خالد عباس الاسدی ایک عرصہ سے مدینہ المنورہ میں طب کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔ اورشب و روز اپنی پیشہ ورانہ مصروفیت کے باوجود طب اورادب کے ساتھ ساتھ پاکستانی اور کشمیری برادری کی سماجی خدمت میں پیش پیش ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کو حکومت پاکستان کی جانب سے پاکستان قونصلیٹ جنرل جدہ میں گزشتہ برس 14 اگست 2025 کو ایک تقریب میں ان کی ادبی، سماجی اور طبی خدمات کے عوض قونصل جنرل پاکستان جناب خالد مجید نے “” لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا تھا۔اور اس سال حکومت پاکستان کی جانب سے نمایاں قومی خدمات کے اعتراف میں ڈاکٹرخالد عباس الاسدی کو تمغۂ امتیاز سے نوازا جانا بلاشبہ ان کے لیے ایک بڑا اعزاز اور ان کی طویل علمی، ادبی اور سماجی جدوجہد کا اعتراف ہے۔
ڈاکٹر خالد عباس الاسدی کی شخصیت کئی جہتوں کا حسین امتزاج ہے۔ وہ ایک صاحبِ علم شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر بھی ہیں اور ادب سے گہرا شغف رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری میں احساس، فکر اور انسانی جذبات کی ترجمانی نمایاں نظر آتی ہے، جبکہ ان کی ادبی وابستگی نے انہیں معاشرے کے مختلف طبقات سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی سماجی خدمات ہیں۔
وہ ہمیشہ دوسروں کے کام آنے، ضرورت مندوں کی مدد کرنے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے پیش پیش رہے ہیں۔ ان کا یہ طرزِ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حقیقی کامیابی صرف ذاتی ترقی کا نام نہیں بلکہ دوسروں کی زندگیوں میں آسانی اور خوشی پیدا کرنے کا نام بھی ہے۔ دیارِ غیر میں رہتے ہوئے اپنی علمی، ادبی اور سماجی سرگرمیوں کے ذریعے پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنا بھی ڈاکٹر خالد عباس الاسدی کی خدمات کا اہم حصہ ہے۔
ایسے لوگ وطن سے دور رہ کر بھی وطن سے اپنا رشتہ مضبوط رکھتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں سے پاکستان کا نام روشن کرتے ہیں۔ تمغۂ امتیاز دراصل صرف ایک اعزاز نہیں بلکہ ان کی برسوں پر محیط خدمات، محنت، اخلاص اور جذبۂ خدمت کا قومی سطح پر اعتراف ہے۔ یہ اعزاز اس بات کا پیغام بھی ہے کہ جو لوگ علم و ادب اور انسانیت کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بناتے ہیں، ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاتا۔
ادارہ بساط کی جانب سے ڈاکٹر خالد عباس الاسدی کو یہ اعزاز بہت بہت مبارک ہو۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، توانائی اور مزید توفیق عطا فرمائے تاکہ وہ اسی جذبے کے ساتھ علم، ادب اور انسانیت کی خدمت کا سفر جاری رکھیں اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک روشن مثال بنیں۔
















