Advertisement

آزادیٔ صحافت، صحافی اور اے آئی

گذشتہ دنوں دنیا بھر میں آزادیٔ صحافت کا دن منایا گیا،ہمیں تو 5 تاریخ کو ایک خبر دیکھ کر یاددہانی ہوئی کہ 3 مئی کو ہمارا یوم آزادی تھا، لیکن چند تقریبات کے سوا ہمیں صحافت کی آزادی کہیں نظر نہیں آئی۔ یوم آزادئ صحافت تو خیر سے گزر ہی گیا،کہیں کوئی سیمینار ہوگیا کہیں کسی نے بیان داغ دیا، کہیں بینر تھامے بھی لوگ نظر آگئے، اورحد تو یہ ہوئی کہ صحافت پر قدغن لگانے والے حکمران بھی آزادئ صحافت کے گن گارہے تھے۔ جس جس نے صحافت کو جتنا پابند کیا وہی صحافت کے لیے اتنے ہی اونچے دعوے کررہا تھا،لیکن ہمارا شکوہ تو صحافیوں اور متوسط درجے کے دانشوروں سے ہے کئی پوسٹس دیکھیں ان میں صحافیوں نے بھی صحافی صرف ٹی وی اینکرز کو تصور اور تسلیم کیا، ہم نے کوشش کی کہ یہ سمجھا دیں کہ ہر اینکر صحافی نہیں ہوتا اورضروری نہیں کہ ہر صحافی اینکر ہو، لیکن کیا کریں کہ صحافت، اب ’جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے‘کے مصداق لوگوں کو دیواروں پر چوکھٹوں( ایل سی ڈی ٹی وی) میں نظر آنے والے ہی صحافی لگتے ہیں ، ان میں سے کچھ صحافی بھی ہیں اور بہت سے وہی ہیں جن کی وجہ سے صحافت رسوا ہے،لیکن جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے” کے مصداق اکثریت انہی کو صحافی سمجھتی ہے۔ اس حال تک پہنچانے میں یقینا صحافیوں کا بھی ہاتھ ہے لیکن پوری دنیا میں ایک منظم منصوبے کے تحت صحافی اور صحافت کو طاقتور طبقات اداروں اور حکومت نے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے، اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہمارے خیال میں صحافت کو حکومتوں اور طاقتوروں کے پنجوں سے آزادی دلانے کے لئیے پہلے خود اصل صحافیوں کو آزادی دلوائی جائے، وہ سامنے آئیں گے اور لائے جائیں گے تو صحافی اور پیشہ ور اینکر میں فرق واضح ہوگا اور پھر آزادئ صحافت کی جدو جہد بھی اصل صحافیوں کی قیادت میں کی جائے، فی الوقت تو صحافیوں کے گروپوں، اداروں ،تنظیموں کا حال بھی یہی ہے ،یہاں بھی اصل صحافی پیچھے ہیں ،اور “پیشہ ور” آگے۔
ایک زمانہ گزرا ہے ہمیں صحافی بنے ہوئے، مرحوم ادریس بختیار نے ہمیں ڈان اخبار بھیجا تھا کہ انگریزی میں ضرورت ہے، لیکن وہاں ایک سینئر صحافی اے جی ایم بدرالدین صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے یہ کہہ کر ہمیں مسترد کردیا کہ صحافت کوئی کھیل نہیں، صرف نوکری کے لیے اخبار آکر اس پیشے کو نقصان پہنچاؤ گے، ہوا یوں تھا کہ ہم نے بدرالدین صاحب کے سوال: صحافت میں کیوں آنا چاہتے ہو، سیدھا سیدھا کہہ دیاکہ جناب نوکری کے لیے، اس پر وہ بپھر گئے تھے، اس جواب پر ادریس بختیار بھی ناراض ہوئے، اس جواب کی وجہ یہ ہوئی کہ اس سے چند برس قبل آرمی سلیکشن کے لیے انٹرویو ہوا تو اسی قسم کا سوال انٹرویو لینے والے نے کردیا ، ہمارا جذباتی جواب تھا ملک کی خدمت اور حفاظت کے لیے جان دینے کو تیار ہوں،بس جناب ادھر سے جواب آیا کہ یہ بھٹو صاحب اور اتنے سارے فوجی افسران ملک کی خدمت بھی کررہے ہیں اور جانیں بھی دے رہے ہیں تو آپ کیا کریں گے، کہیں ایسا تو نہیں کہ ماں باپ نے کہا ہو چار بیٹے ہیں ایک مر بھی گیا تو کیا ہوگا، اس لیے فوج میں بھیج دیا، ہمیں کچھ برا لگا تو کہہ دیا موت کا کیا پتا ، کوئی بھی کہیں بھی مرسکتا ہے۔ ایسی باتوں پر ریجیکٹ تو ہونا ہی تھا ، بس اس مرتبہ صحافت کی خدمت اور آزادیٔ اظہار کی جذباتی بات کے بجائے صاف کہہ دیا کہ نوکری چاہیے، لیکن یہاں صحافت کو مشن سمجھا جاتا تھا ۔
اتنی لمبی بات اس لیے کی کہ جب صحیح معنوں میں صحافت ہوتی تھی تو رپورٹر سے ایڈیٹر تک سب مشن پر تھے ، رفتہ رفتہ بات نوکری سے آگے چلی گئی، لوگ اخبار کے کارڈ اور اور رپورٹر کا لاحقہ لگنے پر ہی اکتفا کررہے تھے۔ پھر وہ زمانہ آیا کہ نوکری کے لیے آنے والا دوتین دن ہی میں کارڈ کا مطالبہ کرنے لگا اور آگے بڑھیں تو اب پلاٹ کی طرف توجہ ہوگئی ، اب دو سوالات ہوتے ہیں۔ کارڈ کب ملے گا؟ پلاٹ کب ملے گا۔
رفتہ رفتہ حقیقی صحافی بھی معدوم ہوتے جارہے ہیں،اور جو ہیں انہیں صحافی نما اینکرز اور اینکر نما صحافیوں نے پیچھے کردیا ہے اب مالکان کی بھی ترجیحات اشتہارات اور مفادات ہیں اس لئیے ان کو اصلی صحافی کام چلانے کے لئیے تو درکار ہیں لیکن ان کی پذیرائی نہیں کی جاتی بلکہ اب تو صحافیوں میں موجود کالی بھیڑیں ہی ان کو ٹانگ اڑاکر گرانے کی کوشش کرتی ہیں۔کہیں مالکان کا مزاج نہیں ملتا کسی کی بات ،کسی کا سچ برا لگتا ہے تو اصلی صحافی پیچھے رہ جاتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ صحافیوں کے خلاف بیشتر کارروائیوں میں براہ راست یا پس پردہ ،صحافی ہی ملوث ہوتے ہیں یا اخباری مالکان،اب اصل صحافی کو کھود کر نکالنا بھی عوام ہی کی ذمہ داری ٹہرے گی،لیکن اس میں اب بھی بڑی ذمہ داری ان صحافیوں ہی کی ہے۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ صحافت اب بہت بدل گئی ہے، کتابت اور کاغذ سے لوگوں کے ہاتھوں میں موبائل میں منتقل ہوگئی ہے اس لئیے اصلی صحافی اب نہیں رہیں گے، اب اے آئی کے صحافی رہ جائیں گے، تو وہ غلط سمجھ رہا ہے،کیونکہ اے آئی کو بھی وہی انسان استعمال کررہا ہے جس نے اے آئی بنایا ہے۔
اس بات کو سمجھنے کے لئیے کوئی پندرہ برس پرانا ایک لطیفہ کام آسکتا ہے،ہمارے ایک دوست نے بتایا کہ امریکی سائنسدان محو گفتگو تھے کہ ایک وقت انے والا ہے جب سارے کام مشین کرے گی، آپ ہوائی سفر کریں گے ٹکٹ کی بکنگ سے لے کر پیسوں کی وصولیابی ،گھر سے ائیرپورٹ تک طیارے میں سواری تک کسی انسان سےواسطہ نہیں پڑے گا، آپ سیدھا طیارے میں پہنچیں گے،
فضائی میزبان بھی روبوٹ ہونگے اور پائلٹ کوئی نہیں ہو گا،یہاں تک سن کر ایسا ہی لگتا ہے کہ آج کے زمانے کی پیشگوئی تھی ، لیکن مزیدار حصہ تو آگے اتا ہے ، کہنے والا کہتا ہے کہ ہاں کاک پٹ کے باہر ایک خوفناک کتا بیٹھا ہوگا، سننے والے سارے بیک وقت بول پڑے، وہ کیوں، سائنسدان نے مسکراکر کہا کہ مسافر تو انسان ہیں ،کسی وقت بھی کوئی بھی خیال آجائے، تو کتا اس لیے بٹھایا جائے گا کہ انسان کوئی گڑبڑ نہ کردے۔
تو بس یہی معاملہ اے آئی کے ساتھ بھی ہے استعمال تو انسان کرے گا۔ لہٰذا اے آئی کی ایک حد ہوگی، ہاں اکثریت اس کی اسیر ہوگی ، یہیں اصلی ،حقیقی صحافی کی اہمیت سامنے آئے گی اور بقا اصل صحافی ہی کو ملے گی۔
صحافت کا چہرہ بگاڑنے اور مہرے کو اینکر بنا کر صحافی بلکہ بہت تیزی سے سینئر صحافی بنانے میں ان لوگوں کا ہاتھ ہے جن پر اصل صحافت کی زد پرتی تھی چنانچہ پہلے پہل تو اپنی مرضی کے لوگ اس پیشے میں داخل کئیے گئے،پھر پابندیاں لگائی گئیں،پھر اپنے سرمایہ داروں سے اخبار جاری کروائے گئے ،پھر ٹی وی چینل بھی اگئے ان میں بھی یہی کام کیا گیا ،اور اب تو پوری صحافت ہی ان کے کنٹرول میں ہے ، بھرتی بھی ان کی مرضی سے ہوتی ہے، ان ہی کی مرضی سے خبر ، تجزیہ، رپورٹ ہر چیز چلتی ہے ،ایک دن کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں ، اہم خبروں کی سرخیاں اور جملوں کی ترتیب بھی یکساں ہوتی ہیں، اور سب کو بھرتی کے لئیے بھی این اوسی وہیں سے ملتا ہے، بہر حال یہ طریقہ دفاع کا بہترین طریقہ ہے کہ جس جانب سے خطرہ ہو وہاں بھی اپنا مورچہ بنالو، یہاں تو ہر مورچے میں ایک ہی طرف کے لوگ ملیں گے۔اب کوئی کسی اخبار کی نیوز ڈیسک پر بیٹھا حکومت پر تنقید کررہا ہو تو اس کی رپورٹ بھی ایوان اقتدار تک پہنچ جاتی ہے۔
یہ بات بہر حال حقیقت ہے کہ اصلی صحافی ملازمتوں سے فارغ کئیے جانے کے باوجود اپنا کام کرتے رہتے ہیں، ٹی وی چینلز پر ان کو روکا جاتا ہے تو وہ اپنا یوٹیوب چینل بنالیتے ہیں، کچھ لوگ ڈالر بنانے اور لائک اور شیئر کی خاطر بھی یہ کام کررہے ہیں ۔ سو بھائیو! جولوگ اصل صحافت کررہے ہیں اور کرنا چاہتے ہیں وہ ان رکاوٹوں ، پابندیوں اور مشکلات سے نہیں گھبراتے، وہ بہتے پانی کی طرح اپنا راستہ خود بناتے ہیں۔

یومِ آزادیٔ صحافت
(3مئی 2026)

سچ تو کہہ دوں مگر سنے گا کون
راہ میں خار ہیں چنے گا کون
سچ تو یہ ہے کہ لوگ ڈرتے ہیں
کچھ نا کہتے ہیں، آہ بھرتے ہیں
یہ بھی سچ ہے کہ لوگ پیاسے ہیں
حکمرانوں کے وہ دلاسے ہیں
بھوک نے کفر کے قریب کیا
سچ یہ ہے، جھوٹ ہی نصیب کیا
فکر زخمی ہے، لب سلے ہوئے ہیں
یہ گماں ہے کہ سب ملے ہوئے ہیں
قدغنیں پیک پہ ہیں، پیکا ہے
حکمرانوں کا ظرف دیکھا ہے
یوم آزادیٔ صحافت ہے
یعنی جمہوریت کی ساعت ہے
اے ایچ خانزادہ

error: