Advertisement

محبت کی مہک

’اف چھٹی کے دن بھی ان کو اپنے گھر میں سکون نہیں کیا مصیبت ہے آج میری سہیلیوں نے آنا تھا اور اب پھپھو صاحبہ ٹپک پڑی ہیں‘ یہ کھردرے لہجے، تلخ باتیں آج ہماری نوجوان نسل کی پہچان بنتی جا رہی ہیں رشتے جن سے ابن آدم کو اس کی پیدائش سے ہی جوڑ دیا گیا تھا ۔

ماں، باپ، دادا دادی،نانا، نانی، چچا، پھپھو، ماموں، خالہ یہ سب ہماری پیدائش سے پہلے ہمارے منتظر ہوتے ہیں پھر بچپن اور لڑکپن رشتوں کی محبتوں اور لاڈ میں گزرتا ہے مگر دیکھتے دیکھتے ان محبت بھرے رشتوں میں دراڑیں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں اکثر ان دراڑوں کا سبب والدین کی وہ گفتگو بھی ہے۔ جو وہ بچوں کے سامنے بے دھڑک کرتے ہیں مثلا بھاوج اور نند کی چھوٹی چھوٹی باتیں جو مائیں اپنے بچوں کے سامنے دہراتی ہیں اور بچے چونکہ قدرتی طور پر ماؤں کے زیادہ نزدیک ہوتے ہیں اس لیے وہ باتیں ان کے دلوں میں اکثر بیزاری اور نفرت کا سبب بن جاتی ہیں اور وہ اپنی ماؤں کے مقابلے میں باقی رشتوں کو قصوروار سمجھنے لگتے ہیں اور آہستہ آہستہ لاڈ اٹھانے والی، محبتیں نچھاور کرنے والے چچا پھپھو اور کبھی کبھی خالہ اور ماموں بھی ناپسندیدہ بن جاتے ہیں۔

قرآن میں کئی ایک آیات میں ان رشتوں کو ان کے ناموں سے مخاطب کر کے ان کی اہمیت اور عزت اجاگر کی گئی ہے اور ہمارے دین میں قرابت کے رشتوں کو سب سے زیادہ حسن سلوک کا حقدار قرار دیا گیا ہے مگر بدقسمتی سے جب سے دین سے ہمارا تعلق کمزور ہوا ہمارے گھر، خاندان، رشتے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے اس ٹوٹ پھوٹ کو بڑھاوا میڈیا نے دیا ۔پچھلے کچھ سالوں میں پاکستانی میڈیا رشتوں کے حوالے سے ایک سوچے سمجھے منصوبے پر کام کرتا نظر آتا ہے ہر دوسرے ڈرامے اور اشتہار میں پھپھو کو ایک ظالم جادوگرنی اور حق غصب کرنے والے رشتے کے طور پر دکھایا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پہ بننے والے کنٹینٹ اور میمز کا سب سے زیادہ مشہور ہونے والا مواد بھی رشتوں کے خلاف نفرت اور جس تنہائی کے کرب سے گزر رہا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ بھی اس دکھ کی تعمیر اپنے ہاتھوں سے کر رہا ہے ۔اچھائیاں اور برائیاں ہر رشتے ہر تعلق میں موجود ہیں کہیں کوئی حق پر ہوتا ہے تو کہیں کسی سے کوتاہی اور ناانصافی بھی ہو جاتی ہے مگر ایک رشتے پر کوئی مخصوص چھاپ لگا دینا ناانصافی اور کم ظرفی ہے۔ رشتوں کو جوڑنے اور ان کے درمیان عزت و محبت کی فضا برقرار رکھنے کی ذمہ داری عورت کی ہے جب ایک عورت اپنے میکے میں عزت اور محبت کی خواہش مند ہوتی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ اس کی محبت اور تعلق کی قدر کی جائے تو اسے اپنے گھر میں بھی اپنے سسرالی رشتوں کے لیے اپنے دل اور ظرف کو بڑا کرنا چاہیے اور اپنے بچوں کو دادا، دادی، پھوپھو اور چچا سے محبت اور اخلاق سے پیش آنے کی تربیت دینی چاہیے۔

قرآن پاک کی آیت کا مفہوم ہے کہ” اللْٰہ نے تمہیں نصب اور سسرالی رشتے دیے” وہ بہنیں جو اپنے بھائیوں کو اپنی وراثت کا حق چھوڑ دیتی ہیں پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ اپنے اس گھر میں اجنبی مہمان بن جاتی ہیں جہاں پر وہ حقدار ہوتی ہیں وہیں ان کے آنے اور کچھ مانگنے پر انہیں ناگوار طعنے اور اور کہیں کہیں شدید نفرت بھی سہنی پڑتی ہے۔ زندگی کا حسن اور مزا رشتوں کے دم سے ہے۔

کیونکہ آدم علیہ السلام کو بھی اکیلے جنت کی نعمتیں نہیں بھائی تھی تبھی تو انہوں نے اماں حوا کا ساتھ مانگا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مادہ پرستی کے اس دور میں اپنی روح اور فطرت کی آواز سنیں اور اپنی زندگیوں میں اپنے خوبصورت کھٹے میٹھے رشتوں کو بھی شامل کریں تاکہ وہ ہمارے غم اور دکھ میں ہمارے لیے حوصلہ بنیں اور ہماری خوشیوں میں مزید اضافے کا باعث بنیں۔پھر زندگی میں محبت کی مہک محسوس ہوگی ۔

error: