Advertisement

جدہ میں بنیان مرصوص اور یوم تکبیر پر خصوصی تقریب

اتوار 10 مئی 2026 کی شام 5 بجے، پاکستان قونصلیٹ جدہ کے زیراہتمام اور پاکستانی کمیونٹی کے اشتراک سے قونصلیٹ کے ویٹنگ ہال میں معرکۂ حق کی پہلی اور یوم تکبیرکی 28ویں سالگرہ کی ایک پُر وقار تقریب منعقد ہوئی، جس کی صدارت سید مصطفی ربانی قونصل جنرل اسلامى جمہوریہ پاكستان نے کی۔ تقریب کےمہمان خصوصی : اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی) میں پاکستان کے مستقل سفیرسید محمد فواد شیر، ناظمہ تقریب ویلفیئر قونصلر محترمہ ازکاء ظفررانا تھیں ۔ تقریب میں قونصلیٹ حکام، کمیونٹی شخصیات، صحافیوں اورمختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں نے نہایت جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ قومی ترانے: مملکت سعودی عرب اور مملکت خدا داد پاکستان کا قومی ترانہ پیش کیا گیا۔
مسعود احمد پوری نے افتتاحی خطاب کرتے ہوئےکہا کہ آج ہم یہاں صرف ایک تقریب کے لیے جمع نہیں ہوئے، بلکہ ایک ایسی تاریخ کو یاد کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں جس نے پوری پاکستانی قوم کے جذبے، اتحاد، اور غیرت کو دنیا پر واضح کر دیا۔ آج معرکۂ حق کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔ ایک ایسا معرکہ جس نے ثابت کیا کہ پاکستان صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک ایمان، اور ایک زندہ قوم کا نام ہے۔ ایک سال پہلے، جب خطے میں جنگی بادل منڈلا رہے تھے، جب دشمن اپنی طاقت اور اسلحے کے نشے میں پاکستان کو دبانے کے خواب دیکھ رہا تھا، تب پاکستان نے دنیا کو ثابت کیاکہ ایمان، اتحاد، اور حب الوطنی کے جذبے کسی بھی مادی طاقت سے کم مضبوط نہیں ہوتے۔ اس جنگ میں ہماری مسلح افواج نے اپنا کردار جس بہادری، دلیری اور جوانمردی سے ادا كيا، اس کى مثال تاريخ عالم ميں نہیں ملتى. اپنى قوت ايمانى، جذبہ شہادت اور ٹيكنالوجى كے بروقت استعمال سے اپنے سے چھ گنا بڑے دشمن کو شکست فاش دیکر نه صرف اینى طاقت كا لوبا منوايا بلكه فضاوں پر اينی حكمرانى بھی قائم کی ۔ دنيا مدتوں ان كے كارناموں کو یاد رکھےگی۔ دشمن کے نا قابل شکست سمجھے جانے والے مایہ ناز طیارے رافیل کو پتنگوں کی طرح فضا سے زمین کی طرف گرا کر نہ صرف دنیا کو حیران کردیا بلکہ دشمن کا غرور خاک میں ملا دیا۔
نشہ غرور ہند کا پل میں اتر گیا
منکر قیامتوں کا قیامت سے ڈر گیا
لازم ہے تعزیت کریں مودی سے اہل ہند
رافیل جن کا عین جوانی میں مر گیا
یہ فتح صرف ايک فوجى كاميابى نہیں ہے – بلکہ پاكستانى قوم كے ناقابل شكست عزم كى علامت ہے- يوم تشكر کے ساتھ ساتھ اج ہم يوم تكبير كى28 ويں سالگره بهى منا رھے ہیں 28 مئى 1998 كو قوم اور اس وقت كى زيرک اور جرات مند قیادت نے جس جذبے کے ساتھ پاکستان کے دفاع كو ناقابل تسخير بنايا تها اج وہى فیصله وہی جذبہ ہماری رہنمائی اور مددکر رہا بے. پاکستان کے ایٹمی پروکرام کو شروع کرنے سے لیکر پایه تكمیل تک پہنچانے ميں جن جن اكابرين نے حصہ ڈالا قوم ان كى احسان مند ہے – اور ان سب كو سلام عقيدت پيش كرتى ہے،ہمارے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو بھی یہ فتح مبارک ہو۔ پاکستان آپ کی جدوجہد، آپ کی قربانیوں اور آپ کے حقِ آزادی کو کبھی نہیں بھولا۔ کشمیر پر ہمارا موقف اٹل ہے، اور ہم ہر بین الاقوامی فورم پر انصاف کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے ۔
آج اس واقعے کو ایک سال گزرنے کے بعد، ہمیں صرف جذباتی ہونے کی نہیں بلکہ سبق سیکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے ملک کو تعلیم، ٹیکنالوجی، معیشت، اور اتحاد کے ذریعے مزید مضبوط بنانا ہوگا۔
انجینئرعارف مغل نے اس بات پر زور دیا کہ قوم کو معاشی ترقی اور پاکستان کی خوشحالی کے لیے اسی اتحاد اورعزم کو برقرار رکھنا ہوگا۔ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آج جب ہم اپنے سول اور عسکری شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں، تو ہم امن، استحکام اور علاقائی ہم آہنگی کے لیے اپنے عہد کی تجدید بھی کرتے ہیں۔
سردار وقاص عنایت نے اپنے خطاب میں “معرکۂ حق” کے دوران پاک افواج کی شاندار پیشہ ورانہ مہارت اور مؤثر حکمت عملی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک فوج نے بھارتی جارحیت کو ناکام بنا کر قومی دفاع کو مضبوط بنایا۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے جو خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر تنازع کے پرامن حل کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔
مہمانِ خصوصی سفیر سید محمد فواد شیر: نے اپنے خطاب میں معرکۂ حق کے دوران پاک افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور درست حکمت عملی کو سراہا، جس کے نتیجے میں بھارتی جارحیت کو ناکام بنایا گیا۔ پاکستان نے امن، اتحاد اور سفارتی کوششوں کے ذریعے پاکستان کے عزم کو اجاگر کیا اورعالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلۂ جموں و کشمیر کے پُرامن حل کی حمایت کرے۔ انھوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں کامیابی نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر نمایاں کیا ہے۔ اس موقع پر انھوں نے قوم کے غیر متزلزل عزم، پاک افواج کی بے مثال بہادری اور قومی یکجہتی کو خراجِ تحسین پیش کیا،
اپنے صدارتی خطاب میں قونصلر جنرل سید مصطفیٰ ربانی نے کہا کہ پاکستان کے معرکۂ حق “آپریشن بنیان مرصوص” کی پہلی سالگرہ اور یوم تکبیر کی 28ویں سالگرہ کے موقع پرآپ سب کو قونصلیٹ جنرل آف پاکستان جدہ کی اس پروقار تقریب میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ “آپریشن بنیان مرصوص” قومی عزم، اتحاد اور دفاعی صلاحیتوں کی ایک روشن مثال ہے، جس نے پوری قوم کو یکجا کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان نے ہمیشہ ملک کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں، جنہیں قوم کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی نے مزید کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بھی وطن سے گہری محبت رکھتے ہیں اور ہر قومی موقع پر اپنے ملک کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیوں کی بدولت پاکستان امن اور استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔ انھوں ان الفاظ پر تقریر کا اختتام کیا ” پاکستان ہمیشہ زندہ باد، پاک افواج ہمیشہ پائندہ باد ” قاری محمد آصف نے اختتامی دعا کرتے ہوئے وطن کے شہدا کے لیے اور پاکستان و سعودی عرب کی سلامتی و خوشحالی کی دعا کی۔

error: