانے جاتے ہیں ۔ ان swinging states میں ووٹوں کی خریداری کے لیے ایلون مسک نے منڈی لگائی ہوئی تھی کہ جو بھی ریپبلکن کو ووٹ دے گا ، اسے 34 ڈالر دیے جائیں گے ۔ آخر میں یہ بولی سو ڈالر فی ووٹر تک پہنچ گئی تھی ۔ یہ بالکل ویسی ہی صورتحال تھی جیسا کہ پاکستان میں اسمبلی میں وزیر اعظم کے انتخاب کے موقع پر دیکھی جاتی ہے ۔ عرف عام میں اسے پاکستان میں ہارس ٹریڈنگ کہا جاتا ہے ۔ جب امریکا میں اس پر آواز اٹھائی گئی کہ یہ تو دھاندلی کے مترادف ہے تو کہا گیا کہ یہ تو ایلون مسک کا ذاتی فعل ہے اور ریپلکن کا اس میں کوئی قصور نہیں ۔
تو جناب جب ایلون مسک ڈالر لٹا رہے تھے تو یہ صرف ان کا پیسہ نہیں تھا بلکہ یہ PAC کا پیسہ تھا جس میں سارے ہی وہ لوگ شامل تھے جن کے کاروباری مفادات ہیں ۔ ان میں آئل اینڈ گیس انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے بھی شامل تھے ، فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے بھی اور دفاعی ساز و سامان بنانے والی انڈسٹری کے لوگ بھی تھے۔ وغیرہ وغیرہ ۔ جب یہ سب لوگ دل کھول کر ٹرمپ پر سرمایہ کاری کررہے تھے اور ہر صورت میں ٹرمپ کی فتح بھی چاہتے تھے تو یقینا ان کے اپنے مقاصد بھی تھے ۔”
اس کے علاوہ بھی ووٹ حاصل کرنے کے لیے ٹرمپ نے بے انتہا جھوٹ بھی بولے جن کی مدد سے اسے تارکین وطن اور نوجوانوں کے ووٹ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ۔
اب اس نتیجہ تک تو ہم پہنچ گئے ہیں کہ ٹرمپ خود سے کچھ نہیں ہے بلکہ یہ روتھس شیلڈ کی کٹھ پتلی ہے اور اس کی ڈور ہاؤس آف روتھس شیلڈ سے ہلائی جاتی ہے ۔ جب ڈگڈگی کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ پانی کی بلی بن جاؤ تو ٹرمپ پانی کی بلی بن کر دکھاتا ہے اور جب کہا جاتا ہے کہ بابو جی بن جاؤ تو یہ بابو جی بن جاتا ہے ۔
یہ جاننے کے بعد کہ ٹرمپ ازخود کچھ بھی نہیں ہے بلکہ یہ روتھس شیلڈ کا پالتو یا کٹھ پتلی ہے ، ہمارے لیے یہ جاننا بہت آسان ہوجائے گا کہ ایران پر حملہ کیوں کیا گیا ۔ اس کے لیے بس ہمیں ہاؤس آف روتھس شیلڈ کے عزائم جاننا ہوں گے ۔
یہ جاننے کے بعد کہ ٹرمپ روتھس شیلڈ کی کٹھ پتلی ہے ۔ وہ خود کچھ بھی کرنے کے لیے مختار نہیں ہے بلکہ وہ ہاؤس آف روتھ شیلڈز کی ڈگڈگی پر ناچتا ہے ۔ یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ ایران پر حملہ ٹرمپ نے نہیں ہاؤس آف روتھ شیلڈز نے کیا ہے۔ تقریبا میرے تمام ہی قاری روتھس شیلڈز کے بارے میں بخوبی جانتے ہیں کہ میں اکثر اس کے بارے میں لکھتا رہتا ہوں ۔ یہ جاننے کے لیے کہ ایران میں وار تھیٹر کیوں سجایا گیا ، آئیے روتھس شیلڈز یا عالمی سازش کاروں یا شیطان کے پجاریوں کے عزائم جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔
کوئی بھی عالمی پروجیکٹ جب بھی شروع کیا جاتا ہے تو اس کے کثیر الجہتی مقاصد ہوتے ہیں ۔ کچھ مقاصد فوری طور پر حاصل کرلیے جاتے ہیں جبکہ کچھ طویل مدتی ہوتے ہیں ۔ ذرا یہ تو دیکھیے کہ ایران پر حملے سے کس کس کو فائدہ ہوا ۔ اس حملے سے نہ تو حملہ کرنے والے فائدے میں رہے اور نہ ہی وہ جس پر حملہ کیا گیا ۔
اس سے امریکا اور اسرائیل دونوں بھاری نقصان میں چلے گئے ۔ ان پر مزید کئی ٹریلین ڈالر کا قرض چڑھ گیا ۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو دونوں کا سیاسی مستقبل داؤ پر لگ گیا ۔ دونوں ہی ممالک میں مہنگائی کا گراف اوپر اور اوپر چلا گیا جس کی وجہ سے ان کی معیشت گرداب میں آگئی ۔ یورپ اور امریکا میں یہود مخالفت میں اضافہ ہوا اور اسرائیل کی حمایت کم ترین درجے پر آ گئی ۔ پہلی مرتبہ امریکا کو یورپ کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور اس کا یہ روایتی اتحاد ٹوٹ گیا جس کے اثرات امریکا پر طویل مدت کے لیے رہیں گے ۔ ایران کے نقصانات تو سب کے سامنے ہی ہیں ۔ اس کی سیاسی ، مذہبی و فوجی قیادت کو صاف کردیا گیا ۔ اس کے سائنسداں مار دیے گئے۔ انفرا اسٹرکچر بری طرح تباہ کردیا گیا۔ معاشرے کے تار و پود میں زلزلہ آگیا جس کے اثرات آئندہ پانچ برسوں میں سب کے سامنے ہوں گے ۔
تو پھر فائدے میں کون رہا ؟ تیل و گیس پیدا کرنے والی کمپنیاں ، اسلحہ بنانے والی کمپنیاں ، جہاز راں کمپنیاں ، ادویہ ساز کمپنیاں ، کھاد بنانے والی کمپنیاں ، اسٹار لنک جیسی ٹیلی کام کمپنیاں ، انشورنس کمپنیاں وغیرہ وغیرہ ۔ ان کے حصص کی قیمت میں راتوں رات اضافہ ہوا اور ہوتا ہی رہا ۔ ان کمپنیوں کے منافع میں بھی شب و روز ہی اضافہ ہوتا رہا ۔ ذرا غور تو کیجیے کہ افغانستان پر روسی حملے کے بعد سے پوری دنیا میں کہیں نہ کہیں جنگ جاری ہے ۔ چاہے روس حملہ کرے یا امریکا ، مگر طویل مدتی جنگیں مسلسل جاری ہیں ۔ ان جنگوں کا تاوان کون بھرتا ہے ۔ جنگ کرنے والے ممالک کے عوام اور کبھی کبھی پوری دنیا کے عوام ۔ اور اس سے فائدہ کون اٹھاتا ہے ۔ یہی کمپنیاں ۔
اب ذر آپ خود ہی کھنگال لیجیے کہ ان کمپنیوں کے مالکان کون ہیں ۔ یہی بینکار اور یہی عالمی سازش کار ۔ یہ تو ہے فوری طور پر حاصل ہونے والا فائدہ جو پس پردہ بیٹھے ہوئے یہ کھلاڑی اٹھا رہے ہیں ۔اس جنگ یا حملے سے اصل مقصد کیا درکار ہے ۔ اس کے لیے ہمیں ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے بلیو پرنٹ کو دوبارہ سے دیکھنا ہوگا ۔ نائن الیون کے واقعہ (اب تو وکی پیٖڈیا بھی یہ لکھنے لگا ہے کہ الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ موساد کا فالس فلیگ آپریشن تھا ) کے ٹھیک نو دن بعد یہ 20 ستمبر 2001 کی صبح تھی جب حال میں ہی ریٹائر ہونے والے امریکی جنرل ویزلے کلارک نے پنٹاگون میں قدم رکھا ۔ وہ یہاں پر سیکریٹری رمز فیلڈ اور ڈپٹی سیکریٹری وولف وٹز کے ساتھ ایک میٹنگ کے لیے آیا تھا۔ اس کا استقبال ایک حاضر سروس جنرل نے کیا جو ویزلے کلارک کی ماتحتی میں کام کرچکا تھا ۔ ساتھ چلتے چلتے اس جنرل نے کلارک کو بتایا کہ سر آئندہ پانچ برسوں میں امریکا نے سات ممالک پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ اس ملاقات کے چند ہفتوں کے بعد ایسی ہی ایک اور میٹنگ میں کلارک کو امریکی محکمہ دفاع کا جاری کیا گیا ایک میمو دیا گیا جس میں بتایا گیا تھا کہ ہم آئندہ پانچ برسوں میں سات ممالک پر فوج کشی کریں گے ۔ اس کا آغاز عراق سے ہوگا ، پھر شام ، لبنان ، لیبیا، صومالیہ ، سوڈان اور آخر میں ایران پر حملہ ہوگا ۔
گو کہ ایسا پانچ برسوں میں نہیں ہوا اور نہ ہی اس فہرست میں افغانستان شامل تھا مگر پہلا حملہ افغانستان پر ہی ہوا ۔ مگر یہ پانچوں ممالک یکے بعد دیگرے امریکی یا اس کے پراکسی ممالک کے ذریعے عدم استحکام کا شکار ہوتے چلے گئے ۔
اب گتھی پوری طرح سلجھ چکی ہے ۔ جس طرح سے دیکھنے میں عراق ، لیبیا، سوڈان یا صومالیہ پر فوج کشی سے امریکا کو دیکھنے میں کوئی فائدہ نہیں ہوا مگر اس سے علاقے کے استحکام پر ضرور پڑا۔ بالکل اسی طرح ایران پر حملے سے خطے میں تبدیلیاں مقصود ہیں ۔ یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے ۔ یہ آگ وقفہ وقفہ سے بھڑکتی رہے گی ۔ اس وقت تک جب تک خطہ کا جغرافیہ تبدیل نہ کردیا جائے۔
ایک بات پر اور ذرا غور کیجیے گا ۔ جنگ جاری رکھنے کے لیے دو طرفہ حملے ضروری ہیں ۔ ایران ایک کھلا نشانہ ہے جہاں پر دفاع نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں ہے ۔ امریکا جب چاہتا ہے ، جس ہدف کو چاہتا ہے ۔ آرام سے نشانہ بنا لیتا ہے ۔ حتیٰ کہ اس کا B52 بمبار طیارہ بھی جو سب سےزیادہ آسان ٹارگٹ ہے ، بمباری کرکے بہ حفاظت واپس چلا جاتا ہے ۔ امریکا اور اسرائیل نے ایران کی صف اول کی مذہبی ، سیاسی اور فوجی قیادت کو با آسانی نشانہ بنالیا ۔ اس کے سائنسداں چن چن کر مار دیے ۔ ایٹمی مراکز پر بنکر بسٹر میزائل برسادیے مگر انہوں نے کبھی بھی ایران کے میزائل یا ڈرون کے ذخیرے کو نہ تو چھوا اور نہ ہی اس کی فیکٹریوں کو تباہ کیا ۔ اسی طرح ایران کو ہمیشہ سے معلوم تھا کہ جب بھی امریکا اور اسرائیل حملہ کریں گے ، فضائی حملہ کریں گے مگر اس نے دفاعی نظام پر کوئی توجہ نہیں دی اور یہ پہلے دن سے ان کے لیے کھلا شکار رہا ۔ گزشتہ برس بھی یہی ہوا تھا مگر ایران نے حملہ آور نظام کو روز افزوں ترقی دی ۔ اس کے میزائیل ، اس کے ڈرون سب بہترین مگر دفاع کیوں نہیں ؟ یہ ایران میں بیٹھے عالمی سازش کاروں کے ایجنٹوں کا کمال تھا تاکہ جنگ حقیقی لگے ۔ اگر ایران میں ڈرون اور میزائل کے ذخیرے تباہ کردیے جائیں تو پھر جنگ کا میچ چلے گا کیسے اور اگر ایران اپنے دفاعی نظام سے اسرائیل اور امریکا کے میزائل تباہ کرنے لگے تو پھر جنگ تو ایک ہفتہ میں ہی ختم ہوجائے گی ۔
تو جناب نہ تو یہ تیل کی جنگ ہے ، نہ ہی یہ ایران کی بانہہ مروڑنے کی بات ہے کہ وہ القدس کی بات کرتا ہے ۔ صلح کے میمو میں نہ تو غزہ کا کوئی ذکر ہے اور نہ ہی القدس کا ۔یہ حملہ صرف اور صرف ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی جانب ایک قدم ہے ۔ باقی رہے ضمنی فوائد کی تو یہ سب کچھ ایسے ہی ہے جیسا کہ جب کوئی بلڈنگ ٹوٹتی ہے تو کباڑی ضرور فائدے میں ہوتا ہے ۔ اسی طرح جب کوئی مرجائے تو گورکن کے ساتھ ساتھ قبر پختہ کرنے والا مستری بھی روزگار سے لگ جاتا ہے ۔ رہی بات پاکستان اور قطر کی ثالثی کی تو یہ بھی اسکرپٹ میں ایسا ہی لکھا ہے ۔ ورنہ چہ پدی چہ پدی کاشوربہ ۔
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔
ہشیار باش ۔

error: