Advertisement

سود ہضم اور کرپٹو کرنسی پر بحث

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لوگ ایک بار پھر نئی بحث میں الجھ گئے یا الجھادئیے گئے ہیں ،اور یہ نئی بحث کرپٹو کرنسی کی ہے، ایک خبر آئی کہ مفتی تقی عثمانی نے کرپٹو کرنسی کو ناجائز قرار دیدیا ہے ،اس پر ایک ہنگامہ کھڑاہوگیا،کچھ دن اس پر بات ہوتی رہی مفتی صاحب کےعلم و فضل اور تجربے کے بارے میں واٹس اپ دانشور کود پڑے ،جو دین کے بارے میں کچھ نہیں جانتے وہ جائز ناجائز ،حلال حرام کی باتیں کرنے لگے، لیکن یہ سلسلہ زیادہ دن نہیں چلا ،اب سیلانی کے مفتی جناب بشیر فاروقی کا بیان سامنے آیا کہ ہم تو تیرہ ماہ قبل کرپٹو کرنسی کو جائز قرار دے چکے، لیجے جائز اور ناجائز دونوں کا فتوی آگیا ،دلائل دونوں طرف سے دئیے جارہے ہیں ،ڈیجٹس کی ملکیت اور وجود اورعدم وجود کے ثبوت پیش کئیے جارہے ہیں، ہم اس کرپٹو کرنسی کے جائز ناجائز ہونے کی بحث سے دور رہنا چاہتے ہیں اور قوم کو بھی دور رکھنا چاہتے ہیں،یہ نہایت عجیب بات ہے کہ قرآن نے براہ راست جس چیز کو حرام قرار دیا ہے اور اسے اللہ اور رسول سے جنگ قرار دیا ہے ہم اسے تو ٹھنڈے ٹھنڈے برداشت کرلیں،اور بحث کریں مشتبہات یامباح یا ایسی چیزوں پر جن کے بارے میں واضح احکامات علم میں نہیں، یا یوں کہہ لیں کہ ابھی اس پر سنجیدہ بحث ہی نہیں ہوئی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ ایک سوسے لے کر پانچ ہزار فرینڈذ رکھنے والے واٹس ایپئیے دانشور ان امور پر مفتیوں کے فتووں کی بال کی کھال نکالیں۔
جب مفتی تقی عثمانی صاحب کا فتوی عام ہوا تو crypto currency نہیں بلکہ حقیقتاً corrupt to currency والے اچھل پڑے، آسان پیسہ کسے برا لگتا ہے،کوئی نوکری نہیں محنت نہیں ،بس رات بھر موبائل اور کمپیوٹر سے کھیل اور پیسہ ،پیسہ پیسہ ہی پیسہ،ایک طرف مفتی تقی عثمانی کے خلاف محاذ کھل گیا تو دوسری طرف اسلام بیزار لوگوں کو جھنجھنا ہاتھ آگیا، اب مفتی تقی عثمانی کے بہانے مولوی،اسلام ملا لوگ کہہ کر اسلام کا مذاق بنایا جارہا ہے۔مفتی تقی عثمانی کے فتوے کے بعد سیلانی کے مولانا بشیر فاروق کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں رئیس مفتی وسیم اختر المدنی نے شرکت کی اور بیان جاری کیا گیا کہ ہم تیرہ ماہ قبل کرپٹو کرنسی کو جائز قرار دے چکے ہیں،اسے یکسر ناجائز قرار دینا درست نہیں، البتہ اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ تمام مکاتب فکر کے علما کو جمع کرکے اس مسئلے پر تفصیلی بحث کرکے حل نکالا جائے، یہ بات درست ہے۔اب یہ مسئلہ مکاتب فکر کے اختلاف کا مسئلہ بن گیا ہے ۔لیکن ہمارا سوال اب بھی اپنی جگہ ہے کہ قرآن سے براہ راست حرام قرار دئیے گئے سود کا کاروبار تو جاری رہے، تو ہم کرپٹو کرنسی پر بحث کیوں کریں؟
اس سودی نظام نے پورے معاشرے کا نظام تباہ کردیا ہے، برکت اٹھ گئی ہے ،ہم فرقوں اور گروہوں میں تقسیم ہوگئے ہیں،اور یہ وعید اللہ سناچکا ہے کہ ہم تمہیں فرقوں اور گروہوں میں تقسیم کرکے مزا چکھادیں گے ،اور یہ ہمارے ساتھ ہورہا ہے۔
ہم نے اس مسئلے پر ممتاز ماہر معاشیات ڈاکٹر شاہد حسن سے رابطہ کیا تو انہوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی، انہوں نے کہاکہ ” یہ افسوسناک بت ہے کہ کچھ افراد دانستہ یا غیر دانستہ کرپٹو کرنسی کی بحث میں الجھ گئے ہیں،مگر شاید ایک تلخ حققیقت کا ادراک نہیں کرپارہے ہیں ،اور وہ تلخ حقیقت یہ ہے کہااسٹیٹ بنک آف پاکستان نے کچھ روز قبل ایک اسٹریٹجک پیپر شائع کیا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ بڑے بنک جیسے حبیب بنک ، یونائیٹڈ بنک ،بنک الفلاح وغیرہ جن کی اونرشپ غیر ملکی ہے،وہ اگر چاہیں تو 2027 کے بعد بھی سودی بنکنگ جاری رکھ سکتے ہیں، اور یہ بات قرآن کے خلاف ہے اور چھبیسویں آئینی ترمیم کے بھی خلاف ہے،یہ تو گویا اسٹیٹ بنک نے وہ اعلان دہرادیا جسے اللہ اور رسول سے جنگ قرار دیا گیا ہے۔ڈاکٹر شاہد حسن نے معاملے کی سنگینی بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس پیپر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوئی صاحب یا حکومت اگر دسمبر 2027 میں دس سال یا پندرہ سال کے لئیےقرضہ لیتے ہیں یا دس سال کے لئیے ڈیفنس سیونگ میں جمع کراتے ہیں تو یہ اس مدت میں سودی بنیادوں ہی پر جاری رہے گا، اسی طرح حکومت نے جوملکی قرضے لئیے ہیں وہ بھی 2027 کے بعد بھی سود ہی پر جاری رہیں گے، یہاں تک کہ ان کی مدت ختم ہوجائے۔حالانکہ اس سے قبل یہ بیان سامنے آچکاتھا کہ سودی قرضے 2027 سے قبل اسلامی طریقے پر منتقل کر لئیے جائیں گے ۔ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے متنبہ کیا کہ اسٹیٹ بنک کا یہ اسٹریٹجی پیپر آئین کی چھبیسویں ترمیم کے بھی خلاف ہے،جس کی حمایت تمام دینی جماعتوں نے اسوقت کی تھی لیکن میں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ قرآن اور آئین کے خلاف ہے اور کسی کو یہ اختیار نہیں کہ قرآن کے خلاف فیصلہ کرے، اور یہ بھی کہا تھا کہ حکمرانوں کے عزائم یہی ہیں کہ 2027 میں بھی سود ختم نہیں کریں گے۔
اس میں یہ شوشا چھوڑا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہے،اور مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں تو اس پر مفاہمت ہوچکی ہے،یہ چھبیسویں ترمیم کا سود کے خاتمے کا اعلان اسوقت بھی دھوکا تھا آج بھی دھوکا ہے، اسوقت اس کی حمایت کرنے والوں کو اب اس فیصلے کی مزاحمت کرنی چاہئیے،اب تو سب کی آنکھیں کھل جا نی چاہئیں۔اس سے توجہ ہٹانے کے لئیے کرپٹو کرنسی کی بحث چھیڑ دی گئی،اسوقت یہ مسئلہ اٹھانے کی ضرورت نہیں تھی اس پر بعد میں بھی بات کی جاسکتی تھی، ڈاکٹر شاھد حسن صدیقی نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آنے والے دنوں میں کرپٹو کرنسی بھی کچھ تبدیلیوں کے ساتھ اسلامی اور قانونی قرار پاجائے گی۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اسٹیٹ بنک کے اسٹریٹجی پیپر چھبیسویں ترمیم، قرآن اور شریعت کے خلاف ہے،اسلئیےکرپٹو کرنسی کے بجائے اس پر بات ہونی چاہئیے،کیونکہ یہ واضح طور پر قرآن کے خلاف ہے،جبکہ کرپٹو پر تو مختلف آرا ہیں۔علماء ، صحافیوں اور دانشوروں ہر طبقے کو اس پر بات کرنی چاہیے۔
ڈاکٹر شاھد حسن صدیقی کی گفتگو کے آخر میں کرپٹو کے بارے میں جس یقین کا اظہارکیا گیا ہے اس کے آثار بھی نظر آرہے ہیں ،سیلانی کی جانب سے تمام مکاتب فکر کے لوگوں کو بٹھاکر متفقہ فیصلے کی تجویز اور مفتی تقی عثمانی کے فتوے کے بعد جامعہ بنوری ٹاؤن کے استاد مولانا عمر انور بدخشانی کا مضمون ،
“کوئی چیز پہلے ناجائز پھر جائز کیوں” بہت توجہ کے قابل ہے، اس میں کرپٹو کرنسی کے خلاف فتوے سے رجوع یا یوٹرن کی گنجایش نکالی گئی ہے۔ان کے مضمون ، سیلانی کےمطالبے اور ڈاکٹر شاھد کی پیشگوئی کو ملاکر سامنے رکھیں تو نتیجہ یہی نکلتا نظر آتا ہے۔

error: