Advertisement

دریچہ منتظر ہوگا

ہواؤ! ۔ِ۔۔۔۔۔۔!!!
جب تمہیں اِذن سفر ہوگا
بے زمانی سے زماں تک
لامکانی سے مکاں کے
حد امکاں تک
تمہارا ہر قدم ہی معتبر ہوگا
ان چھوئے برفاب میداں،
اور تپیدہ بےکراں صحرا
بہت سے ساحلوں سے، پربتوں سے،
مرغزاروں سےگذر ہوگا
امیدوں کے سمندر سے اگر گذرو!
اچھلتا کودتا،شوریدہ موجوں پر چمکتا
جگمگاتا ایک قطرہ ساتھ لے لینا
ہواؤ!
جب تمہیں اذن سفر ہوگا
معطر پر فضاء وادی سے جب پلٹو
کوئی ننھا سا جھرنا دور سے گرتا ہوا دیکھو
کسی پر عزم ندیا کو چٹانوں سے بھڑا دیکھو
تو اس عزم و ارادے میں
چھپا وہ جلترنگ
خود میں سمو لینا
ہواؤ !۔۔۔۔۔
جب تمہیں اذن سفر ہوگا
کہیں دیکھو پرندے ڈار کی صورت
فلک کی وسعتوں میں اڑتے جاتے ہیں
عزیمت،حوصلہ، منزل کی چاہت میں
صعوبت مشکلیں کٹھنائیاں بھی
سہتے جاتے ہیں
ھدف کی آرزو میں وہ بہم یک جان رہتے ہیں
وہ سردار سفر پر بے گماں ایقان رکھتے ہیں
تو انکی داد سے پہلے
فتح کے یہ سنہری رنگ
پس انداز کرلینا
ہواؤ !
جب تمہیں اذن سفر ہوگا
امڈتی آندھیاں، بپھرے بگولے،اور طلاطم خیز باراں بھی
تمہارے دامنوں میں دہشت و وحشت کے ساماں بھی
بدلتی رت ،دھنک سے رنگ بھی محو سفر ہونگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر میرے لیے، قدرت کا ایک انمول سا تحفہ
امید و عزم و ایقاں سے
مہکتی نرم رو پروا
خموشی کے سُروں پر خیمہ زن نغمہ
سریلی ، بےصدا لہروں پہ لرزاں
انوکھی خوابگیں خوشبو میں پنہاں
مدھر سے نرمگیں احساس پر رقصاں
بس ایک جھونکا
بچا رکھنا
دریچہ منتظر ہو گا

error: