Advertisement

وہ امیر بھی تھے اور عظیم بھی۔ نام میں بھی اور کردار میں بھی

اناللہ وانا الیہ راجعون
دل مانتا نہیں، قلم ساتھ نہیں دے رہا، مگر خبر سچ ہے۔۔۔ وہ امیر بھی تھے اور عظیم بھی، نام میں بھی اور کردار میں بھی۔
برادر امیرالعظیم سے میرا تعلق 1985 سے 2026 تک، پورے اکتالیس برس پر محیط رہا۔ ایک طویل عرصہ، ایک پوری زندگی کا سفر، جس میں محبت کبھی ماند نہیں پڑی۔ خوبصورت شخصیت، پیارا انسان، واضح اور دوٹوک رائے کے مالک۔ جب فیوچر وژن اور پاسبان کا دفتر ایک ہی بلڈنگ میں تھا، تو بےشمار خوشگوار مجالس کا سلسلہ رہا ۔ وہ محفلیں جو آج بھی آنکھوں کے سامنے تازہ ہیں، جیسے کل کی بات ہو۔
پھر جب عظیم بھائی وسطیٰ پنجاب کے امیر بنے تو تعلق مزید قریبی اور محبت بھرا ہو گیا اور جب وہ قیمِ جماعت منتخب ہوئے تو میری طرح سیکڑوں لوگ یہی محسوس کرتے تھے کہ ہم ان کے خصوصی تعلق کے دائرے میں ہیں، یہی ان کی سب سے بڑی خوبی تھی، ہر ایک کو اپنا بنا لینا، ہر ایک کو یہ احساس دلانا کہ وہ خاص ہے۔
میری مرحومہ بیٹی کی طویل علالت کے دنوں میں عظیم بھائی خود خبرگیری کرتے، فکرمندی کا اظہار کرتے۔ وہ لمحات میں کبھی نہیں بھلا سکتا۔ ایک اتنے بڑے منصب پر فائز انسان کا اتنی محبت اور توجہ سے پوچھنا، یہ کوئی معمولی بات نہ تھی۔
میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ وہ میرے لیے خاص تھے، وہ میرے پیارے تھے۔ ان کا جانا صرف ایک قائد کا نہیں، ایک مہربان بھائی کا، ایک شفیق دوست کا بچھڑنا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس خوبصورت انسان کی بہترین مہمان نوازی فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین

error: