تبوک کا شمار پانچ ہزار سال پرانے شہروں میں ہوتا ہے۔ اس کے اطراف کے پہاڑوں میں 8 سے 10 ہزار سال پرانے آثار ملے ہیں۔ اس کے شمال میں اردن (100) کلومیٹر جنوب میں العلا (250 کلومیٹر) ، مشرق میں مدینہ (700 کلومیٹر) اور مغرب میں سمندر پار مصر واقع ہے۔ مکہ یہاں سے 1100 کلومیٹر کی مسافت پر ہے۔ ہزاروں سال سے مکہ اور مدینہ سے تجارتی قافلے تبوک شہر اور اس کے قریبی ساحلوں سے گزر کر شام اور فلسطین جاتے رہے ہیں۔ اس عرصے کے دوران تبوک کا نام کبھی تبدیل نہیں ہوا۔ قدیم باشندے اس کو پھولوں کی بہتات کی وجہ سے تبوک الورد ( پھولوں کا تبوک) کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔ اس کا کل رقبہ ڈیڑھ لاکھ مربع کلومیٹر ہے جس میں سے 25 ہزار کلومیٹر اب نیوم میں شامل کر دیا گیا ہے۔ سطح سمندر سے بلندی 2000 فٹ ہے۔ تبوک سے 25 کلومیٹر دور تین اطراف میں چھوٹی پہاڑیاں ہیں جبکہ دو جانب 100 کلومیٹر کے فاصلے پر اونچے پہاڑ ہیں جن کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔ ان کی وجہ سے یہاں کا موسم بہتر رہتا ہے اور درجہ حرارت باقی سعودیہ کے مقابلے میں 10 ڈگری کم ہوتا ہے۔ گرمی کے موسم میں شام کو ٹھنڈی خوشگوار ہوا چلتی ہے اور رات کو لوگ پارکوں اور کھلی جگہوں پر وقت گزارتے ہیں۔ سردیوں میں درجہ حرارت منفی ایک تک پہنچ جاتا ہے اور دن میں پارک اور تفریحی مقامات بھر جاتے ہیں۔
تبوک شہر کی آبادی 8 لاکھ سے زائد ہے۔ جبکہ منطقہ کے دوسرے شہروں کی آبادی 4 لاکھ ہے۔ سعودی عرب کے قیام کے وقت 1930 ء میں تبوک شہر کی آبادی 10 ہزار تھی جو جلد ہی 10 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ نیوم کی تعمیر کی وجہ سے تبوک شہر اور قریبی ساحلی شہروں کی آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ساحلی شہروں میں دو سال میں کرائے تین گنا بڑھ چکے ہیں۔ اگر نیوم کی تعمیر اسی رفتار سے جاری رہی تو تبوک اور نیوم کی آبادی اگلے دس پندرہ سالوں میں 5 ملین تک پہنچ سکتی ہے۔ یہاں پر فوج کی سب سے بڑی چھاؤنی اور سب سے بڑی ایئر بیس بھی ہے۔ اس کی فضاؤں میں دن رات جیٹ طیاروں کی گونج سنائی دیتی ہے ۔ یہاں پر فوجیوں کی بڑی تعداد رہتی ہے لیکن 2010ء کے بعد عام آبادی تیزی سے بڑھی ہے اور اس عرصے میں شہر کا رقبہ دو گنا ہو چکا ہے۔
تبوک کے دو مشہور قبائل
جزیرہ عرب کی نسل عدنانی اور قحطانی قبیلوں سے نکلی ہے۔ یہ عربوں کے اصل آباؤ اجدادہیں۔ عرب ممالک کی تاریخ میں 750 قبیلوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ سعودی عرب میں 100 سے زائد قبیلے موجود ہیں۔ ان میں 10 بڑے بدوی قبیلے شامل ہیں۔ جن میں بنو خالد، عنیزی، ہرب ، المرہ، مطير ، قحطانی، عتیمی ، شمری، بلوی اور عطوی شامل ہیں۔ آل سعود کا تعلق عنیزی قبیلے کی ربیعہ شاخ سے ہے۔
بلوی (BALAWI) اور عطوی (ATAWI) تبوک کے قدیم اور مشہور قبیلے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ بدوی قبیلے ہیں جن میں سے ہر ایک کا رہن سہن کا اپنا انداز ہے جو ان کے زمینی خطوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ اب ان میں تعلیم کا فروغ ہو رہا ہے جس سے ان کے رہن سہن میں تبدیلی آ رہی ہے۔ ان کی خواتین میں بھی تعلیم عام ہو رہی ہے۔ لین دین کی تجارت کرنا اور آپس میں لڑنا جھگڑنا ان میں قدر مشترک ہے۔ اگرچہ اب بڑی قبائلی جھڑپیں نہیں ہوتیں لیکن یہاں کے لوگ آپس میں کچھ نہ کچھ لڑتے رہتے ہیں اور رات کو ہسپتالوں میں آن پہنچتے ہیں۔
عطوی قبیلہ تبوک کے قریبی صحراؤں میں رہتا ہے۔ اس کے زیادہ باشندے بھیڑ بکریاں پالتے ہیں اور ان کی تجارت کرتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں جانوروں کو لے کر چھوٹے پہاڑوں میں چلے جاتے ہیں۔ اونٹ کا دودھ اور گوشت بھی بیچتے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں زیادہ آگے نہیں لیکن اب لوگ پڑھ لکھ کر سرکاری دفاتر میں بھی پہنچ گئے ہیں۔ چھوٹی تجارت اور ٹرانسپورٹ کا کام بھی کر لیتے ہیں۔ ان کو کہیں سے کچھ پیسہ ہاتھ آجائے تو فوراً ایک اور شادی کر لیتے ہیں۔
بلوی قبیلہ کے لوگ پہاڑوں میں رہنے والے سخت مزاج اور جنگ جو ہیں۔ اگرچہ ان میں سے کافی لوگ اب تعلیم حاصل کر کے شہروں میں ملازمت کر رہے ہیں۔ ان کی بڑی تعداد العلا الوجہ اور ابورا کا کے علاقوں میں رہتی ہے۔ ان کے کچھ لوگ مدینہ میں جا بسے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایمان لے آئے ۔ ان میں سے عبداللہ بن طارق بلوی (رضی اللہ عنہ ) نے جنگ بدر اور جنگ احد میں حصہ لیا۔ بیعت عقبہ ثانیہ میں جن 70 لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا ان میں سات افراد اس قبیلہ کے بھی شامل تھے۔
تاریخ میں بلوی قبیلے کی مختلف جنگوں میں شرکت کا تذکرہ ملتا ہے۔ حضرت امر ابن عوص (رضی اللہ عنہ) کی قیادت میں مسلمانوں کی فوج میں شامل اس قبیلہ نے مصر کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے کچھ لوگ پہلے مصر اور بعد ازاں سوڈان میں جا بسے۔ اس کے علاوہ انھوں نے 1918ء میں عربوں اور ترکوں کی لڑائی میں ہاشمی سلطنت کا ساتھ دیا جس کے نتیجے میں عثمانی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔ 1932ء میں انہوں نے اُردن اور سعودی عرب کی سرحدی جھڑپوں میں بھی حصہ لیا۔ بالآخر ان کا سعودی حکومت سے امن کا معاہدہ ہو گیا اور اب وہ امن امان سے رہ رہے ہیں۔
پھولوں اور پھلوں کی سالانہ نمائش
یقیناً آپ تاریخ اور جغرافیہ پڑھ کر بور ہو گئے ہونگے تو ہم آپ کو پھولوں کی بستی میں لیے چلتے ہیں جہاں انواع و اقسام کے لذیذ پھل بھی موجود ہیں۔ اگست یا ستمبر میں یہ دیدہ زیب نمایش لگتی ہے۔ اس کا انعقاد سعودی ٹورزم اتھارٹی کے تحت کیا جاتا ہے۔ وسیع و عریض پرنس فہد بن سلطان پارک میں رنگ اور خوشبو کا میلہ لگا ہوتا ہے۔ 200 سے زائد اقسام کے پھول اور پھل یہاں ہوتے ہیں ۔ کھیل کود اور کھانے کے لوازمات موجود ہوتے ہیں۔ بچوں، بڑوں اور خواتین کی دلچسپی کا خوب انتظام کیا جاتا ہے۔ رنگا رنگ پھولوں سے خوبصورت ڈیزائن بنائے جاتے ہیں۔ افتتاحیہ تقریب میں آتش بازی کا مظاہرہ بھی ہوتا ہے۔ نمائش 20 دن تک چلتی ہے اور اس کو دیکھنے کے لیے ہزاروں لوگ آتے ہیں۔ اس کو دیکھ کر لاہور کے ریس کورس پارک میں ہونے والی پھولوں کی نمائش یاد آ جاتی ہے۔
عثمانی ریل اور تبرکات رسول (ﷺ )
یہ ایک نایاب تاریخی منظر ہے اُس عثمانی ریل گاڑی کا، جس کے ذریعے سیدنا رسول اکرم ﷺ کے تبرکات مدینہ منورہ سے استنبول منتقل کیے گئے۔ یہ اقدام اوائل 20 ویں صدی میں خلافت عثمانیہ کے دور میں جنگی خطرات کے پیش نظر کیا گیا تاکہ ان مقدس امانات کو محفوظ رکھا جا سکے۔
آج یہ تمام تبرکات ترکی کی سرکاری تحویل میں استنبول کے مشہور محل توپ کاپی کے عجائب گھر میں واقع غرفۂ خاص (Sacred Relics Chamber میں نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ محفوظ ہیں۔
ان میں عمامہ مبارک، نعل شریف ،رایہ، قدم مبارک کے آثار والا پتھر، بادشاه روم کے نام مکتوب، فتح خیبر کے بعد عطا کیا گیا قالین، تلوار ذوالفقار، دیگر تلواریں، کمانیں، مہرِ نبوی ﷺ، جبۂ مبارک، پانی کے برتن اور موئے مبارک شامل ہیں۔
یہ تبرکات محض تاریخی نوادرات نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے عشق رسولﷺ ، عقیدت اور روحانی وابستگی کی زندہ علامت ہیں۔
تبوک کا حجاز ریلوے میوزیم
اب آپ کو سیر کرواتے ہیں تبوک کے قدیم اور تاریخی علاقے کی جو شارع العام کے بالکل قریب واقع ہے۔ تبوک کا ریلوے میوزیم مدینہ سے یورپ جانے والی حجاز ریلوے کے پرانے اسیٹشن کی جگہ پر بنایا گیا ہے۔ اب اس مقام کے ساتھ ایک پل تعمیر کر دیا گیا ہے جس پر سے میوزیم کی بلند و بالا عمارت کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ عثمانی خلافت میں 1905ء میں یہ ٹرین سروس شروع کی گئی تھی جو دو براعظموں کو ملاتی تھی ۔ چند ہی سال بعد برطانوی جاسوسوں کے اکسانے پر عرب قبائل نے سعودی عرب اور اردن میں اس کی پٹڑی کو تباہ کر دیا۔ اس کے بے شمار اسٹیشن اب بھی کھنڈر کے طور پر سعودی عرب اور اردن میں موجود ہیں۔ شام سے ترکی اور جرمنی تک اب بھی روزانہ ٹرین اسی ٹریک پر چلائی جاتی ہے۔ تبوک کے ریلوے اسٹیشن پر یہ عجائب گھر 2020ء میں تعمیر کیا گیا۔ اس میں سب سے زیادہ دلچسپی کی چیز پرانا ریلوے انجن ہے جو کوئلے سے چلتا تھا۔ لکڑی کی دو بوگیاں ہیں اور پرانے زمانے کے ریلوے کے اوزار رکھے گئے ہیں۔ اسکولوں میں بجایا جانے والا ایک بڑا گھنٹہ ہے جس سے ٹرین کی آمد کا اعلان کیا جاتا تھا۔ آپس کی بات ہے پاکستان میں ایک سو سال پرانے ریلوے کے اوزار اب بھی استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک بڑا ہال موجود ہے جہاں دوسرے ملکوں سے آنے والے سیاحوں کو بٹھایا جاتا ہے۔ ایک کمرے میں آثار قدیمہ کی فلمیں دکھائی جاتی ہیں۔ العلاءآنے والے غیر ملکی یہاں پر بھی آتے ہیں۔
تبوک کی 5000 سال قدیم تاریخ
















