بین الاقوامی تعلقات محض سفارتی ملاقاتوں اور مشترکہ اعلامیوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ عوام کے دلوں میں بسنے والے جذبات، مشترکہ تاریخ اور باہمی اعتماد کی نئی تعبیر بن جاتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کا حالیہ دورہ استنبول بھی اسی نوعیت کا تھا، جہاں تاریخی وحدت الدین مینشن میں ترک صدر رجب طیب اردوان سے ہونے والی ملاقات نے ایک بار پھر یہ پیغام دیا کہ پاک ترک تعلقات رسمی سفارتکاری سے کہیں آگے جا چکے ہیں۔
یہ کہنا درست نہیں کہ دونوں ممالک حقیقتاً ’ایک گھر‘ بن گئے، لیکن اس ملاقات اور دونوں رہنماؤں کے بیانات نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ اپنے تعلقات کو روایتی دوستی سے آگے ایسی اسٹریٹجک شراکت داری میں بدلنا چاہتے ہیں جس کے مرکز میں عوام، معیشت، ثقافت اور مشترکہ مستقبل موجود ہو۔
’دو دِل، ایک روح‘ صرف نعرہ نہیں
مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور ترکیہ کو ’دو دِل، ایک روح‘ قرار دیا۔ انہوں نے عظیم صوفی شاعر یونس ایمرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کا تعلق صرف سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ مشترکہ تاریخ، عقیدے، ثقافت اور قربانیوں پر قائم ہے۔
یہ الفاظ صرف جذباتی اظہار نہیں بلکہ دونوں معاشروں کی حقیقی مماثلت کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ دونوں میں خاندان سماج کی بنیادی اکائی ہے۔ بزرگوں کا احترام، خاندانی نظام، بچوں کی تربیت، مذہبی اقدار اور مہمان نوازی دونوں قوموں کی مشترکہ شناخت ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کو محض دوست نہیں بلکہ بھائی سمجھتے ہیں۔
5ارب ڈالر کی تجارت خواب نہیں
دورے کا سب سے نمایاں معاشی اعلان دوطرفہ تجارت کو 5 ارب ڈالر تک پہنچانے کے ہدف کی تجدید تھا۔
اس وقت دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارت تقریباً 1.4 ارب ڈالر ہے۔ یعنی مطلوبہ ہدف حاصل کرنے کے لیے موجودہ تجارت کو تقریباً ساڑھے تین گنا بڑھانا ہوگا۔ یہ آسان کام نہیں، لیکن اگر سرمایہ کاری، صنعتی تعاون اور تجارتی سہولتوں میں حقیقی پیش رفت ہوتی ہے تو یہ ہدف ناقابلِ حصول بھی نہیں۔
صدر اردوان نے بتایا کہ دونوں ممالک کی وزارتِ تجارت اس مقصد پر مسلسل کام کر رہی ہیں، جبکہ ترجیحی تجارتی معاہدے کا دائرہ کار بھی مزید وسیع کرنے پر مذاکرات جاری ہیں۔
خصوصی اقتصادی زون اہم تجویز
دورے کے دوران کراچی میں ترک سرمایہ کاروں کے لیے خصوصی اقتصادی زون کے قیام پر بھی بات ہوئی۔
صدر اردوان نے بتایا کہ اس منصوبے پر دونوں ممالک کی وزارتیں مشاورت کر رہی ہیں، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان-ترکیہ بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اس مقصد کے لیے ایک ہزار ایکڑ اراضی مختص کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور سرمایہ کاروں کو خصوصی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
یہ بات اہم ہے کہ اس مرحلے پر اسے مکمل طور پر نافذ شدہ منصوبہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ فی الحال یہ ایک تجویز اور مشترکہ معاشی وژن کا حصہ ہے، جسے عملی شکل دینے کے لیے مزید انتظامی اور قانونی اقدامات درکار ہوں گے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ ترک سرمایہ کاری اور پاکستانی صنعت، برآمدات و روزگار کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔
بزنس فورم :معیشت اور عوام کو جوڑنے کی کوشش
استنبول میں منعقدہ پاکستان-ترکیہ بزنس فورم اس دورے کا اہم ترین معاشی پہلو تھا۔
وزیراعظم نے Çalık Holding، Albayrak Group اور TOBB کی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور انہیں توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر، آئی ٹی، زراعت، ٹیلی کمیونیکیشن، لاجسٹکس و نجکاری سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
انہوں نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کاری کونسل (SIFC) کے تحت ون ونڈو سہولت کی یقین دہانی بھی کرائی تاکہ سرمایہ کاروں کو بیوروکریسی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اگر ترک سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف حکومتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ روزگار، صنعتی ترقی، ہنرمندی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دفاع سے آگے ، نئی معاشی سمت
پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات طویل عرصے سے دفاعی تعاون کے حوالے سے مضبوط رہے ہیں، لیکن اس دورے نے واضح کیا کہ اب دونوں ممالک معاشی تعاون کو بھی اسی اہمیت کے ساتھ آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔
توانائی، ٹرانسپورٹ، جدید ٹیکنالوجی، آئی ٹی، اہم معدنیات اور انفراسٹرکچر وہ شعبے ہیں جنہیں مستقبل کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی طرح اسلام آباد-تہران-استنبول (ITI) کارگو ٹرین، سمندری رابطوں اور مڈل کوریڈور کے ساتھ روابط جیسے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ تاہم یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ ان منصوبوں کے مختلف مراحل ابھی زیر غور ہیں اور انہیں مستقبل کے معاشی وژن کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ فوری طور پر نافذ شدہ فیصلوں کے طور پر۔
کشمیر، شمالی قبرص اور
مشترکہ سفارتی اعتماد
اس ملاقات میں صرف تجارت ہی نہیں بلکہ علاقائی سیاست بھی نمایاں رہی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جموں و کشمیر کے مسئلے پر ترکیہ کی مستقل حمایت پر صدر اردوان کا شکریہ ادا کیا، جبکہ پاکستان نے ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے حوالے سے ترکیہ کے مؤقف کی حمایت کا اعادہ کیا۔
یہ باہمی اعتماد اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ دونوں ممالک بین الاقوامی معاملات میں اکثر ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھتے اور اس کی حمایت کرتے ہیں۔
نوجوان، تعلیم اور خاندان
اگرچہ میڈیا کی زیادہ توجہ تجارت اور سفارت کاری پر رہی، لیکن اس شراکت داری کا ایک اہم پہلو نوجوان نسل بھی ہے۔
ترک صنعتی مہارت، ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ تربیت اور سرمایہ کاری پاکستانی نوجوانوں تک پہنچتی ہے تو اس کے مثبت اثرات براہِ راست خاندانوں تک پہنچیں گے۔
توانائی، ماحول دوست منصوبوں اور جدید ٹیکنالوجی میں تعاون بھی آئندہ نسلوں کے لیے بہتر مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
عملی امتحان
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس دورے کے تمام اعلانات جلد حقیقت کا روپ دھار لیں گے۔
ماضی میں بھی پاکستان اور ترکیہ نے تجارت اور سرمایہ کاری کے کئی اہداف مقرر کیے، لیکن مختلف انتظامی، معاشی اور علاقائی چیلنجز کے باعث مطلوبہ رفتار حاصل نہیں ہو سکی۔
اسی لیے 5 ارب ڈالر کی تجارت، خصوصی اقتصادی زون اور بڑے سرمایہ کاری منصوبوں کی اصل کامیابی کا انحصار ان کے مؤثر اور بروقت نفاذ پر ہوگا۔
اعلانات اپنی جگہ اہم ہوتے ہیں، لیکن سرمایہ کاروں کا اعتماد شفاف پالیسی، مستقل مزاجی اور عملی نتائج سے مضبوط ہوتا ہے۔
دوستی سے آگے،
ذمہ داری کی شراکت
استنبول کا یہ دورہ اس لحاظ سے اہم تھا کہ اس نے پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کو ایک نئی معاشی سمت دینے کی کوشش کی۔ پانچ ارب ڈالر کی تجارت کا ہدف، سرمایہ کاری میں اضافہ، خصوصی اقتصادی زون کی تجویز، نجی شعبے کے درمیان روابط، دفاعی تعاون، علاقائی رابطہ کاری اور مشترکہ سفارتی اعتماد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک مستقبل کو صرف جذباتی نعروں کے بجائے عملی معاشی تعاون سے جوڑنا چاہتے ہیں۔
اگر ان اعلانات کو مؤثر منصوبہ بندی، شفاف حکمت عملی اور مسلسل سیاسی عزم کے ساتھ عملی جامہ پہنایا گیا تو اس کے ثمرات صرف حکومتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عام شہریوں، نوجوانوں، کاروباری طبقے اور دونوں ممالک کے خاندانوں تک بھی پہنچیں گے۔
شاید یہی اس دورے کا سب سے اہم پیغام تھا کہ پاکستان اور ترکیہ کی دوستی صرف ماضی کی مشترکہ یادوں پر قائم نہیں بلکہ ایک ایسے مشترکہ مستقبل کی تعمیر کی خواہاں ہے جس میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے قابلِ اعتماد شراکت دار بن کر اپنے عوام کی خوشحالی کے لیے مل کر آگے بڑھیں۔
5 ارب ڈالر سے بڑھ کر! پاکستان اور ترکیہ کے دِلوں کو جوڑنے والی نئی شراکت داری
















