Advertisement

مولانا احتشام الحق تھانوی

11 اپریل کو میرے نانا حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کو 46 سال ہو گئے ، جو ایک ممتاز عالم دین، اہل بصیرت اور دور اندیش شخصیت کے حامل تھے۔ تحریک پاکستان میں انکی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ میرے نانا ایک پرعزم شخصیت تھے۔ ان کی زندگی اسلام کے لیے وقف تھی۔ ان کی زندگی پر نظر ڈالیں تو وہ امت مسلمہ کی خدمات کی ایک روشن مثال ہے۔ اگرچہ ایک آرٹیکل اور مضمون میں انکی پوری زندگی کے کارنامے اور کارہائے نمایاں بیان نہیں کیے جاسکتے لیکن ان بے شمار خدمات میں سے چند آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ؛
1947 میں برصغیر کی تقسیم کے تاریخی دور میں میرے نانا مولانا احتشام الحق تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ جیسے جید عالم اور معمار ملت اسلامیہ کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کر تحریک میں شامل رہے اور پاکستان کے قیام کی حمایت کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج کا KPK اسوقت صوبہ سرحد کہلاتا تھا اور اس علاقہ میں پاکستان مخالف عناصر بہت متحرک تھے تو حضرت مولانا احتشام الحق ؒ تھانوی رح نے مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور خان عبدالقیوم خان مرحوم کے ساتھ فیصلہ کن ریفرنڈم مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اور تاریخی نتائج میں حصہ ڈالا جس نے خطے کی تقدیر کو بدل کے رکھ دیا۔
حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ کے ایک مخلص کارکن کی حیثیت سے میرے نانا مولانا تھانویؒ نے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کی سیاسی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کیا جس میں ان کا اخلاص، دور اندیشی اور اسلامی اصولوں کے لیے غیر متزلزل وابستگی نمایاں تھی۔حضرت مولانا رح کی فکری خدمات بھی اتنی ہی اہم ہیں۔ انہوں نے عائلی قوانین پر ایک اہم اور فکر انگیز نوٹ تصنیف کیا، جو آج بھی انکی بے باکی کا مظہر ہے اور ریکارڈ میں موجود ہے۔اسلامی فقہ پر ان کی گہری نظر اور مسلم معاشرے کے عصری مسائل کے ساتھ مشغول رہنا ، ان کی ہمت کی عکاسی کرتا ہے۔ ٹنڈو اللہ یار، سندھ میں دارالعلوم الاسلامیہ کا قیام بھی ان کی لازوال خدمات میں سے ایک ہے جو عظیم درسگاہ دارالعلوم دیوبند کی طرز پر قائم کیا گیا تھا۔ یہ ادارہ پاکستان کے ابتدائی اور ممتاز ترین مدارس میں سے ایک بن گیا، جس نے اسلامی علم کے تحفظ اور نشر و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔
میرے عظیم نانا حضرت مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن کریم کے پیغام کو عام کرنے کے لیے ابلاغ کے جدید ذرائع کو بھی اپنایا۔ کئی سالوں تک ان کا درسِ قرآن ریڈیو پاکستان سے نشر ہوتا رہا، جو نہ صرف ملک بھر بلکہ بین الاقوامی سطح پر سامعین تک پہنچتا رہا۔ درسِ قرآن کا یہ انداز ، فصیح و بلیغ اور بصیرت افروز تشریحات نے بے شمار دلوں کو چھو لیا اور نسلوں کو متاثر کیا۔
تعلیم و تعلم کے علاوہ، انہوں نے کمیونٹی کی ترقی اور سماجی ترقی میں بھی قابل ذکر کارہائے نمایاں انجام دیے ۔ انہوں نے جیکب لائنز کراچی میں اپنے وقت کی سب سے بڑی مسجدکی تعمیر کا اہتمام کیا، جو تعمیر کی دنیا کا ایک جدید شاہکار ہے کہ جس میں ایک بہت وسیع ہال بنایا گیا جو اندرونی ستونوں کے بغیر منفرد انداز میں ڈیزائن کیا گیا تھا۔
جیسا کہ ہم مولانا احتشام الحق تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو یاد کرتے ہیں، ہمیں ایمان، علم اور تعمیرِ قوم کے لیے وقف زندگی کی یاد آتی ہے۔ اسلامی اسکالرشپ، تعلیم اور پاکستان کی نظریاتی بنیاد میں ان کی خدمات انمول ہیں۔اللہ تعالیٰ میرے نانا کےدرجات بلند فرمائے، ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور پاکستان کو استحکام اور بقائے دوام عطا فرمائے۔ ان کی علمی وراثت سے آنے والی نسلوں کو مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

error: