Advertisement

’زباں فہم‘ کی ’’زباں فہمی‘‘: سہیل احمد صدیقی کی کتاب ’’زباں فہمی۔نقشِ اوّل‘‘ پرایک نظر

دورِ حاضر کی دیگر ضرورتوں میں ایک زبان فہمی ہے اور ایک زباں فہم شخصیت کی ’’ زباں فہمی‘‘ ‘ اس ضرورت کو پورا کرنے کی ایک بہترین کاوش ہے۔ میری مراد ہے محترم سہیل احمد صدیقی کی کتاب ’’ زباں فہمی‘‘سے جو دور حاضر میں بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ اس دور میں جب زبان کو بہت سے خطرات لاحق ہیں ،جناب سہیل احمد صدیقی اس کی اصلاح وبقاء کے لیے بے لوث خدمات سر انجام دے رہے ہیں ان کی بے شمار خدمات میں ایک ’’ زباں فہمی ‘‘ہے، جس میں انتہائی سادگی سے زبان کو درپیش مسائل اور پھیلتی ہوئی اغلاط کی نشان دہی کی گئی ہے۔کتاب کا ہر مضمون مفید اور قابل غور ہے۔ایسی چھوٹی چھوٹی اغلاط کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو اس قدر عام ہو چکی ہیں کہ انہیں محسوس ہی نہیں کیا جا رہا ہے، حالانکہ یہی چھوٹی چھوٹی غلطیاں زبان کی بنیادی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔ اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو ’’زباں فہمی‘‘کی اشاعت قابل تحسین عمل ہے۔
آج کل سہل پسند نوجوان نسل کسی بھی معاملے کی قومی، سماجی سیاسی یا مذہبی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کے لیے وقت اور توانائی صَرف کرنے سے قاصر ہے، وہ زبان کو محض کمیونیکیشن/رابطے کا ذریعہ سمجھتی ہے اور اس ضمن میں زبان و بیان کی درستی اور دیگر محاسن کی اہمیت کو جانتی ہے نہ جاننے کی کوشش کرتی ہے،اور نہ ہی اس کی ایسی تربیت کی گئی ہے کہ لفظ اور جملے کے تمام آداب کو ملحوظ خاطر رکھ کر کیسے بولا اور لکھا جائے۔ چنانچہ اس وقت تحریر و تقریر دونوں زوال پذیر ہیں۔
املاء کی غلطیاں اس قدر ہیں کہ لگتا ہے آگے جا کر اسی املا کو درست قرار دینا پڑے گا جو نوجوانوں کے یہاں رائج ہے۔جیسے بالکل کو اب 90 فیصد طلبہ’’ بلکل‘‘ لکھتے ہیںاور یہ اس قدر عام ہو چکا ہے کہ اب لوگوں کو یہی درست محسوس ہونے لگا ہے۔اسی طرح بہت سے الفاظ میں ز، ذ، ظ،ض کا فرق کرنا طلباء کے لیے مشکل ہے۔س اور ث، ت اور ط، ک اور ق والے الفاظ۔ یا۔ یوں کہیے کہ جہاں جہاں یہ حروف الفاظ میں استعمال ہوتے ہیں، وہاں وہاں طلبہ اپنے اپنی سوچ کے مطابق لفظ کی شکل بنا رہے ہیں۔اور یہ تمیز کہ کہاں کہاں کون سا حرف استعمال ہونا ہے، ناپید ہوتی جا رہی ہے،جس کی وجہ یقینا تربیت اور مشق کی کمی ہے۔ہم نے طلباء کو نمبروں کی دوڑ میں ایسا لگایا کہ تعلیم صرف رٹا بازی رہ گئی اور سیکھنے سکھانے کا عمل کہیںپیچھے رہ گیا ہے۔
بولنے کی بات کی جائے تو ”خ” اور” کھ” کی ادائی کو اُلٹ کر دیا گیا ہے اور ”غ” اور ”گ” کی ادائی کے ساتھ بھی یہی طرز عمل بڑھتا جا رہا ہے،جو خودمیرے لیے نسبتاً اس لیے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے کہ میرا نام بھی ”غ” سے شروع ہوتا ہے جسے عموما ایسے لوگ ’’گزالہ‘‘پکار رہے ہیں۔ اور بھی بہت کچھ ہے جو اہل زبان کے دلوں پر تیر چلانے کے مترادف ہے اور بقول سہیل احمد صدیقی، یہ ہندی میڈیا کے اثرات ہیں جو بہت گہرے ہیں۔
اس کتاب میں ایک لفظ ’’یار‘‘کے زود مستعمل ہونے کی طرف توجہ دلائی گئی ۔سہیل صاحب نے بالکل درست فرمایا کہ ایک زمانہ تھا جب یہ لفظ لڑکے بالے بھی استعمال کرتے تو پسند نہ کیا جاتا اور خواتین کی طرف سے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ یہ لفظ کسی کے لیے بولیں کیونکہ یہ ایک معیوب لفظ سمجھا جاتا تھا۔ہمارے یہاں تو خیر سہیلی کو دوست کہنا بھی معیوب تھا۔ ایک مرتبہ ا سکول کی ایک سہیلی کا ذکر دادا ابا کے سامنے کیا اور تعارف کے طور پر کہا کہ فُلاں میری بہت اچھی دوست ہے تو خاصی ڈانٹ پڑی۔ دادا ابا نے کہا کہ اپ نے کبھی مذکر مؤنث یاد نہیں کیے؟ لڑکوں کے دوست ہوتے ہیں اور لڑکیوں کی سہیلیاں، آئندہ دوست نہ کہنا۔جبکہ آج کل (بلکہ ہمارے کالج کے زمانے ہی سے) اس لفظ کا استعمال دوستوں اور سہیلیوں کی سطح پر عام ہونا شروع ہو گیا ،بلکہ اب تو ہر چھوٹا بڑا بچہ جوان بوڑھا مرد و خواتین سب بے دھڑک ایک دوسرے کو ’’یار‘‘کہہ کر پکارتے ہیں اور معیوب بھی نہیں سمجھا جاتا بلکہ تکیہ کلام ہی بن چکا ہے؟ یہاں تک کہ بچے اپنے والدین دادا دادی اور دیگر بڑے رشتوں میں بھی اسے بے باکی سے استعمال کر رہے ہیں اور ہم جیسے روایت پسند لوگ حیران و پریشان ہوتے ہیں۔ بہرحال ایسا تونہیں ہے کہ ہم جیسے لوگ نایاب ہیں، البتہ کم یاب ضرور ہیں جو آج بھی زبان و بیان میں لفظ کے مفہوم اور روح کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
اردو زبان کو سب سے بڑا خطرہ رومن رسم الخط سے ہے،جو موبائل کی آمد کے ساتھ ہی شروع ہو ا اور آہستہ آہستہ اس قدر شدت اختیار کر گیا کہ اردو تحریر یعنی رسم الخط کے آئندہ نسلوں کے لیے ناپید ہونے کا خدشہ ہے (خدانخواستہ)، اور جب تحریر باقی نہ رہے تو تلخ حقیقت ہے کہ تقریر کے بچنے کا امکان بھی باقی نہ رہے گا۔یہ وہ خدشہ ہے جو دن رات مجھے اور یقینا مجھ جیسے محبانِ اردو کے لیے شدید تکلیف کا باعث ہے اس کا ایک ہی حل ہے کہ موبائل پر’’ اردو کی بورڈ ‘‘کے استعمال کو فروغ دیا جائے، اردو کو اردو رسم الخط اور انگریزی الفاظ کو انگریزی حروف میں لکھنے/ ٹائپ کرنے پر زور دیا جائے۔
جناب سہیل احمد صدیقی نے کتاب میں معیاری اور غیر معیاری زبان کا فرق بھی واضح کیا ہے ۔بھارتی اور پاکستانی میڈیا کے اردو زبان پر اثرات کا بار بار ذکر کیا ہے جو ایک تلخ حقیقت ہے۔ پہلے بھارتی میڈیا’’ ہندی زدہ اردو ‘‘سے نقصان پہنچاتا رہااور اَب اس سے متاثرہونے والا، ہمارا پاکستانی میڈیا بھی اردو دشمنی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ سمجھنے اور سیکھنے کے عمل سے دُور رہنا ہی کسی زبان سے دشمنی ہوتی ہے۔ زبان فہمی یقینا اردو کی ترویج و فروغ کے لیے بہترین اصلاحی کاوش ہے۔ اس دور میں جہاں ہر کام محض پیسے کے لیے کیا جاتا ہے وہاں ایسے لوگوں کا موجود ہونا کسی نعمت سے کم نہیں جو بے لوث اصلاحی خدمت سر انجام دیتے ہیں۔ یہ خدمت خواہ زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتی ہو، سماجی، سیاسی، مذہبی، ادبی، اخلاقی ہو۔ یا ۔پھر زبان کی اصلاح، یہ خدمت یقینا ایک قابل تحسین عمل ہے اور ایسے تمام لوگوں کو سراہنا ہماری ذمہ داری اور فرض ہے۔ جناب سہیل احمد صدیقی اس خدمت پر بہت سی داد و تحسین کے مستحق ہیں۔
ان حالات میں جہاں اردو تحریر و تقریر بے شمار مسائل کا شکار ہے وہاں سہیل احمد صدیقی صاحب کی زباں فہمی یقینا ایک کارنامہ ہے۔ میرا
ذاتی خیال ہے اس کتاب کو تعلیمی اداروں اور پبلک لائبریریوں میں اساتذہ،طلبہ ادباء و شعراء اور عام لوگوں تک ضرور پہنچنا چاہیے تاکہ استفادہ عام ہو سکے اور اردو کی قومی اور سماجی حیثیت کو فروغ دیا جا سکے۔میری دعا ہے کہ اس بے لوث خدمت کا اجر سہیل صاحب کو اللہ رب العزت کی جانب سے ملے جو محنت اور ذہانت کو پسند فرماتا ہے۔اللہ کرے زورِ فہم و قلم اور زیادہ۔آمین

error: