جامعہ کراچی میں کیا ہورہا ہے،یہ سوال ہر اس زبان پر ہے، جس کا جامعہ سے کوئی بھی تعلق رہا ہے، پاکستان کی جامعات میں طلبہ تنظیموں کے درمیان تصادم، فائرنگ ، قتل جیسے واقعات ہوتے ہی رہتے ہیں ،یہاں تک کہ سلام اللہ عرف ٹیپو پیپلز پارٹی کا جیالا فائرنگ کرکے حافظ اسلم کو شہید بھی کرڈالتا ہے اور پاکستانی طیارہ اغوا کرکے کابل بھی لے جاتا ہے، لیکن ان سب باتوں اور واقعات میں اور حالیہ واردات میں تھوڑا سا فرق ہے، ٹیپو والا سارا واقعہ طلبہ یونینوں کے جامعات میں خاتمے پر منتج ہوا ،1969 میں جامعہ ڈھاکا کے واقعات سانحہ مشرقی پاکستان سے جڑے ہوئے تھے، باقی تصادم تنازعات سیاسی اور خصوصا حکمران جماعتوں کے مفادات اور ان کی مداخلت کی وجہ سےہوتے رہے، جیسے جامعہ پنجاب میں مسلم لیگ، کراچی میں پیپلز پارٹی،کے پی کے میں اے این پی وغیرہ کے مفادات، اگر جائزہ لیا جائے کہ آجکل جامعہ کراچی میں کیا ہورہا ہے، تواب فی الحال ڈھاکا جیسے حالات نہیں ہیں، گو کہ اسباب اور بنیادیں پوری طرح موجود ہیں لیکن علیحدگی کے امکانات نہ ہونے کے برابر، دوسرا پہلو طلبہ تنظیموں اور یونینوں والا ہوسکتا تھا لیکن اس کو اس بنیاد پر زیر بحث نہیں لایا جاسکتا کہ یونینوں پر پہلے ہی پابندی ہے،کسی نئی پابندی کی ضرورت نہیں، ہاں البتہ حکومت طلبہ یونینوں کی بحالی اور الیکشن سے بچنے کے لئیے ایسا کرسکتی ہے۔لیکن اس کے لئیے صرف جامعہ کراچی کیوں؟؟ تو پھر کیا مقاصد ہیں اس کے، کون کروارہا ہے یہ ساری گڑبڑ اورسب کچھ؟؟
یہ جاننے کے لئیے سادا سا فارمولا استعمال کریں جو ساری دنیا میں استعمال ہوتا ہے اور متفقہ ہے، اور وہ ہے کہ ہر جرم کی تفتیش کا پہلا نکتہ یہی ہوتا ہے کہ اس سے فائدہ کس کو ہوگا؟ لہٰذا یہ کوئی لمبی چوڑی تفتیش نہیں رہی۔
ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ جامعہ کراچی تواتر سے مسائل میں الجھی ہوئی ہے ،کبھی زمینوں پر قبضہ، کبھی،اساتذہ کی ہڑتال ، کبھی ملازمین کا احتجاج۔ کچھ نہ کچھ ہورہا ہے، جامعہ میں لسانی تنظیموں اور اسلامی جمعیت طلبہ کے درمیان پہلے بھی تصادم ہوتے رہتے تھے،اور ان میں ایم کیو ایم کا مفاد ہوتا تھا،یعنی حکومت کا ،تو کیا اب بھی ایسا ہی ہے؟ جی ہاں اب بھی مفاد حکومت ہی کا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ حکومت کا کیا مفاد ہے؟ وہ نظر آرہا ہے حکومت میں جو گروہ ہے اسے تعلیم کے فروغ سے غرض نہیں ،اس کے مفادات کچھ اور ہی ہیں، اب ذرا غور فرمائیں اگر تعلیم حکومت کا مقصد نہیں،جامعہ کا معیار بلند کرنا مقصد نہیں، طلبہ کی سیاسی تربیت یعنی یونین انتخابات بھی ان کا مقصد نہیں تو پھر کیا ہورہا ہے؟؟
ہو یہ رہا ہے کہ کچھ عرصہ قبل جامعہ کراچی کی اراضی پر قبضے کا تنازع سامنے آیا، اس کے خلاف وائس چانسلر نےایکشن لیا، کچھ سرکاری افسران اور پٹے دار وغیرہ نظر آئے پھر جامعہ کے اندر کہانی شروع ہوگئی، انتظامی بے ضابطگیوں کی خبریں سامنے آئیں، پھر ملازمین کا احتجاج شروع ہوگیا، اس کے بعد اساتذہ کا احتجاج شروع ہوگیا، ہر خبر ہر احتجاج کے اسباب بالکل حقیقی اور زمین پر موجود تھے ،لیکن یہ اسباب آج کے نہیں ،یہ جامعہ کے نظام کا مستقل حصہ ہیں،اساتذہ کی رہایش،تنخواہوں ، مراعات، ملازمین کی ترقی ،تنخواہ، مراعات، فائلوں کی سست رفتاری، الاؤنس کا مسئلہ یہ سب پہلے سے موجود تھے ، اورہلکے تیز ہوتے رہتے تھے، لیکن جو نئی بات تھی وہ زمینوں پر قبضے کے خلاف ایکشن تھا،اس ایکشن کا ری ایکشن شیخ الجامعہ کے خلاف آیا۔
یہ سارے احتجاج اور مسائل کھڑے ہوئے ،اور نہایت خوبصورتی سے ان کی ترتیب رکھی گئی،ملازمین کا احتجاج، اساتذہ کا احتجاج اور اب طلبہ میں تصادم، یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ان ساری چیزوں کے اسباب پہلے سے موجود تھے ،ان سب چیزوں کی وجہ سے جامعہ مزید انتشار کا شکار ہوئی، رہے سہے مثبت کام بھی رک گئے۔
ان سب کاموں کا وقت نئے وائس چانسلر کی تلاش کے وقت کے قریب قریب ہی تھا، اور اب تو نئے وائس چانسلر کے لئیے انٹرویو بھی ہوچکے ہیں ،بڑی لمبی فہرست ہے ،تلاش کمیٹی تین نام حکومت کے سامنے رکھے گی ، ممکن ہے ان میں حکومت کا مطلوبہ نام بھی ہو،اس کے بعد صوبائی حکومت کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور ہوجائیں گی۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اب ملازمین کے اور اساتذہ کے الاؤنس کے مسائل نہیں اٹھیں گے،اور جامعہ کی اراضی پر قبضے کے خلاف جامعہ کا ایکشن بھی نہیں ہوگا۔ ایک آخری ٹچ بہت ضروری تھا ، وہ جامعہ میں لسانی تنازعہ کھڑا کرنا ضروری تھا، ایک زبان کے لوگوں کو مظلوم بناکر پیش کرنا،اور وہ کام قوم پرستوں سے لیا گیا، اب پورا اسٹیج تیار ہے مظلوم زبان والے طبقے کی زبان بولنے والا وی سی لانا آسان ہوجائے گا۔لیکن اس سے قوم پرستوں کو کچھ نہیں ملے گا، وہ صرف خوش ہوسکیں گے۔یہ فیصلہ بھی آنے والے چند روز میں ہوجائے گا کہ جامعہ میں اصل معاملہ کیا تھا۔
تعلیم، ملازمین کے حقوق، اساتذہ کے مسائل یا طلبہ تنظیموں کے تصادم یا وہ چیز جس پر اب آواز نہیں اٹھے گی یعنی زمینوں پر قبضہ۔
جامعہ کراچی کا نوحہ
















