کیا آپ جانتے ہیں دوسری جنگِ عظیم (1939-1945) کے دوران برطانوی حکومت نے اوجھا سینی ٹوریم (یونیورسٹی روڈ) مریضوں سے خالی کروا کر اس کے ایک حصہ کو اطالوی جنگی قیدیوں کا کیمپ بنادیا تھا۔ دوسری طرف پولینڈ سے بے دخل یہودی عورتوں اور بچوں کے لئے پناہ گزینوں کا کیمپ بنا دیا تھا اسی دوران ملیر کینٹ اور اوجھا سینیٹوریم کی حدود میں بڑی تعداد میں امریکی فوج بھی تعینات رہی ۔ قدیم سفورہ گوٹھ کے بالمقابل اوجھا سینی ٹوریم کی حدود میں اطالوی جنگی قیدیوں اور پولش پناہ گزینوں کے کیمپ اور 80 ہزار سے زائد امریکی فوجیوں کی موجودگی کی تفصیل جاننے کے کے لئے پروفیسر آغا اکبر مرزا کا یہ تاریخی مقالہ پڑھنا نہ بھولئے۔
اوجھا سینیٹوریم کا سنگِ بنیاد 1939ء میں کراچی کے نامور مخیر شخص دیپ چند تیجمل داس اوجھا کی وصیت پر رکھا گیا۔ جو 1928 ء میں تپ دق میں مبتلا ہوکر کراچی میں انتقال کرگئے تھےان کی وفات کے بعد ان کے خاندان نے زمین اور فنڈز عطیہ کرکے تپِ دق (ٹی بی) کے مریضوں کے علاج کے لیے اس کا آغاز کیا ۔ابتدائی طور پر اسے صفورا گوٹھ کے قریب 127 ایکڑ اراضی پر چند جھونپڑیوں اور ہٹس کی صورت میں قائم کیا گیا۔
1939ء میں یہاں ٹی بی کے مریضوں کو الگ تھلگ رکھنے کے لیے صرف 5 کاٹیجز (ہٹ) بنائے گئے تھے، جو 1942ء تک بڑھا کر 58 سنگل اور 7 ڈبل کمروں تک پھیلا دیے گئے۔ سنگل روم کاٹیج ایک بیڈ روم ، کچن ، لیٹرین اور ورانڈے پر مستمل تھا اور ہر کاٹیج دوسرے سے 80 فٹ کے فاصلہ رکھا گیا تھا۔ یہ سنگل روم کاتیج کراچی شہر کے مخیر افراد نے بنوائے تھے اور ہر کاٹیج پر ان کے ناموں کی تختیاں آویزاں تھیں۔ چونکہ اس زمانے مین اسٹریپٹومائیسین جیسی اینٹی بائیوٹک دوائیں موجود نہیں تھیں اس لیے مریضوں کو کھلی اور تازہ ہوا میں رکھنے کے لیے یہ جگہ مثالی تھی۔
اوجھا سینی ٹوریم میں ڈاکٹروں اور دیگر عملہ کے لئے علیحدہ بنگلے بھی بنائے گئے اس میں سے ایک دیپ چند اوجھا کے بھائی سکھرم داس نے اپنی زیر نگرانی خود بنوایا۔جس میں اکثر وہ قیام کرتے ۔یہاں ایک ریکری ایشن ہال بھی تھا جسے سیٹھ ڈون گرسی جوشی نے عطیہ کیا تھا سر ڈیوڈ سیسون نے اوجھا سینیٹوریم کے مختلف بلاک میں بجلی مہیا کرنے۔ کے لئے ایک بڑے پاور پلانٹ کی بنیاد رکھی اور ایک بڑا جنریٹر عطیہ کیا جو پونا سے لایا گیا تھا پاور ھاوس اسی مقام پر آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے بعد میں یہاں ایک مسافر خانہ اور چرچ کا اضافہ بھی کیاگیا ۔
پولش پناہ گزینوں کا ’ملی پور‘ کیمپ : جنگ کے دوران جب روس نے پولینڈ کے شہریوں کو آزاد کیا، تو ہزاروں پولش مہاجرین (جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے) بحری جہازوں کے ذریعے کراچی پہنچے۔ ان پناہ گزینوں کے لیے اوجھا سینٹوریم اور ملیر کے آس پاس ایک بڑا کیمپ بنایا گیا تھا جسے “ملی پور” (Country Club Camp) بھی کہا جاتا تھا۔ یہاں پولش بچوں کے لیے اسکول، گرجا گھر اور کھیل کے میدان بنائے گئے تھے۔
جنگی قیدیوں کا کیمپ (Prisoners of War Camp): دوسری جنگ عظیم کے دوران مشرق وسطئ اور شمالی افریقہ سے پکڑے گئے اطالوی جنگی قیدیوں کو بحری جہازوں کے ذریعہ کراچی پہنچایا گیا ۔جہاں سے انہیں ملیر کینٹ اور اوجھا سینی ٹوریم میں قائم جنگی قید یوں کے کیمپوں میں رکھا گیا تاریخ دانوں کے مطابق، یہاں رکھے گئے اطالوی قیدیوں نے بیرکوں کی دیواروں اور وہاں موجود درختوں پر اپنے نام اور تاریخیں کھدائی کر کے لکھی تھیں، جو کئی دہائیوں تک وہاں موجود رہیں لیکن بعد میں جدید تعمیرات کی وجہ سے ختم ہوگئیں۔
امریکی فوجی کیمپ : 1942ء میں ملیر کے صحرائی علاقے بشمول اوجھا سینی ٹوریم میں امریکی فوج کے لیے ایک بہت بڑا بیس کیمپ بنایا گیا جہاں بیک وقت 20,000 سے زائد امریکی فوجی قیام کر سکتے تھے۔ یہاں ان کے لیے 38 میس ہال، ایک امریکی بیس ہسپتال، سوئمنگ پول اور تفریحی کلب (ملیر کلب) بھی تعمیر کیا گیا۔
کراچی کا ہوائی اڈہ (جو اس وقت ڈرگ روڈ ایرپورٹ کہلاتا تھا) امریکی فضائیہ کے بڑے بمبار طیاروں (جیسے B-24 Liberator) اور جنگی پائلٹوں کی تربیت کا سب سے بڑا مرکز بن گیا تھا۔ ملیر اور لانڈھی میں اضافی ایئر فیلڈز بھی بنائے گئے تھے۔
اس طرح وہ علاقہ جہاں کبھی دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکی ٹرک اور فوجی انجینئرز گشت کرتے تھے، آج کراچی کا ایک مصروف ترین تعلیمی، طبی اور رہائشی مرکز (گلزارِ ہجری، اسکیم 33) بن چکا ہے ۔
پاکستان بننے کے بعد اکتوبر 1946ء میں یہاں دوبارہ ٹی بی کے مریضوں کا داخلہ شروع ہوا۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہ ادارہ حکومتِ سندھ کے پاس چلا گیا اور اسے “اوجھا انسٹی ٹیوٹ آف چیسٹ ڈیزیزز” (OICD) کا نام دیا گیا۔ یہ پورے صوبے میں ٹی بی اور سینے کے امراض کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے۔
جب 2003-2004ء میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کا قیام عمل میں آیا، تو اس تاریخی اوجھا انسٹی ٹیوٹ کو یونیورسٹی کے ماتحت کر دیا گیا۔ اس وسیع و عریض 127 ایکڑ زمین پر پرانے سینی ٹوریم کی جگہ اب ایک جدید ترین ڈاؤ یونیورسٹی ہسپتال (اوجھا کیمپس)، ڈاؤ انٹرنیشنل میڈیکل کالج، اور متعدد ریسرچ لیبارٹریز قائم ہو چکی ہیں ۔
اوجھا سینی ٹورئیم کی تاریخ
















