ہر مقتدر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ سب اس کے سامنے برخورداری کا مظاہرہ کریں ۔ جو بھی برخورداری کے دائرے سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے ، اس کی تحلیل کے احکامات فوری طور پر جاری کردیے جاتے ہیں ۔ قذافی ، صدام حسین اور بشارالاسد دور حاضر کی بہترین مثالیں ہیں ۔ مادورو کی بات تو تازہ ہے۔ کچھ کے جرائم مقتدر قوتوں کے سامنے اتنے زیادہ سنگین نہیں ہوتے ، اس لیے بس ان کی حکومت بدری کے ہی احکامات جاری کیے جاتے ہیں ۔ اس کے لیے غیر ملکی ایجنسیوں کے تعاون سے مذکورہ ملک میں ہی تحریک چلائی جاتی ہے اور یوں اس ناپسندیدہ شخص کی حکومت ختم کرکے مطلوبہ قوتوں یا شخصیت کو برسراقتدار لایا جاتا ہے ۔ اس ٹاسک کو regime change کا نام دیا جاتا ہے ۔ حکومت کی تبدیلی کی ان تحاریک کو باقاعدہ کوڈ نام دیے گئے ۔ انہیں عرف عام میں رنگین انقلابات کہا جاتا ہے کہ ان تحاریک کے لیے کسی نہ کسی ایک رنگ کو منتخب کیا جاتا رہا ہے ۔ رنگین انقلابات کے نام سے میں نے چار کالموں کی ایک سیریز لکھی تھی جسے دوبارہ فروری 2018 میں بھی شایع کیا ۔ جو لوگ ان کالموں کو دوبارہ پڑھنا چاہیں وہ میری ویب سائٹ کی فروری 2018 کی آرکائیو میں یہ پڑھ سکتے ہیں ۔ ان کالموں کا آغاز ہی میں نے مندرجہ ذیل الفاظ میں کیا تھا ۔
” گذشتہ تین عشروں کو دنیا بھر میں حکومتوں کی تبدیلی کا عرصہ قرار دیا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ حکومتو ں کی تبدیلی کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے مگر ان تبدیلیوں میں بین الاقوامی سازش کاروں نے ایک کامیاب تجربہ کیا اور وہ تھا عوامی احتجاج کے ذریعے ہدف بنائی گئی حکومت کی بے دخلی اور مطلوبہ افراد کی حکومت میں تعیناتی۔ اس تجربے کو بجا طور پر ایک ہار میں پروئے گئے موتی قرار دیا جاسکتا ہے۔ جس طرح کوئی بھی حکومت جب کوئی فوج آپریشن کرتی ہے تو اس کو ایک نام دیتی ہے، اسی طرح ان حکومتوں کی تبدیلی کے آپریشن کو مختلف نام دیے گئے۔ یہ سارے نام یا تو کسی رنگ کے نام پر تھے یا پھول کے نام پر۔ اسی لیے دنیا بھر میں ان آپریشنز کو رنگین انقلابات کہا جاتا ہے۔ان تمام مہمات جنہیں بین الاقوامی میڈیا عوامی تحریک کا نام دیتا ہے، کے بارے میں یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ تشدد سے پاک تحریکیں تھیں۔ حالانکہ زمینی حقائق اس کے یکسر برعکس ہیں۔”
گو کہ عرب میں ہونے والی حکومتوں کی تبدیلی بھی رنگین انقلابات کا ہی حصہ تھی مگر عرب میں حکومتوں کی تبدیلی کے اس پروجیکٹ کو بہار عرب کا نام دیا گیا ۔ اب اس پروجیکٹ کا نام تبدیل کرکے Generation Z یا Gen Z movement کا نام دیا گیا ہے ۔ Gen Z کے ذریعے 2024 اور 2025 میں حکومتوں کی تبدیلی کا یہ پروجیکٹ شروع ہوا ۔ گزشتہ دو برسوں میں ایشیا میں بنگلا دیش ، نیپال ، فلپائن اور انڈونیشیا ، افریقا میں کینیا ، مڈغاسکر اور ٹوگو، لاطینی امریکا میں پیرو اور میکسیکو اور یورپ میں بلغاریہ اور سربیا میں جین زی کے ذریعے حکومتیں تبدیل کی گئیں ۔ ان سب ممالک میں نوجوانوں کو سوشل میڈیا ٹک ٹاک ، انسٹا گرام، ایکس یا ٹوئٹر اور فیس بک کے ذریعے متحرک کیا گیا ۔ ان ساری تحاریک میں قدر مشترک ان ممالک میں سیاست دانوں اور سرکاری ملازمین کی زبردست کرپشن ، مہنگائی ، انفرا اسٹرکچر کی عدم موجودگی اور امن و امان کی خراب صورتحال تھی۔
حکومتوں کی تبدیلی کی تحاریک کو منظم کرنے کے موضوع کو چھوڑ کر ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی منظر نامے پر چلتے ہیں ۔
اس وقت دنیا کے وسائل پر قبضے کی لیز کی تجدید کے لیے بین الاقوامی کارپوریشنوں کی realignment ہورہی ہے ۔ ہر دور میں انسانی آبادی کی اہمیت رہی ہے مگر ان کارپوریشنوں کے لیے انسانی آبادی کی اہمیت سب سے زیادہ ہے ۔ صارف ہوں گے تو مصنوعات کی کھپت ہوگی ۔ یہی وجہ ہے کہ ان ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کی بھارت پر بذریعہ ٹرمپ خصوصی نظر کرم ہے ۔ مودی جی کو گھٹنوں کے بل جھکانے کے لیے روز نت نئی پابندیاں عاید کی جارہی ہیں تو دوسری جانب بنگلا دیش اور پاکستان کو ڈیٹرنس کی صورت میں کھڑا کیا گیا ہے ۔ مشرف تو ایک فون کال پر ہی ڈھیر ہوگئے تھے ۔ اب اگر موجودہ مقتدر قوتوں نے احکامات ماننے میں آنا کانی کی تو پھر ؟ اس کے لیے ان سازش کاروں نے دو راستے چنے ۔ پہلا افغانستان کے محاذ پر پاکستان کو مسلسل مصروف رکھنا ۔ وہاں پر ان کی پراکسی پہلے سے موجود ہیں اور پاکستان کو اس محاذ پر مصروف کرنا چنداں مشکل نہیں تھا ۔ دوسرا محاذ ملک کے اندر ہی Gen Z کی صورت میں کھولنے کی تیاری ہے ۔ یہ محاذ ابھی فعال تو نہیں کیا گیا ہے مگر ڈیٹرنس کی صورت میں رکھا گیا ہے ۔ جب تک مقتدر قوتیں اشاروں پر ناچتی رہیں گی تب تک سب صحیح رہے گا اور جیسے ہی مطلوبہ برخورداری سے گریز کیا گیا ، اندرون ملک ہی تحریک شروع ہوجائے گی ۔ Gen Z کی تحریک چلانے کے لیے پاکستان میں ہر قسم کا مسالہ مطلوبہ مقدار میں موجود ہے ۔
پولیس کا استبداد، عدلیہ سے انصاف ملنے کی مایوسی ، ہر سطح پر بے باکی سے آزادانہ کرپشن ، گیس و بجلی وافر مقدار میں موجود ہونے کے باوجود بھاری لوڈ شیڈنگ ، پنجاب کے علاوہ ملک بھر میں خصوصا سندھ اور بلوچستان میں امن و امان کی بدترین صورتحال ، سندھ بھر میں انفرا اسٹرکچر کی عدم موجودگی ، پنجاب اور کے پی میں عمران خان کی مقبولیت وغیرہ وغیرہ کسی بھی Gen Z کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے کافی سے زیادہ مقدار میں موجود ہے ۔ اب لوگ ملک میں کسی بھی فورم سے انصاف ملنے کی امید کھو چکے ہیں ۔ یہی مایوسی کسی بھی تحریک کا نقطہ آغاز ہوتی ہے ۔
اب آخری نکتے کو دیکھتے ہیں اور پھر اس کے بعد ان نکات کو جوڑ کر دیکھتے ہیں کہ کیا تصویر بنتی ہے ۔ چند دن پہلے انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبون میں ایک نوجوان زورین نظامانی کے چھپنے والے ایک مضمون ” It is over ” کو اخبار کی ویب سائیٹ سے ڈیلیٹ کروا دیا گیا ۔ مضون کے ڈیلیٹ ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر پورے پاکستان میں یہ مضمون وائرل ہوچکا تھا ۔ موجودہ صورتحال میں جب لوگ اردو اخبار ہی نہیں پڑھتے اور اخبارات و نیوز چینل قریب المرگ ہیں ، چہ جائیکہ انگریزی اخبار ۔ اس میں چھپنے والے مضمون کو کتنے لوگوں نے پڑھا ہوگا ، شاید ان کی تعدار ہزاروں میں بھی نہ ہو ۔ اور اس مضمون میں ایسا کیا تھا کہ اسے آمرانہ دور کی طرح سنسر کرنے کے احکامات جاری ہوئے ۔ اس مضمون کا مرکزی خیال یہ ہے کہ بس بھائی بس، بہت ہوچکا ۔ اب boomers کو ڈرائیونگ سیٹ چھوڑ دینی چاہیے اور اسٹیرنگ وہیل Gen Z کے سپرد کردینا چاہیے ۔ سب سے پہلے تو نسلوں کی جو یہ تقسیم کی گئی ہے ، اس کے بارے میں بتادوں ۔
اس کی تقسیم کچھ اس طرح ہے
بومرز 1946 سے 1964 درمیان پیدا ہونے والی نسل کو کہتے ہیں ۔ ان کی عمر اس وقت 61 اور 79 سال کے درمیان ہے۔
جین X، 1965سے 1979/80 کے درمیان پیدا ہونے والی نسل کو کہتے ہیں ۔ اس وقت ان کی عمر 45 اور 60 کے درمیان ہے ۔
جین Y یا Millennials 1981 اور 1994 کےدرمیان پیدا ہونے والی نسل کو کہتے ہیں ۔ ان کی عمر اس وقت 29 اور 44 سال کے درمیان ہے ۔
پھر Gen Y.1 اور Gen Y.2 ہے
جین زی یا Gen Z نئی نسل ہے جو 1997 اور 2012کے درمیان پیدا ہوئی ۔ اس وقت اس کی عمر 13 سے 28 برس کے درمیان ہے ۔
جین A یا جین الفا 2012 سے 2025 کے درمیان پیدا ہونے والی نسل ہے ۔ اس کی عمر 0 سے 13 برس کے درمیان ہے۔
جین B یا جنریشن بِیٹا 2026 میں پیدا ہونے والے بچوں سے شروع ہوتا ہے اور 2039 تک جاری رہے گا ۔
نسلوں کی تقسیم پر ایک نگاہ ڈالنے کے بعد دوبارہ زورین نظامانی کے مضمون کو دیکھتے ہیں ۔ اس میں ایسا کیا تھا کہ صاحب برا فروختہ ہوگئے ۔ اس میں بومرز کو ہٹانے کی بات کی گئی ہے ۔ بومرز کون ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی عمر اس وقت 61 برس سے زاید ہے ۔ اس میں وہ تمام لوگ ہیں جو ریٹائر نہیں ہوئے ہیں ۔ یہ سیاست داں بھی ہوسکتے ہیں ، جج بھی یا وہ تمام افراد جن کی مدت ملازمت میں توسیع ہوئی ہے ۔ اب اگر یہ مضمون ڈیلیٹ کروانے کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل نہیں کروایا جاتا تو ایک طرف تو کسی کو پتا بھی نہیں چلتا اور اگر پتا بھی چل جاتا تو کوئی لفٹ بھی نہیں کرواتا کہ عام گفتگو میں لوگ یہ باتیں کررہے ہوتے ہیں ۔
یہ بات سمجھنے کی ہے کہ کسی بھی تحریک کو چلانے کے لیے ایک منظم قیادت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ دور جدید میں یہ قیادت سوشل میڈیا کے ٹیسٹ ٹیوب میں پیدا کرکے بیرونی فنڈنگ سے پروان چڑھائی جاتی ہے ۔ اب سوشل میڈیا کے مالکان نے زورین نظامانی کی Gen Z کے رہنما کے طورپر پہچان بنادی ہے ۔ اب پاکستانی کی حقیقی اور غیر حقیقی قیادت ذرا بھی اِدھر اُدھر ہونے کی کوشش تو کردیکھے ، سوشل میڈیا کے سارے ہی ٹولز ان کے پاس ہیں جو یہ ڈیٹرنس چاہتے ہیں ۔ چند ماہ میں ہی چائے کی پیالی میں طوفان اٹھایا جاچکا ہوگا ۔
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں سے بھی خبردار رہیے ۔
ہشیار باش !
پاکستان میں Gen Z قیادت کی پیدائش
















