وزیراعظم محمد شہباز شریف اپنے وفد کے ہمراہ خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر 06 اگست 2026 کو جدہ پہنچنے تو مکہ المکرمہ کے نائب گورنر شہزادہ سعود بن مشال بن عبدالعزیز، سعودی عرب کے وزیرِ زراعت، پانی و ماحولیات عزت مآب انجینئر عبدالرحمن بن عبدالمحسن الفضلی، پاکستان کے سعودی عرب میں سفیر احمد فاروق، قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی اوراعلی سفارتی حکام نے وزیرِ اعظم وپاکستانی وفد کا پر تپاک استقبال کیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، آرمی چیف و چیف آف ڈیفینس فورسز سید عاصم منیر، وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور پاکستانی وفد نے مکہ مکرمہ میں عمرہ ادا کیا اورمدینہ منورہ میں روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری دی۔ عمرہ کی ادائیگی سے قبل پاکستانی وفد نے کعبہ شریف کی ذیارت خاص کی سعادت حاصل کی۔ عمرہ کی ادائیگی کے بعد وزیرِ اعظم، فیلڈ مارشل اور پاکستانی وفد نے ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی، امت مسلمہ کی سلامتی اور علاقائی و عالمی امن کیلئے دعا کی۔ وزیرِ اعظم نے دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی ولی عہد و وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آلسعود کے ساتھ ملاقات کی۔ جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دیرینہ برادرانہ تعلقات اور شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔
07 اگست 2026 کو پاکستان ، سعودی اورترکی کے درمیان سہ فریقی دفاعی معاہدے پردستخط سے قبل پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی مکہ مکرمہ میں قصر الصفا آمد پر سعودی ولی عہد و وزیرِ اعظم شیخ محمد بن سلمان بن عبد العزیز آلسعود نے وزیرِ اعظم کا استقبال کیا۔ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی پر مسلح حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے جمعہ کو مکہ مکرمہ قصر الصفا میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت ایک اجتماعی دفاعی ڈھانچہ قائم کیا گیا ہے جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف مسلح حملہ سب کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے پر ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب ایردوگان اور پاکستانی وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے مکہ مکرمہ جوائنٹ ڈیفنس سمٹ کے دوران الصفا پیلس میں دستخط کیے۔
سربراہ اجلاس کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے دیرینہ تاریخی تعلقات، اسلامی یکجہتی، مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور قریبی دفاعی تعاون پر استوار ہے۔ معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ مزاحمت کو مضبوط بنانا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا دورۂ سعودی عرب اور مکہ معاہدہ
















