پاکستان کا ہر طبقہ ٹیکس کے نظام کا شاکی ہے، نچلا طبقہ زبان بھی نہیں رکھتا کولہو کے بیل کی طرح محنت میں لگا ہوا ہے،روز گڑھا کھودتا اور روز پانی نکالتا ہے،ایسے میں پاکستان کے معروف تاجر فاروق عبدالغفار نے 45 برس کے تجربات کا نچوڑ پیش کیا ہے اور ملک کو بہتر متبادل ٹیکس نظام تجویز کیا ہے۔ ذیل میں فاروق صاحب کی گفتگو تجاویز اور ان پر ایمانداری سے عمل کے حیرت انگیز نتائج پیش کئیے جارہے ہیں۔
فاروق غفار صاحب کہتے ہیں کہ45 سال کے بزنس تجربے کے بعد، اپنی ایک حیرت انگیز ریسرچ اسٹڈی کے نتائج پیش کر رہا ہوں جوموجودہ پیچیدہ اور ناکام ٹیکس سسٹم کا انقلابی متبادل ہے یعنی “آلٹرنیٹو ٹیکس سسٹم، ATS۔ میرا تجربہ کہتا ہے کہ یہ ایک ایسی اسٹڈی ہے جو پاکستان کی قسمت بدل سکتی ہے۔
سسٹم کا ظلم
سب سے پہلے، کرنٹ سسٹم کی بے حسی کی ایک ظالمانہ مثال 40 ہزار روپے ماہانہ کمانے والے سے آج کا ٹیکس سسٹم 6سے 8 ہزار روپے، یعنی تقریباً 20 فیصد، ہر مہینے پوشیدہ ٹیکسوں کے ذریعے لے جاتا ہے۔ پٹرول، گروسریز، بجلی اور روزمرہ کی ضروریات پر۔
سوچیں۔۔۔!
ریاست غریب کو دینے کے بجائے اس سے لے رہی ہے۔
غریب مزید غریب ہو رہا ہے۔
دوسری طرف، امیر اور بزنس مین طبقہ بھی کئی ٹیکسوں، بلند ٹیکس شرحوں کے ذریعے اپنی آمدنی کا بڑا حصہ ٹیکس کی صورت میں ادا کرنے کے باوجود، بے تحاشا حکومتی مداخلت اور گھٹتے ہوئے منافع سے پریشان ہے۔
نتیجہ: سرمائے کا فرار
لوگ اپنا پیسہ اور کاروبار پاکستان سے باہر لے جا رہے ہیں اور حکومت قرضوں اور سود کے دباؤ میں پھنسی ہوئی ہے۔
اس معاشی بلبلے سے نکلنے کا ایک آسان حل ہے: ATS آلٹرنیٹو ٹیکس سسٹم اس کا فلسفہ بہت سادہ ہے:
O آمدنی پر نہیں، طرزِ زندگی پر ٹیکس۔
O سب کے لیے جیت کا نظام۔
O نہ ٹیکس، نہ سیلز ٹیکس، ایکسائز ڈیوٹی اور نہ ویلتھ و سیلری ٹیکس
O صرف ایک ٹیکس فری کاروباری ماحول۔
O یہ معاشرے کے ہر طبقے کی مالی حالت بہتر کرتا ہے۔
O غریب کو ریلیف: سیدھی 20 فیصد بچت۔
اے ٹی ایس سرمایہ کاری پر مبنی نظام ہے اور ٹیکس کا دائرہ وسیع کرتا ہے۔
حکومت کو دوگنا ریونیو۔
اے ٹی ایس نظر آنے والے اور قابلِ پیمائش لگژری اشاریوں پر ٹیکس لگاتا ہے۔
جیسے گھر، گاڑی، طرزِ زندگی وغیرہ۔
ایف بی آر ایک بلا کے طور پر مشہور ہے اس نظام میں اس کا کل متوقع ریونیو:
31ہزار ارب روپے۔ ہوجائے گا۔جوزیادہ شرحِ نمو اور کم افراطِ زر کے ساتھ ہوگا۔
جبکہ موجودہ ایف بی آر کا ٹیکس سسٹم پوری کوشش کے باوجود صرف11,750 ارب روپےجمع کر سکا۔
اے ٹی ایس محض کوئی نظریاتی خیال نہیں، یہ زمینی حقائق پر مبنی، ڈیٹا سے چلنے والا نظام ہے۔
ہاؤسنگ، ریٹیل اور صنعتی علاقوں کا تجزیہ جی آئی ایس سیٹلائٹ امیجری اور دستی تخمینے کے ذریعے کیا گیا ہے۔ATS اس وقت کام کرے گا جب اسے پوری طرح، ایک ساتھ نافذ کیا جائے۔
ہائبرڈ، آدھے دل سے یا ٹکڑوں میں عمل درآمد کام نہیں کرے گا۔
آئینی تحفظ
عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ATS کو آئینی تحفظ چاہیے۔
پرانے ٹیکس قوانین کو آئینی ترمیم کے ذریعے ختم کرنا ہوگا
اور نئے ٹیکس فریم ورک کو پارلیمانی منظوری کے ساتھ نافذ کرنا ہوگا۔
ایک نظام۔ ایک قانون۔ ایک ڈیجیٹل ڈھانچہ۔
آئیے ڈیٹا کی تفصیلات دیکھتے ہیں۔
رئیل اسٹیٹ۔
اے ٹی ایس کا سب سے زیادہ ریونیو پیدا کرنے والا شعبہ—
8,850ارب روپے۔
ہاؤسنگ۔
پاکستان میں تقریباً 4 کروڑ 20 لاکھ گھر ہیں۔
ATS صرف 25 سے30 فیصد درمیانے درجے اور لگژری ہاؤسنگ کو ٹیکس کرے گاجبکہ باقی 70 فیصد مستثنیٰ ہوں گے۔
بڑے گھر پر زیادہ شرح، چھوٹے گھر پر کم شرح۔
مثلاً:4 ہزار گز کا گھر رکھنے والوں پر ایک کروڑ روپے سالانہ ہاؤس لیوی، جبکہ ان کی آمدنی بالکل ٹیکس فری ہوگی۔
ہاؤسنگ سے محتاط ریونیو کلیکشن تخمینہ:6,300 ارب روپے۔
تعمیراتی شعبہ۔
یہ نظام تعمیراتی شعبے پر ایک مقررہ فی مربع فٹ ٹیکس لگائے گا
500 سے 5,000 روپے فی مربع فٹ تک
جس سے 1,000 ارب روپے ریونیو حاصل ہوگا۔
جس میں 5 لاکھ اپارٹمنٹس، کمرشل اور صنعتی تعمیرات اور بنگلے شامل ہیں۔
ہر نئی ہاؤسنگ ڈیولپمنٹ سوسائٹی کے پلاٹس پر 2,000 روپے فی گز ٹیکس سے 2,000 ارب روپے ریونیو حاصل ہوگا۔
اس کے علاوہ رجسٹریشن، الاٹمنٹ اور ٹرانسفر سے حاصل ہونے والا ریونیو الگ ہوگا۔
بیرونی تجارت،درآمد و برآمد۔
65 ارب ڈالر کی درآمدات پر اوسط 35 فیصد لیوی 6,500 ارب روپے اور35 ارب ڈالر کی برآمدات پر 3 فیصد فلیٹ ٹیکس سے 300 ارب روپے ریونیو پیدا ہوگا۔
مالیاتی شعبہ
مالیاتی شعبے سے کل 3,870 ارب روپے ریونیو حاصل ہوگا۔
اس میں بینکنگ سیکٹر کے ڈپازٹس اور ایڈوانسز،اسٹاک ایکسچینج کا ٹرن اوور،اور لسٹڈ اور اَن لسٹڈ کمپنیوں کی شیئر ہولڈنگ شامل ہے۔
ڈیجیٹل معیشت
آجکل ڈیجیٹل معیشت کادور ہے اس پر انکم ٹیکس صفر ہونے سے بلیک اکانومی ختم ہو جائے گی اور معیشت خود بخود دستاویزی ہو جائے گی۔
جس سے بینکنگ کا استعمال بڑھے گا۔
ڈیجیٹل کرنسی کا استعمال عام ہو جائے گا۔
پیسے کی گردش کی رفتار تیزی سے بڑھے گی،
اور معیشت تیزی سے ترقی کرے گی۔
یوٹیلیٹیز
انتہائی اہم شعبے یوٹیلیٹیز پر مختلف ٹیکسوں کے انبار سے عوام کی چیخیں نکل گئی ہیں۔
اے ٹی ایس ان تمام ٹیکسوں کو ختم کر کے ایک سادہ ترقی پسند سلیب کے ذریعے 2,500 ارب روپے حاصل کرے گا۔
جبکہ صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ATS ریورس بجلی ریٹ سلیب متعارف کرائے گا۔
بجلی سستی ہوگی اور پٹرولیم لیوی کی شرح نصف کر کے
پٹرول کی قیمت 200 روپے سے نیچے آ جائے گی۔
صنعت۔
اے ٹی ایس، صنعت کے ٹیکس سسٹم کوکیپیسٹی بیسڈ لیوی سے تبدیل کرتا ہے۔ وہ صنعتیں جو کیپیسٹی ماڈل میں نہیں آتیں، ان پر ٹیکس ان کے پلاٹ یا پراپرٹی کے سائز کے مطابق لگایا جائے گا،اس سے تقریباً 2,300 ارب روپے حاصل ہوں گے۔
ریٹیل۔
یہ بھی ایک اہم شعبہ ہے۔ اے ٹی ایس نے 33 لاکھ ریٹیلرز کو مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا ہے۔
جگہ، فرنٹیج، سائز وغیرہ کی بنیاد پر۔اس شعبے پرمنصفانہ ٹیکس کے ذریعے 1,245 ارب روپے ٹیکس حاصل ہوں گے۔
دفاتر اور دیگر کمرشل اداروں سے500 ارب روپے۔
ٹرانسپورٹ۔
نجی اور کمرشل گاڑیوں سے896 ارب روپے جبکہ 800 سی سی سے کم والی گاڑیاں، موٹر سائیکلیں اور رکشے مستثنیٰ ہوں گے۔
زراعت۔
پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک ہے اس کے زرعی شعبے میں70 ملین ایکڑ زیرِ کاشت زمین اور 250 ملین مویشی موجود ہیں۔
اس شعبے کو ریونیو کے مرکزی دھارے میں لانے کے لیے،اے ٹی ایس ایک سادہ لیوی لگاتا ہے۔
فی ایکڑ اوسطاً 15,000 روپےاور فی جانور اوسطاً 3,000 روپے۔
یہ ٹیکس کا بوجھ نہیں، ترقی اور خوشحالی کا دروازہ ہے۔
ٹیلی کام۔
ملک میں کروڑوں موبائل زیر استعمال ہیں، عام صارفین سے 1,000 روپے فی سم،کاروباری صارفین سے 5,000 روپے، براڈ بینڈ اور طویل دورانیے کی کالز سے800 ارب روپے سے زائد ریونیو متوقع ہے۔
غیر صنعتی اور دیگر خدمات کچھ اور سروسز کے شعبے ہیں، جن سے جی ڈی پی میں ان کے حصے کی بنیاد پرتقریباً 1,500سے 1,700 ارب روپے ریونیو کا تخمینہ ہے۔
اس سیکشن کی ہم نے تفصیلی ریسرچ اور ڈیٹا کلیکشن نہیں کی۔ اسے ہم نے ریسرچ سے باہر رکھا ہے۔کچھ کام حکومت خود کرے۔
یہ ہے ATS۔یہ ریسرچ اسٹڈی صرف ایک منظم نمونہ ہے،جو ATS کی قوت اور صلاحیت کو واضح کرتی ہے اور قومی خوشحالی کا روڈ میپ پیش کرتی ہے۔
اب ذمہ داری پالیسی سازوں پر ہے کہ اس فریم ورک کو اپنائیں اور اسے قومی سطح پر نافذ کریں۔
آلٹرنیٹو ٹیکس سسٹم خوشحالی کی طرف راستہ نظام تبدیل کریں، معیشت کو آزاد کریں، پاکستان کو ترقی دیں۔
متبادل ٹیکس نظام ATS آمدنی پر نہیں، طرزِ زندگی پر ٹیکس۔
پاکستان میں ٹیکس کا متبادل نظام
















