مغربی یورپ اور شمالی امریکا آج کل شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں ۔ شدید گرمی کی تباہ کاری کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب تک صرف جرمنی میں گرمی کی وجہ سے پانچ ہزار 120 افراد موت کا شکار ہوچکے ہیں ۔ فرانس ، بلجیم اور نیدرلینڈ میں یہ تعداد مجموعی طور پر چار ہزار کے قریب ہے ۔ اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ برس یورپ میں گرمی کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد پونے دو لاکھ سے زائد تھی ۔ فرانسیسی میڈیا فرانس 24 کے مطابق صرف فرانس تا اسپین کے علاقے میں 10 کروڑ سے زاید افراد گرمی کے متاثرین میں شامل ہیں ۔ لوگ صرف گرمی سے نہیں مر رہے ہیں بلکہ اس کی وجہ سے جگہ جگہ جنگلات میں آگ بھڑک رہی ہے ۔ اس کی وجہ سے شدید آندھی کے ساتھ تیز بارشیں ہورہی ہیں جو سیلاب کا موجب بن رہی ہیں ۔ یعنی شمالی امریکا اور مغربی یورپ کے باشندے آج کل قدرت کی قہر سامانی کا سامنا کررہے ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ یورپ اور امریکا میں یہ سب کچھ پہلی مرتبہ ہورہا ہے ۔ ایسا ہی کچھ گزشتہ برس بھی ہوا تھا بلکہ یوں کہیے کہ اس سب کا آغاز بہت پہلے ہوا تھا تاہم اس میں شدت 2023 سے آنا شروع ہوئی اور سال بہ سال یہ مزید شدید ہوتا جارہا ہے ۔ سوال تو بنتا ہے کہ آخر یہ سب کیوں ہو رہا ہے ۔ اس سوال کا جواب ہر طرف موجود ہے ۔ سب کی تان ایک ہی طرف آ کر ٹوٹتی ہے کہ یہ سب کچھ خود حضرت انسان کا کیا دھرا ہے ۔ کاربن کا اخراج روز بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے قدرتی معاملات میں مداخلت ہوئی ۔ اس کا خمیازہ اب سب کے سامنے ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ ایل نینو ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے وجود میں آیا ہے تو کوئی کہتا ہے کہ انسان نے قدرتی جنگل ختم کرکے ہر طرف کنکریٹ کا جنگل بسا دیا ہے جس کی وجہ سے گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
لیکن حقیقت کچھ اور ہے ،اس پر تو کسی کو اختلاف نہیں ہے کہ یہ سب کچھ کاربن کے بے انتہا اخراج کی بناء پر ہو رہا ہے ۔ مگر یہ آدھا سچ ہے ۔
پورا سچ یہ ہے کہ یہ سب بارود اور گرین ہاوس گیس ہے جوتباہی پھیلارہی ہے۔
دسمبر 1979 میں روس نے افغانستان پر حملہ کیا تھا ۔ اس دن سے لے کر آج تک یہ دنیا حالت جنگ میں ہے ۔ روس کے افغانستان پر حملے کے بعد میزائیل حملے یا بمباری اتنی زیادہ نہیں تھی مگر امریکا اور اس کے اتحادیوں جس میں پورا یورپ اور آسٹریلیا بھی شامل تھا ، کے افغانستان پر حملے کے بعد اس میں بے پناہ شدت آگئی یا یوں کہیے کہ آسمان سے زمین پر شب و روز بارود کی برسات ہونے لگی ۔ امریکا اور اتحادیوں نے افغانستان میں ڈیزی کٹر بم بھی استعمال کیے جو نیوکلیئر وار ہیڈز کے حامل تھے ، امریکا نے افغانستان میں Mother of All bomb بھی برسایا ۔ امریکا نے افغانستا ن میں کارپٹ بمباری بھی کی ۔ کارپٹ بمباری کا مطلب ہے کہ کسی علاقے میں بمباری اس طرح کی جائے جیسے فرش پر قالین بچھا دیا جاتا ہے یعنی پوری زمین ادھیڑ کر رکھ دی جائے ۔ میزائیل اور دیگر بم تو دن رات ہی برستے رہے ۔ افغانستان پر روسی حملے کے فوری بعد ہی پہلی خلیجی جنگ بھی شروع ہوئی ۔ یہ جنگ ستمبر 1980 میں شروع ہوئی اور اگست 1988 میں ختم ہوئی ۔ اس میں بھی لاکھوں ٹن بارود زمین پر برسا دیا گیا ۔ایک سال دوسری خلیجی جنگ بھی جاری رہی ۔ افغانستا ن پر قبضے کے دوران ہی امریکا اور اس کے اتحادیوں نے نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کردی ۔ اس مہم میں وہ اس پورے خطہ کو ہی جنگ کی لپیٹ میں لے آیا۔
روس نے افغانستان پر تقریبا 7 لاکھ 80 ہزار ٹن بارود برسایا ۔ امریکا اور یورپ نے دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں کتنا بارود برسایا ۔ اس کے درست اعداد و شمار تو کلاسیفائی کردیے گئے ہیں تاہم ہم اس کا ایک اندازہ ضرور لگا سکتے ہیں ۔ اس جنگ کے دوران امریکی فوج کو ہر برس چھوٹے ہتھیار اور گولیاں ایک ارب 80 کروڑ کی تعداد میں فراہم کی گئیں ۔ یعنی 20 برسوں میں 36 ارب گولیاں اور چھوٹا اسلحہ ۔ امریکی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی فوج نے ہر سال افغانستان پر تقریبا آٹھ ہزار چھوٹے بڑے بم گرائے ۔ یہ بم ڈھائی سو سے ایک ہزار پاؤنڈ بارود کے حامل تھے ۔ اگر فی بم اوسط پانچ سو پاؤنڈ بھی لیا جائے تو امریکا اور یورپ نے بیس برسوں میں افغانستان پر 40 لاکھ پاؤنڈ بارود برسایا ۔ اسی طرح دونوں خلیجی جنگوں ، عراق ، لیبیا ، سوڈان وغیرہ میں بارود برسانے کے بارے میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ یمن و شام جیسی بے شمار علاقائی جنگیں ہیں جو مسلسل جاری رہیں ۔ ان سب نے موسم پر زبردست اثر ڈالا اور یہاں سے ایل نینو کا اصل آغاز ہوا ۔
غزہ پر اسرائیلی بمباری نے تو ساری ہی حدوں کو پار کردیا ۔ایک آزاد اندازے کے مطابق اسرائیل اب تک غزہ پر تقریبا 2 لاکھ 23 ہزار ٹن بارود برسا چکا ہے ۔ اس عدد کا آپ دیگر ممالک سے تقابل نہیں کرسکتے ۔ کہاں غزہ کی چند کلومیٹر کی پٹی اور کہاں بڑے بڑے رقبوں کے حامل ممالک ۔ افغانستان میں امریکا نے بیس برسوں میں جو تباہ کاری کی ہے ، اس سے زیادہ تو اسرائیل نے تین برسوں میں غزہ میں کردی ۔ ان میں وہ ہائی تھرمل بم بھی شامل ہیں جس کی زد میں آنے والی ہر چیز بھاپ بن کر اڑ جاتی ہے اور ان میں نیوکلیئر وارہیڈز والے ڈیزی کٹر بم بھی شامل ہیں ۔ اسرائیل کو یہ سب کرنے میں امریکا کی اعلانیہ بھرپور حمایت حاصل رہی تو یورپی ممالک خاص طور سے فرانس ، جرمنی اور برطانیہ بھی خاموشی سے اس کا ساتھ دیتے رہے ۔ روس اور یوکرین جنگ کی تباہ کاری کا تو یورپ براہ راست شکار ہے ہی ۔
ایسا نہیں ہے کہ اس بارے میں کسی کو پتا نہیں تھا ۔ بین الاقوامی ماہرین مسلسل کئی برسوں سے اس بارے میں خبردار کرتے رہے ۔
ان جنگوں نے صرف فریق ممالک کو ہی متاثر نہیں کیا ہے بلکہ اس کا اثر بالواسطہ طور پر پوری دنیا پر ہی پڑا ہے ۔ گولہ باری اور بارود برسانے سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کئی گنا اضافہ ریکارڈ کیاگیا جو موسمیاتی تغیر کی اصل وجہ ہے ۔ 2019 کے ایک جائزے کے مطابق دنیا بھر میں ہونے والے فوجی تنازعات گرین ہاؤس گیسوں کے مجموعی اخراج کے ساڑھے پانچ فیصد کے براہ راست ذمہ دار تھے ۔ اگر دنیا بھر کی فوج کو ایک ملک تصور کرلیا جائے تو ان کی وجہ سے ہونے والا گرین گیسوں کا اخراج دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر ہے ۔ پہلے نمبر پر امریکا، دوسرے پر چین اور تیسرے نمبر پر بھارت ہے ۔ اس سے دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے ذمہ دار مجرموں کا پتا لگایا جاسکتا ہے ۔ جوں جوں دنیا بھر کے فوجی بجٹ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ ویسے ویسے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔ ایک اسٹڈی کے مطابق فوجی بجٹ میں ہر 100 ارب ڈالر کا اضافہ 3 کروڑ 20 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے برابر گرین گیسوں کے اخراج کا باعث بنتا ہے ۔ 2019 میں دنیا بھر میں ہونے والے فوجی اخراجات 1.9 ٹریلین ڈالر تھے جو 2024 میں بڑھ کر 2.7 ٹریلین ڈالر پر پہنچ گئے ۔ اندازہ ہے کہ 2035 میں یہ اخراجات 6.6 ٹریلین ڈالر ہوں گے ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہر سال موسمیاتی تبدیلیاں کیا تباہ کاری مچائیں گی ۔
یوکرین پر روس کے حملے کے پہلے تین برسوں میں 23 کروڑ 70 لاکھ ٹن کاربن ڈائی اکسائیڈ کے برابر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہوا ۔ اس میں سے ایک تہائی اخراج براہ راست بمباری سے ، 27 فیصد بحالی کے کاموں سے اور 22 فیصد جنگ کے باعث لگنے والی آگ کی وجہ سے ہوا ۔ جنگ کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے والے ادارے Initiative on Greenhouse Gas Accounting of War (IGGAW) کے مطابق صرف روس یوکرین جنگ کے باعث دنیا کو 32 ارب ڈالر کے نقصانات کا اب تک سامنا کرنا پڑا ہے ۔
غزہ کی کہانی یوکرین سے مختلف ہے ۔ ایک تو نقصان یکطرفہ ہے ، دوسرے جس جگہ بمباری کی گئی وہ انتہائی مختصر رقبہ ہے جس کی وجہ سے تباہ کاری کے اثرات کئی سو گنا بڑھ گئے ہیں ۔ غزہ میں ہونے والی بمباری سے گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج 33 کروڑ 20 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے برابر تھا ۔ شروع کے چار ماہ میں غزہ سے گرین ہاؤس گیسوں کا جو اخراج ہوا وہ 26 ممالک کے مجموعی اخراج سے بھی زیادہ تھا ۔ غزہ میں بجلی کی 70 فیصد ضروریات شمسی توانائی سے پوری کی جارہی تھیں ۔ اسرائیل نے یہ پورا نظام ہی تباہ کردیا ہے ۔ اس وقت غزہ میں بجلی پیدا کرنے کا واحد ذریعہ ڈیزل سے چلنے والے جنریٹر ہیں ۔ تخمینہ ہے کہ اس سے ایک لاکھ 30 ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے برابر گرین ہاؤس گیسوں کا مزید اخراج ہوگا ۔
امریکا اور اسرائیل نے نیا محاذ ایران کے خلاف کھولا ہے ۔ پہلے جون 2025 میں ایران کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ، اس کے بعد 28 فروری 2026 سے ایران پر مسلسل حملے جاری ہیں ۔ ان حملوں کے لیے وسیع پیمانے پر ڈرون ، ہوائی جہاز اور بیلاسٹک میزائیل استعمال کیے جارہے ہیں جبکہ ایرانی میزائیل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کے لیے Interceptors استعمال کیے جارہے ہیں ۔ جنگی ہوائی جہاز فضائی آلودگی کو بڑھانے کا یقینی ذریعہ ہیں جبکہ بیلاسٹک میزائیل اور interceptors میزائیل اوپری فضائی سطح خاص طور سے mesosphere اور stratosphere کو شدید نقصان پہنچانے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں ۔ ایران میں نشانہ بنائے جانے والے اہداف بھی انتہائی اہم ہیں ۔ یہ فیکٹریاں اور ایٹمی تنصیبات بمباری کے بعد ماحول میں انتہائی زہریلے کیمیائی مادے چھوڑتی ہیں جو فضاء اور انسان دونوں کے لیے مہلک ثابت ہورہے ہیں ۔ ایران اور خلیجی ممالک میں تیل کی تنصیبات پر براہ راست بمباری نے انسانی صحت اور ماحول پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں ۔ تہران کے قریب ایک آئل ڈپو پر ہونےوالے حملے کے باعث یہاں پر سیاہ بارش ہوئی جبکہ مقامی آبادی میں سردرد اور سانس لینے میں تکلیف کی شکایات عام ہیں ۔ طویل مدت میں یہ فضائی آلودگی دل کے امراض میں بھی اضافہ کا باعث ہوگی ۔ اسرائیل اور امریکا کا ایران میں پسندیدہ ہدف ایٹمی تنصیبات ہیں ۔ اس کا مطلب ہے فضاء میں تابکار ذرات کی موجودگی ۔ اسرائیل اور امریکا دونوں کو معلوم ہے کہ فضاء میں موجود یہ تابکار ذرات محض ایک جگہ تک ساکن نہیں رہیں گے بلکہ یہ ہوا کے ساتھ پورے کرہ کو اپنی لپیٹ میں لیں گے ۔ پھر بھی ان اہداف پر بمباری جاری ہے ۔
اس تباہی سے موسمیاتی تبدیلیوں کا جو سلسلہ آج سے 25 برس قبل شروع ہوا تھا ، اس کی رفتار اب تیز ہوچکی ہے اور وقت کے ساتھ اس میں مزید تیزی آئے گی ۔ خلیجی ممالک تو قحط ، سیلاب اور شدید موسم کا سامنا کریں گے ہی مگر یورپ اور امریکا بھی اپنی لگائی ہوئی اس آگ سے اب نہیں بچ سکیں گے ۔ غزہ میں ہونے والی بمباری کے اثرات بھی محض غزہ تک محدود نہٰں رہیں گے بلکہ اسرائیل بھی اس کا یکساں سامنا کرے گا ۔ شاید یہ قدرت کا خاموش انتقام ہے ۔
ایسا نہیں ہے کہ یہ سب اچانک ہوگیا ہے ۔ ماہرین مسلسل اس کے بارے میں بتاتے رہے ہیں مگر انہیں قابل اعتناء نہیں سمجھا گیا۔ گارجین نے 9 جنوری 2024 کو رپورٹ Emissions from Israel’s war in Gaza have ‘immense’ effect on climate catastrophe کے عنوان سے شائع کی ۔ 5 دسمبر 2023 کو الجزیرہ نے Is Israel’s Gaza bombing also a war on the climate کے عنوان سے رپورٹ شایع کی ۔ کوئین میری کالج لندن نے Is Israel’s Gaza bombing also a war on the climate کے نام سے رپورٹ شایع کی ۔ اس طرح کی سیکڑوں تحقیقی رپورٹیں ہیں جو گزشتہ کئی برسوں سے شایع کی جارہی ہیں مگر ایسی تمام رپورٹوں کو دبا دیا گیا ۔ یورپ اور امریکا میں تباہی کے بعد آج بھی موسمیاتی تغیر کی تو بات کی جارہی ہے مگر اس کی اصل وجوہات اور اس کے مجرموں کا کہیں پر کوئی ذکر نہیں ہے ۔
عالمی گرمی کا اصل سبب بارود: مجرم امریکا اسرائیل ویورپ
















