بار بار نئے صوبوں کی باتیں ہوتی ہیں کبھی سیاسی جماعتوں کی جانب سے کبھی دانشوروں کی جانب سے،اور اب خود سرکار کے حوالے سے یہ مشہور ہورہا ہے کہ ملک کا مقتدر طبقہ یا اسٹیبلشمنٹ نہایت “سنجیدگی” سے ملک میں نئے صوبے بنانے پر غور میں مصروف ہے۔اس کام کی ترتیب بھی زوردار ہے، امریکا کے طویل دورے کے بعد ظہور ثانی کے ساتھ ہی ملک کے وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے پورے نظام کو گلا سڑا قرار دلوادیا گیا اور اگلے مرحلے کے طور پر مجوزہ صوبوں کی تقسیم اور تعداد بھی بحث کے لئیے اچھال دی گئی۔
یہ شوشا 30 جولائی کو چھوڑا گیا ،اس روز تک ہر خاص وعام آزاد کشمیر کے انتخابات میں جادوئی کمالات، عوامی احتجاج اور کشمیریوں کے حقوق اور مزاحمت پر بات کررہا تھا ،مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ کو ابھی شہ رگ پر توجہ دینے کی فرصت نہیں، دوسرا موضوع بلوچستان تھا جس کےبارے میں صرف فتنۃ الخوارج اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی سرکاری خبریں آرہی تھیں ، اب وزیر داخلہ کے شوشے کے بعد ابلاغ کا سارا مرکزی دھارا، سیاسی پارٹیاں، فارم 45،اور 47 والے سیاسی ہرکارے اور کٹھ پتلیاں حرکت میں آگئے ہیں ، ایسا نہیں ہونے دیں گے ویسا نہیں ہونے دیں گے، سب لنگوٹ کس کر میدان میں آگئے ہیں، اور کشمیر اور بلوچستان سے توجہ ہٹ گئی، کون کہتا ہے کہ حکومت کچھ نہیں کرسکتی،اگر وہ بلوچستان کا اور کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کرسکتی تو لمحوں میں قوم کی توجہ تو کسی اور جانب مبذول کرواسکتی ہے، خواہ اس کے لئیے کرکٹ کا بخار چڑھانا پڑے یا پاکستان جس کھیل میں مسلسل جیت کر بھی بیس سال سے پہلے عالمی مقابلوں میں شامل نہیں ہو سکتا ، یعنی فٹبال کا بخار بھی چڑھادیتی ہے، اور کبھی کبھی کسی دھماکے اور دہشت گردی کے بارے میں بھی یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ حکومت نے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئیے یہ واردات کرائی ہے،اس پر تو بعض سیاسی اور علاقائی گروہوں نے نعرے بھی تخلیق کر لئیے تھے کہ
“یہ جو دہشت گردی ہے” وغیرہ ،اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے نعرے بہت تیزی سے مقبول بھی ہوجاتے ہیں۔ان کو یہاں دہرانے سے قانون کے حرکت میں آجانے کے خدشات ہیں ۔
تو پھر اصل مسئلے کی طرف آجاتے ہیں یعنی نئے صوبے۔۔۔ وزیر داخلہ صاحب کا فرمان پہلے دیکھ لیں، فرماتے ہیں کہ کاکروچوں کے جمع ہونے سے پہلے نظام درست کرلیں، اور تجویز دی کہ نئے صوبے بنائیں۔انہوں نے بڑی ہمت سے وہ بات کہی ہے جو سنجیدہ سیاسی رہنما ایک عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ موجودہ نظام گل سڑ کر گر چکا اس میں مسائل حل نہیں ہونگے، صوبوں کا معاملہ عوام کے پاس لے کر جانا ہوگا، باقی باتیں محض بھرتی کے لیے کہہ دیں کہ نوجوان اپنا حق مانگ رہے ہیں، حکومت مدت پوری کرے گی اور عمران خان کا فیصلہ عدالتیں کریں گی۔ ان فرمودات کو ایک جملے میں سمیٹا جاسکتا ہے کہ ” تم سے تو نہ ہوگا بھائی”
جتنی باتیں موصوف نے کی ہیں ایک ایک کرکے غور کریں تو ان میں سے کون سا کام یہ گلا سڑا نظام کر سکتا ہے؟
نئے صوبے کون بنائے گا یہ گلے سڑے نظام والے؟ جنہیں اپنی مرضی کے خلاف ایم پی اے اور ایم این اے بھی برداشت نہیں، جیتے ہووں کو ہراکر اپنے پٹھووں کو گھروں سے اٹھا کر لائےاور سیٹیں نچھاور کردیں۔ اس نظام کو چلانے والے نوجوانوں کو ان کا حق کیسے دیں گے ان کا حق مار کر تو یہ یہاں بیٹھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کا معاملہ عوام کےپاس لے جائیں گے ، کون لے جائے گا؟ یہ گلا سڑا نظام لے جائے گا؟ جیسے یہ ہر پانچ سال بعد انتخابات میں ۔عاملہ عوام کے پاس لے جاتا ہے، محسن نقوی صاحب دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا عوام جو رائےدیتے ہیں نتائج وہی نکلتے ہیں؟؟ ایسے انتخابات یہی گلا سڑا نظام کراتا ہے ،اس سےمنصفانہ انتخابات کی توقع رکھنا ببول کے درخت سے گلاب حاصل کرنے کی خواہش کےسوا کیا ہوسکتی ہے۔
نقوی صاحب پڑوس کے کاکروچوں سے خوفزدہ ہوکر کہتے ہیں کہ کاکروچوں کے جمع ہونے سے پہلے نظام درست کرلیں۔ان کی اطلاع کے لئیے عرض ہے کہ عوام کو تو اب بھی آپ لوگ کاکروچ نہیں تو حشرات الارض سے کم ہی سمجھتے ہیں، اس نظام سے نکلنے کے لئیے کاکروچ نہیں شیروں ہی کی ضرورت ہے، کیونکہ شیر کا پنجہ جب گیدڑوں اور مردار خوروں پر پڑتا ہے تو ان کی طبعیت صاف ہوتی ہے۔کاکروچوں کو تو یہ مسل دیتے ہیں ۔
جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کہ موجودہ سڑے ہوئے نظام والوں سے کسی خیر کی توقع نہیں ہے، نظام جمہوری ہو، پارلیمانی یا صدارتی وفاقی یا اکائی والا سب ٹھیک ہوتے ہیں برطانیہ کے جس نظام کی نقل پاکستان میں کی جارہی ہے وہ برطانیہ میں دوسوسال سے نافذ ہے اور بالکل بھی نہیں سڑا،ہمارے 80 برس میں سے 31 برس براہ راست فوجی حکومتیں رہیں اور بیشتر وقت فوجی چھتری تلے یا بوٹ تلے جمہوریت کے نام سے نظام قائم رہا اس کو جمہوریت کہنا بھی جمہوریت کی توہین ہے۔
تصور کریں یہ عوام سے خوشحالی اور ترقی کے وعدے کرکے کیا ان میں سے کچھ دے سکتے ہیں؟ ہرگز نہیںان کے پیکیج میں یہ شامل ہی نہیں ہے۔ نقوی صاحب نے اعتراف کر ہی لیا ہے تو سب سےپہلے خود تو اس نظام سے الگ ہوجائیں،اس سے کم از کم ان کی سنجیدگی کا اندازہ تو ہوگا۔ نقوی صاحب کی ہرپڑھا لکھا آدمی یہ سادہ سی بات سمجھتا ہے کہ جو بیج بویا جائے گا ف،ل اسی کی آئے گی،سو اس گلے سڑے نظام نےملک کو 12 انتظامی صوبے دے بھی دئیے تو نتیجہ کیا ہوگا ، ملک بھر میں 12 نالائق لوگوں کی لاٹری ہر چار پانچ سال بعد کھلے گی ، اس گلے سڑے نظام کو چلانے والے 12 نالائق اور کٹھ پتلی وزرائے اعلی تلاش کریں گے ،اور ان کی کابینہ بھی ہوگی ،یہ سڑا ہوا نظام تو ایسے ہی لوگ تلاش کرے گا جیسے ابھی کرتا یے ،چنانچہاتنے ہی گورنرز بھی اسی طرح کے تلاش کئیے جائیں گے جیسے آجکل ہوتے ہیں۔ پھر عوام کو اسی طرح ہانکا جائے گا جیسے ابھی ہانکا جاتا ہے،اس کے نتیجے میں سڑے ہوئے نظام کے مزید 24 اور اوسطا دس کی کابینہ کے حساب سے ا20 نالائق وزرا مزید اس نطام کا حصہ بن جائیں گے ،۔جناب نظام اچھا جب چلتا ہے جب اس کو چلانے والے ہاتھ صاف ہوں،ہاتھ صاف کرنے والوں کے ہاتھ میں یہ نظام ہونا ہی نہیں چاہئیے۔ تو جناب نقوی صاحب آپ تو جانتے ہی ہونگےکہ اس نظام میں کون کون ہاتھ صاف کررہا ہے،اگرآپ باہر نہیں آسکتے تو ایسے لوگوں کا اس نظام سے صفایا کرکے صاف ہاتھ والوں کو یہ نظام حوالے کردیں، لیکن مسئلہ پھر وہی ہے کہ اپ خود اس نظام کا حصہ ہیں یہ کام کیسے کریں گے۔تو پھر کاکروچ نہیں شیر کو بیدار ہونے دیں پھر نظام صاف ہاتھوں میں آئے گا اور صفایا ہوگا۔
کچھ لوگ اس نئے صوبوں کی تجویز پر وزرائے اعلی گورنرز کابینہ کے اخراجات،سیکریٹیریٹ اور سیکورٹی سمیت درجنوں اخراجات کا حساب لگانے بیٹھ گئے، نہیں بھائی! یہ لوگ دیکھتے ہی دیکھتے حساب کتاب بھی بناکردے دیں گے،سننے بولنے اورکہنے میں زیادہ انتظامی یونٹ مزید صوبے جیسی باتیں اچھی لگتی ہیں لیکن بدعنوانی میں لتھڑے ہوئے ہاتھ مسجد بھی بنائیں گے تو بدعنوانی ہی کریں گے۔لہذا سب سے پہلا قدم نظام کو گندے ہاتھوں سے آزاد کرائیں ، پھر ایک یونٹ ہو یا چھبیس صوبے سب کو انصاف ملے گا۔ اصل کام کریں بدعنوان ہاتھوں سے نظام چھین کر صاف ستھرےہاتھوں میں دیدیں۔
یاد ہے ناں سید کا فرمان ” انسانیت کی فلاح اس میں ہے کہ زمام کار، اقتدار اور قیادت، خدا کے باغیوں سے لے کر مومنین اور صالحین کے ہاتھوں میں دی جائے۔ بس یہی راستہ سیدھا ہے۔
نظام نہیں چلانے والے ہاتھ خراب ہیں
















