جدہ میں نئے تعینات قونصل جنرل مصطفیٰ ربانی پاک سعودی سفارتی تعلقات میں مزید مضبوطی کے لیے پر امید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی پوری کوشش کریں گے کہ سعودی عرب کے مغربی خطے میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی توقعات پر پورا اتریں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جدہ میں اے پی پی نیوز کے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔
انہوں نے اپنے سفارتی سفر، پاکستان سعودی تعلقات، کمیونٹی سروسز اور قونصلیٹ کی ترجیحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد قونصل جنرل کا یہ پہلا انٹرویو تھا۔
سید مصطفی ربانی نے کہا کہ چارج سنبھالنے کے بعد ان کی ترجیح کلیدی خدمات کو بہتر بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر چار بڑے منصوبوں پر کام کیا گیا جن میں سے تین مکمل ہو چکے ہیں جبکہ چوتھا منصوبہ بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے انہوں نے مزید کہا کہ ان اقدامات کا بنیادی مقصد خدمات کے معیار کو بہتر بنانا، نظام کو مزید موثر بنانا اور عوام کو مزید سہولتیں فراہم کرنا ہے۔ الحمدللہ، قونصلیٹ کی نئی عمارت پرانی عمارت کے مقابلے میں ہر لحاظ سے نمایاں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم، ہماری اصل توجہ صرف ایک بہتر عمارت تک محدود نہیں ہے، بلکہ موثر اور جدید نظام قائم کرنا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ عوام نہ صرف عمارت میں تبدیلی محسوس کریں بلکہ خدمات کے معیار میں بھی واضح فرق دیکھیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو گھنٹوں انتظار نہ کرنا پڑے۔ اگر پہلے انہیں پانچ یا چھ گھنٹے انتظار کرنا پڑتا تھا تو ہماری کوشش ہے کہ نئے سسٹمز، بہتر طریقہ کار اور موثر انتظام کے ذریعے اس وقت کو نمایاں طور پر کم کیا جائے اور ہر پوچھنے والے کو تیز، آسان اور باوقار خدمات فراہم کی جائیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جدہ میں اپنی پوسٹنگ کے دوران مجھے سب سے بڑی سعادت روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔
“میں اپنے آپ کو انتہائی خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ یہاں پہنچنے کے پہلے چھ سات ماہ میں مجھے عمرہ کرنے، مدینہ میں رمضان گزارنے، حج کرنے اور خانہ کعبہ کے اندر نوافل ادا کرنے کا موقع ملا، یہ میری زندگی کے وہ روحانی لمحات ہیں جنہیں میں ہمیشہ اللہ رب العزت کا خاص فضل و کرم اور اپنی زندگی کا قیمتی خزانہ سمجھوں گا۔
پاک سعودی عرب تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اچھے اور برادرانہ سفارتی، تاریخی اور مذہبی تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور ہم تجارت، سرمایہ کاری، ثقافت اور عوام سے عوام کے رابطوں کے ذریعے ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030 اور امت مسلمہ کی قیادت کو سراہا۔
انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب میں پاکستانی کمیونٹی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ یہ نہ صرف سعودی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے بلکہ اپنی محنت، ایمانداری اور قانون کی پاسداری کے ذریعے پاکستان کے مثبت امیج کو بھی اجاگر کر رہا ہے۔ سعودی عرب میں پاکستانی قیدیوں یا زیر حراست افراد کی رہائی میں قونصلیٹ نے کیا کردار ادا کیا اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال حج سیزن کے دوران قونصلیٹ کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں 177 پاکستانی قیدیوں کو شاہی معافی کے ذریعے رہا کیا گیا، انہوں نے مزید کہا کہ اب تک 460 پاکستانی قیدیوں کو شاہی معافی کے ذریعے رہا کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی کارکن اور صحافی معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، اور انہیں ذمہ داری کے ساتھ عوام کی خدمت اور مثبت معلومات کی فراہمی جاری رکھنی چاہیے، کیونکہ یہی قومی اتحاد اور کمیونٹی کی ترقی کا بہترین طریقہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا اور قونصلیٹ دونوں ایک دوسرے کے شراکت دار ہیں، لہٰذا درست اور بروقت معلومات فراہم کرنے سے کمیونٹی کا اعتماد بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم صحافیوں کے ساتھ ہمیشہ مثبت، پیشہ ورانہ اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے تمام پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ سعودی قوانین کا احترام کریں، اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دیں اور اپنے کردار اور محنت سے پاکستان کا نام روشن کریں۔ انہوں نے کہا کہ قونصل خانہ ہمیشہ ہر ممکن تعاون کے لیے ان کے ساتھ کھڑا ہے۔
پاک سعودی سفارتی تعلقات میں مزید مضبوطی آئے گی، سید مصطفیٰ ربانی
















