ہرسال ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی مسلمان دنیا بھر میں خوشیاں مناتے ہیں،پاکستان میں بھی اسی اعتبار سے خصوصی اہتمام ہوتا ہے،اور کیوں نہ ہو آقائے دوجہاں ہمارے پیارے نبی محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمۃ اللعالمین کی آمد کا جشن تو منانا چاہیے، بس ہمیں یہ دیکھنا چاہیےکہ:
ماہ ربیع الاول کے بارے میں ہماری کیا ذمہ داری ہے، کیا ہم اپنے نبی کی پیدایش کے جشن میں ان کے احکامات سے بغاوت کررہے ہیں،کہیں وہ کام تو نہیں کررہے جن سے ہمارے نبی نے ہمیں منع فرمایا تھا۔
ماہ ربیع الاول میں ہماری بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم روایتی رسومات سے آگے بڑھ کر نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کریں، آپ کی سنتوں کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں، کثرت سے درود و سلام پڑھیں، اور اخلاق و کردار کو سنوار کر رحمتِ للعالمین ﷺ کی تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔ جس روز ہم نے یہ راستہ اختیار کرلیا معاشرے سے فساد ختم ہونے لگے گا، آپس میں اخوت کے رشتے مضبوط ہونے لگیں گے اور ہم حقیقی معنوں میں امت مسلمہ بن جائیں گے۔
آج کے زمانے میں تو سیرت کی پیروی کرنا اور بھی آسان ہے آپﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنے کے لئیے بے شمار کتب موجود ہیں عملی پیروی کے لیے سیرت النبی ﷺ کی کتابیں پڑھیں۔ سب سے بڑھ کر آپ کی زندگی ہمارے سامنے ہے ہمیں چاہیے کہ اپنی روزمرہ زندگی میں آپ ﷺ کے طریقوں کو اپنائیں۔یہ بات کسے نہیں معلوم کہ آپ ہمیشہ سچ بولتے تھے، کسی کو دھوکا نہیں دیتے تھے،چھوٹوں پر شفقت فرماتے تھے آپس کے معاملات میں فیاضی کا معاملہ کرتے تھے خود صاف ستھرے رہتے اور دل پاک صاف تھا لین دین میں کھرے تھے، تو ہم بھی روز مرہ زندگی کےمعاملات، عبادات اور اخلاق میں سنت کی پیروی کریں۔
ذکر و درود کی کثرت کے لیے ہمیشہ اپنی زبان کو درود شریف کے ورد سے تر رکھیں۔
آپ ﷺ کی محبت کا اظہار آپ کی فرمانبرداری کے ذریعے کریں۔
بدعات و خرافات سے اجتناب کریں دین میں اپنی طرف سے گھڑی گئی رسومات سے بچیں۔
خوشی کے اظہار میں شریعت کی حدود کا خیال رکھیں۔ غیر ضروری اعمال، تقریبات ، رسوم ورواج سے پرہیز کریں۔ایک دوسرے پر کفر کے فتووں سے بچیں،اتحاد امت کی دعوت پھیلائیں،رحمت اللعالمین کی امد کے جشن سے امت کو تکلیف نہ دیں ،ان میں سے کوئی کام مشکل نہیں ،اور آج کے دور میں اگر ہم اپنے نبی کی سنت پر چلنا شروع کردیں تو ساری دنیا کا پروپیگنڈہ خود بخود دم توڑ دےگا۔دنیا ہمیں دیکھ کر اسلام کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں،اسی سے سیکھتے ہیں، ہر مسلمان داعی ہے ،اس کی زندگی ہی دعوت ہے۔
آجکل یہ چلن عام ہے کہ خوب قمقمے روشن کیے جاتے ہیں سڑکیں سجادی جاتی ہیں،زوردار آواز میں سرکار کی آمد مرحبا کے نعرے گونجتے ہیں، کہیں کہین سیرت کا سنجیدہ بیان بھی ہوتا ہے ،لیکن مجموعی طور پر 12 ربیع الاول شور شرابے ہنگامے وغیرہ میں گزرتا ہے، جبکہ قوم کو نبی پاک کی زندگی کے ہر گوشے سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے۔
آج سیرت النبیﷺ سے دُوری کی وجہ سے اولاد ماں باپ کی نافرمان، ماں باپ اولاد سے برگشتہ ،شوہر بیوی سے اور بیوی شوہر سے شاکی ہے، محلہ ،پڑوس، رشتے داری وغیرہ تو بہت دور کی بات ہے۔
اتفاق سے ربیع الاول کا یہ موقع جشن آزادی سے متصل آیا ہے،اس میں بھی شور ہنگامہ ہی دیکھنے کو ملا، ملک کیوں حاصل کیا؟، کیسے ملا؟ ،اس کا نظریہ کیا تھا؟ ان سب کا بیان نہیں ہوتا صرف باجے گاجے میں جشن آزادی گزرگیا ،قوم کو ان تہواروں کی روح سمجھنی ہوگی۔ ورنہ یونہی وقت گزرتارہے گا،اگلی نسل کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔
ربیع الاول کا پیغام، سیرت پر عمل
















