شام اپنے آخری رنگ سمیٹ رہی تھی۔ مغرب کے افق پر سورج کی سرخی برف پوش چوٹیوں کے ماتھے پر بکھر رہی تھی۔ پہاڑوں کی خاموشی میں ایک عجیب وقار تھا، جیسے صدیوں سے کھڑے یہ سنگلاخ وجود وقت کی گزرگاہ کے امین ہوں۔ ٹھنڈی ہوا چٹانوں سے ٹکرا کر ایسی آواز پیدا کر رہی تھی جیسے کوئی قدیم داستان گو کسی فراموش شدہ قصے کی سرگوشی کر رہا ہو۔
ایک بلند چٹان کے کنارے ایک بوڑھا شاہیں خاموش کھڑا تھا۔ اس کی آنکھوں میں عمر بھر کی پروازوں کا تجربہ اور نگاہ میں آسمانوں کی وسعت سَمَٹ آئی تھی۔ اس کے پَر اگرچہ وقت کی دُھوپ اور برف سے کچھ ماند پڑ چکے تھے، لیکن اس کی ہیبت آج بھی جوان تھی۔
اُس نے نیچے وادی کی طرف دیکھا۔
وہاں مردار خور پرندوں کا ایک جھنڈ زمین کے قریب منڈلا رہا تھا۔ انہی کے درمیان ایک نوجوان شاہیں بھی تھا۔ اس کی ساخت شاہینوں جیسی تھی، مگر اس کی نگاہ میں بُلندی کا شوق نہیں، زمین کی گِرد تھی۔ اُس کی پرواز محدود، حرکات محتاط اور مزاج خوف زدہ تھا۔ وہ ہر لمحہ کرگسوں کی نقل کرتا تھا، گویا اسی کو اپنی فطرت سمجھ بیٹھا ہو۔
بوڑھے شاہیں کے دِل میں ایک ٹیس اٹھی۔
اُس نے پوری قوت سے پکارا:
”اے نوجوان! نہیں… یہ تمہارا مقام نہیں!“
آواز پہاڑوں سے ٹکرا کر کئی بار گونجی۔ نوجوان شاہیں چونک اٹھا۔ اس نے گردن اٹھا کر پہلی مرتبہ آسمان کی طرف دیکھا، جہاں ایک عظیم الشان پرندہ چٹان پر کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔
”آپ کون ہیں؟“
”میں وہ ہوں جس نے آندھیوں کو راستہ بدلتے دیکھا ہے۔ میں شاہیں ہوں، اور تم بھی شاہیں ہو۔“
نوجوان حیران رہ گیا۔
”میں؟ شاہیں؟“
بوڑھا مسکرایا۔
”ہاں! مگر تم اپنی پہچان بھول چکے ہو۔“
نوجوان کی نگاہیں جھک گئیں۔
”میں تو بچپن ہی سے انہی کے ساتھ پلا ہوں۔ انہی سے اڑنا سیکھا، انہی سے جینا۔ اگر یہی زندگی نہیں تو پھر زندگی کیا ہے؟“
بوڑھے شاہیں نے گہرا سانس لیا اور دھیرے سے کہا:
”یہ زندگی نہیں، عادت ہے۔ اور عادت اگر فطرت کے خلاف ہو تو قید بن جاتی ہے۔“
نوجوان خاموش ہو گیا۔
اس کے ذہن میں بچپن کی تصویریں ابھرنے لگیں۔ ایک طوفانی رات، ٹوٹا ہوا گھونسلا، ماں باپ سے جدائی، اور پھر کرگسوں کے درمیان پلنے والی زندگی۔ کسی نے اسے کبھی شکار کرنا نہیں سکھایا، صرف مردار پر جھپٹنا سکھایا۔ کسی نے آسمان کی وسعت نہیں دکھائی، صرف زمین کی گندگی دکھائی۔
بوڑھے شاہیں نے گویا اس کے دل کی بات سن لی۔
”اقبالٓ نے تمہارے لیے ہی کہا تھا:
؎خراب کر گئی شاہیں بچے کو صحبتِ زاغ
وگرنہ وہ بھی تھا قابلِ پروازِ شاہبازی
یہ شعر نوجوان کے دل میں تیر کی طرح اُتر گیا۔
اُس نے پہلی بار اپنے آپ کو غور سے دیکھا۔ اس کے پَر تو واقعی شاہیں کے تھے، مگر سوچ… سوچ کرگس کی تھی۔
اس نے آہستہ سے پوچھا:
”کیا صحبت اتنی طاقتور ہوتی ہے؟“
بوڑھے شاہیں نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
”بیٹا! پانی جس برتن میں رہتا ہے، اس کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ انسان بھی جن لوگوں کیساتھ رہتا ہے، رفتہ رفتہ انہی جیسا ہو جاتا ہے۔“
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر بوڑھے شاہیں نے دُور قصرِ سلطانی کے گنبد کی طرف اشارہ کیا۔
”بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ بُلندی کا مطلب محلات ہیں، اقتدار ہے، دولت ہے۔ مگر اقبالٓ نے اسی لیے کہا تھا:
؎نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
نوجوان نے پہلی مرتبہ پہاڑوں کی طرف دیکھا۔ وہ چٹانیں پہلے بے آب و گیاہ لگتی تھیں، مگر آج ان میں عظمت نظر آ رہی تھی۔
”استاد! اگر میں اُڑنے کی کوشش کروں اور گر جاؤں؟“
بوڑھے شاہیں کی آنکھوں میں شفقت اُتر آئی۔
”جو گرنے کے خوف سے اُڑنا چھوڑ دے، وہ پہلے ہی گِر چکا ہوتا ہے۔“
یہ کہہ کر وہ ایک جست میں فضا میں بُلند ہوا۔ اس کی پرواز میں ایسی آزادی تھی جیسے ہوا بھی اس کی تابع ہو۔
نوجوان دیر تک اسے دیکھتا رہا۔
اس کے اندر برسوں سے سویا ہوا کوئی جذبہ جاگ اٹھا۔
نیچے کرگسوں نے آواز دی:
”ادھر آؤ! یہاں آسان رزق ہے!“
وہ چند لمحے رُکا۔
پھر اُس نے آسمان کی طرف دیکھا۔
اُسے محسوس ہوا جیسے بادل اُسے بلا رہے ہوں۔
اُس نے اپنے پَر پھیلائے۔
پہلی کوشش میں وہ لڑکھڑا گیا۔
کرگس ہنسنے لگے۔
”دیکھا! یہ انجام ہے خواب دیکھنے والوں کا!“
لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔
دوسری بار اس نے پوری قوت سے پَر مارے۔
ہوا نے اسے سہارا دیا۔
تیسری بار وہ زمین سے کافی اوپر اُٹھ چکا تھا۔
اُس کے دل میں ایک عجیب روشنی بھرنے لگی۔ اُس نے محسوس کیا کہ اصل طاقت پرواز میں نہیں، خود پر یقین میں ہوتی ہے۔
بوڑھا شاہیں اس کے برابر آ گیا۔
”دیکھا! تم اُڑ سکتے تھے۔ صرف یقین کھو بیٹھے تھے۔“
نوجوان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔
اُس نے نیچے دیکھا۔
کرگس اَب بھی مُردار کے گِرد لڑ رہے تھے، مگر وہ منظر اَب اُسے بہت چھوٹا لگ رہا تھا۔
اُسی لمحے اُسے احساس ہوا کہ انسان کو اُس کی بُلندی نہیں گراتی، اس کی صحبت گراتی ہے؛ اور اگر صحبت بدل جائے تو تقدیر بھی بدل سکتی ہے۔
دونوں شاہیں آہستہ آہستہ بادلوں میں گُم ہوتے گئے۔
نیچے وادی میں اندھیرا اتر آیا، مگر آسمان پر دو پرندوں کی پرواز طلوع ہوتے سورج کی خبر دے رہی تھی۔
اُس دن پہاڑوں نے ایک عجیب منظر دیکھا تھا۔
ایک بوڑھے شاہیں نے کسی کو صرف اُڑنا نہیں سکھایا تھا، بلکہ اُسے اُس کی اصل پہچان لوٹا دی تھی۔اور یہی اقبالٓ کا پیغام ہے کہ انسان کی فطرت بُلند ہے، لیکن اس کی صحبت اس کی منزل کا تعین کرتی ہے۔ زاغوں کی مجلس شاہیں کو بھی زمین کا اسیر بنا دیتی ہے، جبکہ بُلند کرداروں کی رفاقت ایک گِرے ہوئے انسان کو بھی آسمانوں کا مسافر بنا سکتی ہے۔ یہی صحبت کی تاثیر ہے، یہی خودی کی بیداری، اور یہی شاہبازی کا راز۔
شاہیں اور زاغ
















